صحت کارڈ سے علاج میں وسعت

موجودہ حکومت نے جس عزم کے ساتھ صحت کارڈ کی سہولت بحال کی ہے اور وزیر صحت نے گزشتہ روز اس ضمن میں جس ذاتی دلچسپی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے امیدیں وابستہ نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں حکومت نے اس ضمن میں عوام کو مزید سہولت دینے کا جوقدم اٹھایا ہے وہ قابل اطمینان امر ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر ضرورت اس بات کی رہ جاتی ہے کہ اس سہولت کا ملی بھگت سے استعمال نہ ہو اور عوام بھی ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ کریں تاکہ اس سہولت پر جورقم خرچ ہو رہی ہے اس میں خیانت نہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سہولت کی توسیع عوام کے لئے بڑے ریلیف کا باعث ہو سکتا ہے جس کے تحت صحت کارڈ کے تحت علاج مہیا کرنے والے ہسپتالوں کو داخل مریضوں کو دوران علاج تمام ادویات ، تشخیصی ٹیسٹ اور ایکسریز وغیرہ کی سہولت کے ساتھ ساتھ گھر پر تجویز کردہ علاج بھی پانچ روز تک فراہم کرنے کی بھی ہدایت کردی گئی ہے اس سلسلے میں صحت کارڈ پر دستیاب سہولیات سے متعلق شکایات کیلئے مخصوص ٹال فری نمبر پر مشتمل بینرز نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیںادویات کی فراہمی اور ٹیسٹ وایکسرے وغیرہ میں کسی بھی دشواری سے متعلق شکایات کیلئے صحت کارڈ کائونٹر پر یا دئیے گئے ٹال فری نمبر پر شہریوں کو سہولت دی جائے گی۔حکومت اس سہولت کی توسیع اور شفاف بنانے کے حوالے سے مسلسل اقدامات اور پیشرفت میں کوشاں ہے جس کے نتیجے میں بدعنوانی کے مکمل خاتمے کی تو توقع نہیں کی جاسکتی اس میں نمایاں کمی بھی آجائے تو غنیمت ہوگی توقع کی جانی چاہئے کہ تسلسل کے ساتھ اقدامات و نگرانی سے صحت کارڈ پر علاج اور ادویات کو ممکنہ طور پر شفاف بنانے میں کامیابی حاصل کی جاسکے گی اور عوام کو اس سے استفادے کے مزید احسن مواقع کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:  ہتک عزت کا تحریری اور غیر تحریری قانون