اک نظر ادھربھی

کیپٹل سٹی پولیس کی انتظامیہ فلا ئی اوورز اور پلوں کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ہے سریا نکالنے والے منشیات کے عادی افراد نے اب حفاظتی دیواروں سے سریا نکالنا شروع کر دیا ہے جبکہ فلا ئی اوورز کے علاوہ ہیرئوئن کا نشہ کرنے والے افراد نے شہر کے درجنوں مقامات پر فلائی اوورز کی حفاظتی دیواروں اور سٹیل کی چادروں کوکاٹنا شروع کر دیا ہے پولیس لائنز ٹریفک، لا ئیو سٹاک کے دفاتر ، صوبائی اسمبلی سمیت دیگر صوبائی دفاتر ، سنٹرل جیل پشاور اور میٹرو پولٹن کے دفاتر کے سامنے سے تمام لوہا چوری کر لیا گیا ہے اور اب پل اور انڈر پاسز باقی ہیں ۔حیات آباد میں سرکاری مقامات پرلگے جنگلوں اور مین ہولز کا صفایا کرنے کے بعد اب نجی گھروں کے باہر لگے جنگلے اکھاڑنے کا عمل تیزی سے جاری ہے مگر اس کے باوجود سرعام نشے کے عادی افراد کی ٹولیوںِ کے خلاف کمشنر پشاور کی علاج و بحالی مہم کے باوجود پولیس اور حکام تعرض نہیں کرتے منشیات کی سپلائی اور فروخت میں بھی ان عناصر کا کردار ہے جو شہر میں جگہ جگہ نظر آنے کے باوجود بھی حکام کویا تو نظر نہیں آتے یا پھر صرف نظر کی جاتی ہے ۔ جہاں ایک طرف حکومت شہری مقامات کی تزئیں و آرائش پر بھاری رقم خرچ کر رہی ہے وہاں دوسری جانب یہ عناصر شہر ہی بیچ دیں گے کیا اس کا علاج کسی کے پاس نہیں پولیس کی بے بسی اور بے حسی دونوں نمایاں ہیں۔شہر کی تزئیں کاری میںملوث حکام اور منشیات کے عادی افراد کے علاج و بحالی میں مصروف حکام کو ان مصروفیات کے ساتھ ساتھ اس سنگین مسئلے کی طرف بھی تھوڑی سی توجہ دیں تو موزوں ہوگا۔

مزید پڑھیں:  صوبائی کابینہ کا احتساب