بارش سے پہلے چھت کا انتظام کیوں نہیں؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈا پور نے خیبرپختونخوا میں اگلے چند روز میں مزید بارشوں کے پیش نظر صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ، محکمہ ریلیف اور ریسکیو سمیت تمام اداروں کو ہمہ وقت الرٹ رہنے اور بارشوں سے ممکنہ نقصانات کم سے کم کرنے کیلئے درکار انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کے عملہ کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنائی جائے۔ بارشوں کے تناظر میں پی ڈیم اے کی طرف سے جاری کر دہ ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ، بارشوں کی وجہ سے دریائوں میں سیلابی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے بروقت اقدامات اٹھائے جائیں۔ دریں اثناء پشاور میں تین روزسے جاری بارشوں نے پورے شہر کو ایک بڑے جوہڑ میں تبدیل کردیاہے بڈھنی نالہ میں سیلابی ریلوں سے کئی علاقے زیر آب آگئے اور شہر کی مختلف سڑکوں پر کئی فٹ پانی جمع ہوگیا ہے نشیبی علاقوں کے گلی محلوں میں بھی بارش کا پانی سیلابی ریلے کی شکل میں داخل ہوا ہے جس سے گھروں اور دکانوں میں سامان کو نقصان پہنچا ہے ہماری حکومتیں جس طرح موسمی تغیرات اور شدید ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اقدامات سے عاری ہیں اسی طرح انتظامیہ کا بھید بھی ہر بارانہی دنوں کھلتا ہے نیز عوام کی جانب سے تجاوزات کھڑی کرکے آبادی ڈبونے کی جو حرکات سال بھر جاری رہتی ہیں اس طرح کے مواقع پرقدرتی حالات اور موسمی تباہ کاریاں ان کو سبق سکھا جاتی ہیںمگر افسوسناک بات یہ ہے کہ کسی کو بھی احساس اور اصلاح کی فکر نہیں ہوتی اور وہی بھیڑچال جاری رہتی ہے گویا آبیل مجھے مار کا فیصلہ ہمارااپنا ہے اور ہم اس کے لئے تیار بھی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا توکم از کم اس بارے فکر مندی اور اقدامات کی مصغر سعی ہی نظر آتی ہر بار پیش آنے والے حالات اور حکومتی اداروں کی عدم تیاری کوئی نئی بات نہیں وزیر اعلیٰ اور حکومت وقت بھی ہدایات جاری کرنے پرہی اکتفا کرتی ہیں کوتاہی پرجواب طلبی نہیں کیجاتی اور نہ ہی حکومتی انتظامات اور وسائل کے خرچ کے باوجود عملی طورپر کچھ نہ ہونے کانوٹس لیا جاتا ہے اور اس کے آڈٹ کی زحمت کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ہر بار اس گھن چکر میں پھنس جاتے ہیں امسال بھی ایسا ہی ہے بارشوں کا ایک سلسلہ تو گزر چکا جس میں شہری اداروں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے اداروں کی ناقص کارکردگی سب کے سامنے ہے اب جس بارشوں کی نئی اور شدید لہر کی آمد کی جوپیشگوئی کی گئی ہے اس سے نمٹنے کے لئے ہی ہنگامی اقدامات ہوں تو غنیمت ہوگی۔

مزید پڑھیں:  کوئی اس شہر پشاور سے جدا کیسے ہو؟