بجلی ا وور بلنگ کے خلاف اقدامات

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بجلی کی اوور بلنگ میں ملوث عملے کیخلاف ملک گیر کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی چوروں کیخلاف جاری کریک ڈائون بھی تیز کردیا جائے ، ا وور بلنگ اور بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی اے اپنی بھر پور صلاحیتیں بروئے کار لائے، اوور بلنگ میں ملوث بجلی تقسیم کار کمپنیوں کا عملہ کسی رعایت کا مستحق نہیں ، بجلی چوری روکنے کے لئے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حساس علاقوں میں ایف آئی اے کو سیکورٹی دیں گے ۔ ادھر گوجوانوالہ سے آنے والی ایک خبر نے تہلکہ مچا دیا ہے کہ گوجرانوالہ میں تقسیم کار کمپنی گیپکو کے 20افسران کو اس بناء پر گرفتار کرلیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر بجلی بلوں کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے اپنی جیبوں میں ڈالنے میں ملوث تھے ، دوران انکوائری جوشہادتیں سامنے آئیں ان کے مطابق دس کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقم سامنے آئی ہے ملزمان صارفین کی جانب سے بجلی بلوں کی مد میں جمع کروائی گئی رقم کی خزانے میں جعلی انٹری کرتے اسے اپنی جیبوں میںڈال لیتے تھے ، واقعے کے خلاف گیسپکو نے ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کی بجلی کاٹ دی اور الزام عائد کیا کہ ایف آئی اے ایک کروڑ روپے کی نادہندہ ہے ،جہاں تک اوور بلنگ کا تعلق ہے اس حوالے سے شکایت پورے ملک کے صارفین کی جانب سے عام طور پر کی جاتی ہے اس ضمن میں خاص طور پر ان علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات بطور خاص شامل ہیں جہاں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے حکام کے مطابق کنڈہ کلچر عام ہے ، ایسے علاقوں میں چوری شدہ بجلی کی وصولی کا سارا بوجھ باقاعدگی کیساتھ بل ادا کرنے والوں پر ڈال دیا جاتا ہے جو ا نصاف کے تقاضوں کے بالکل برعکس بات ہے ، مزید یہ کہ سلیب سسٹم رائج ہونے کے بعد میٹر ریڈرز بھی ظلم ڈھاتے ہوئے مقررہ کم قیمت سلیب سے زیادہ ریڈنگ کااندراج کرکے عوام کولوٹنے میں مدد گار ہوتے ہیں ، اس لئے اس ظلم کا خاتمہ بہت ضروری ہے ، جہاں تک گوجرانوالہ کے واقعے کا تعلق ہے اسکی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ بلوں کی ادائیگی کا تو طریقہ کار ہے کہ یا تو صارفین بینکوں میں بل جمع کراتے ہیں یا آن لائن ادائیگی کردیتے ہیں تو پھر جن ”خوردبرد” کا الزام ہے وہ سرکاری رقم کا غبن کیسے کر لیتے ہیں؟یہ ایک سنجیدہ سوال ہے اور اس میں ایف آئی اے کی نادہندگی پر بھی سنجیدہ سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس لئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:  وصال یار فقط آرزوکی بات نہیں