بجلی چوری ، اقدامات اور تعاون

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے بجلی چوری،بل نہ ادا کرنے والے افراد اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں اووربلنگ اور غلط ریڈنگ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے دوران سکیورٹی کیلئے ایف سی کے اہلکارطلب کردی ہے اور اس سلسلہ میں باقاعدہ خط بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ ایف آئی اے پشاور زون کو سکیورٹی کیلئے فرنٹیر کانسٹیبلری کے2 پلاٹون فراہم کئے جائیں۔موثر کارروائیوں کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اس لئے موجودہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ٹیموں کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔دریں اثناء وفاقی وزیر توانائی اویس خان لغاری نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو خط لکھ کر بجلی چوری روکنے سے متعلق اقدامات پر ملاقات کے لئے وقت مانگ لیا۔ وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ ملاقات میں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے صورتحال میں بہتری لانے پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں بجلی چوری روکنے کے لئے پولیس کی مدد فراہم کی جائے، پولیس کی مدد سے بجلی چوری کے خلاف مہم کامیاب بنائی جاسکتی ہے۔صوبے کی جانب سے جہاں بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کا مطالبہ صائب اور قابل حمایت ہے وہاں بجلی چوری کی روک تھام کے حوالے سے سکیورٹی کی فراہمی کے لئے ایف آئی اے کی درخواست اور وزیر بجلی وتوانائی کی جانب سے اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سے براہ راست ملاقات کی خواہش بھی سنجیدہ قابل عمل اور باعث تعاون امور ہیں جس میں صوبائی حکومت کو لیت و لعل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اصولی طور پر تو بجلی کے نظام سے وابستہ کمپنیوں اور حکام ہی کوصوبائی حکومت سے تحفظ کے حصول کے بعد کارروائی کرنی چاہئے تھی اور وزیر داخلہ کو اس ضمنی میں ہدایات و اقدامات کے لئے پیشرفت کا موقع نہیں دینا چاہئے تھا بہرحال اب جبکہ وفاق اور وفاقی اداروں کی جانب سے اس ضمن میں عملی اقدامات کے لئے تحفظ کی درخواست موصول ہوئی ہے اس ضمن میں اعلیٰ سطحی ملاقات میںمختلف امور پر غور اور متفقہ فیصلے اہمیت کے حامل ہوں گے جس میں کسی بھی فریق کی جانب سے غیر سنجیدگی کا اظہار اور تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

مزید پڑھیں:  گندم سکینڈل ۔۔ نگران حکومت کو کلین چٹ؟