کور کمانڈرز کانفرنس کے اہم فیصلے

عسکری قیادت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز پربے بنیاد الزامات کو ایک وتیرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوام اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی ، اور جو عناصر بدنیتی پرمبنی مہم چلا رہے ہیں ان کے خلاف آئین کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی ، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 264ویں کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کور کمانڈرز کو ہدایت کی کہ دہشت گردوں کوکسی بھی جگہ سے فعال نہ ہونا دیا جائے، پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کوپوری قوم کی حمایت حاصل ہے ، انہوں نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان سے دہشت گردی کے خطرے کو مستقل ختم کرنے کے لئے پرعزم ہیں امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت نہ صرف پاکستان کی سلامتی اور اقتصادی مفادات کے خلاف دہشت گرد تنظیمیں عملی طور پر ہمسائے سے سرگرم ہیں اور ہمسایہ ریاستوں سے انہیں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر قسم کی امداد فراہم کی جارہی ہے ، جس میں خاص طور پر سی پیک جیسے منصوبے کے خلاف یہ دہشت گرد پراکسی وار لڑ رہے ہیں تاکہ پاکستان کی ا قتصادی ترقی کی راہ کھوٹی کی جاسکے بلکہ بعض ایسے عناصر جن کا تعلق پاکستان سے ہے ، بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے امیج کو داغدار کرنے میں مصروف ہیں ، ان میں نہ صرف وی لاگرز ، پاکستان سے فرار ہونے والے صحافی ، اینکرز یا فوج سے نکالے گئے اور کچھ ریٹائرڈ فوجی بھی شامل ہیں جواپنے یو ٹیوب چینلز کے ذریعے اداروں کے خلاف غلیظ پروپیگنڈہ کرکے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان پروپیگنڈہ بازوں کے ڈانڈے ملک کی کچھ مخصوص سیاسی جماعتوں یا گروہوں سے جا کر ملتے ہیں ، جس سیان تمام متعلقہ گروہوں اور افراد کی وطن دشمنی عیاں ہوتی ہے ، کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران اسی صورتحال پر بحث کے دوران مسلح افواج کی حوصلہ شکنی کے لئے بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ مہم پر تشویش کا اظہار کرتے زور دے کر کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسر پر بے بنیاد الزامات ایک وتیرہ بن چکا ہے ، ان بے بنیاد الزامات کامقصد عوام اور پاکستان کے مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش ہے اور ہم ان کوششوںکو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اس کے خلاف قانون اور آئین کے خلاف سخت کارروائی کو یقین بنایا جائے گا ، جہاں تک مسلح افواج اور دیگر اداروں کے خلاف مذموم منفی پروپیگنڈے کی روک تھام کاتعلق ہے اس حوالے سے مختلف مواقع پر ایسی خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ جن موبائل اکائونٹس سے یہ غلیظ پروپیگنڈہ مہم چلائی جارہی ہے یا ان پوسٹوں کودیگر اکائونٹس کے ذریعے پھیلا یا جارہا ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کے لئے متعلقہ تمام اکائونٹس کاڈیٹا اکٹھا کر لیاگیا ہے مگر اس کے بعد کیا ہوا ، اس بارے میں کوئی خبرسننے ، دیکھنے یا پڑھنے کو کم کم ہی ملی اور یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتا ، اگر اس قسم کے منفی پروپیگنڈہ کی روک تھام کرنے میں آسانی ہوجاتی اور چند درجن افراد کونشان عبرت بنانے کے بعد مزید کسی کو ایسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی جرأت نہ ہوسکتی ، مگر خدا جانے وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے ان مذموم حرکتوں میں ملوث افراد سے تعرض نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے ؟ اگرچہ یہ بات بالکل درست ہے کہ عوام کی اکثریت اپنی مسلح افواج کے کردار پر فخر کرتی ہے اور غلیظ ، منفی پروپیگنڈہ سے کوئی خاص تاثر قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ، مگر منفی سوچ رکھنے والوں کے وطن مخالف اقدامات کو کب تک برداشت کیا جا سکتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم چند وطن فروشوں کے خلاف بھی آئینی اور قانونی طریقے سے تادیبی کارروائیاں کرکے ان کو بے دست و پا کیا جائے خاص طور پر جواپنے یوٹیوب چینلوں اور ٹویٹس کے ذریعے عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں مصروف ہیں ان کے ٹویٹر ، فیس بک اور یو ٹیوب چینلوں پر پابندی لگوانے کے ساتھ ساتھ ان کے پاسپورٹ منسوخ کرکے ان کو عالمی اداروں کی مدد سے وطن واپس لا کر ان کے خلاف ضروری کارروائی کرکے انہیںنشان عبرت بنانے میں مزید تاخیر نہ کی جائے ۔

مزید پڑھیں:  سمگلنگ کی روک تھام کے وعدوں کا کیا ہوا