کیا بابے تعینات کرنے سے مسائل حل ہوجائیں گے

پاکستان میں حکومت بنانے والی ہر جماعت یا جماعتیں گزشتہ کے تسلسل کو دوام دینے کی سخت مخالفت کرتی ہیں ۔جس سے ملک میں ترقی کا سفر رک جاتا ہے یا پھر از سر نو شروع کرنا پڑتا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایک اچھی قانون سازی یہ کی تھی کہ کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیے عمر کی آخری حد 65 برس ہوگی ۔ اس عمر سے زیادہ کے کسی بھی شخص کو کسی بھی عہدے پر نہیں رکھا جائے گا۔ مگر اب اخباروں میں خبریں آرہی ہے کہ وفاقی حکومت اس شرط کو ختم کررہی ہے ۔ یہ ملک جہاں پہلے سے بے روزگاری اپنے آخری حدوں کو چھو رہی ہے ۔جہاں نوجوان اعلیٰ ترین تعلیمی ڈگریوں کے ساتھ سڑکوں پر پھر رہے ہیں ۔ وہاں ان عمر رسیدہ افراد کو دوبارہ ملازمتوں کا موقع دینا جنہوں نے پینسٹھ برس کی عمر تک کوئی خاص کارنامہ سرانجام نہیں دیا بلکہ ان کی وجہ سے ملک کی یہ حالت ہوئی ہے ان کو دوبارہ ملازمت پر رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ دنیا کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر تو کسی بھی ساٹھ سال سے زیادہ کے عمر کے شخص کو حکومتی ملازمت میں نہیں رکھنا چاہئیے اس لیے کہ دنیا جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے اس عمر کے لوگ اس کا ادراک بھی نہیں رکھتے اور یہ ٹیکنالوجی کے جدید استعمال پر بھی قدرت نہیں رکھتے ۔ عمر کی حد کوئی بھی حکومت اس لیے ختم نہیں کرتی کہ اس سے حکومت کو قابل ترین اور کارآمد لوگ ملیں گے ۔ بلکہ یہ لوگوں اور حلقوں کی فرمائش ہوتی ہے کہ وہ جنہوں نے سرکاری مراعات اور عیش و آرام سے عمر بھر فائدہ اٹھایا ہے وہ انہیں دوبارہ حاصل ہوجائے اور جو چند برس اس عشرت اور عیاشی کے بغیر گزرے ہیں اس کی کسر نکالی جائے ۔ اس ملک کی تباہی میں بابو شاہی اور ملک پر مسلسل طاقت وقدرت رکھنے والے شامل ہیں ۔ اگر اس ملک کی بیوروکریسی اور مقتدرحلقے اس ملک کے ساتھ مخلص ہوتے تو یہ ملک جنت بن چکا ہوتا ۔ اس ملک میں میرٹ نام کی چیز ختم ہوگئی ہے ۔ یہاں سفارش اور رشوت یا پھر دھونس اور طاقت سے ہی سارے لوگ مستفید ہورہے ہیں ۔ سیاسی حکومتوں کا جائزہ لیں تو آپ کو حکمران کے اردگرد جو افراد نظر آئیں گے وہ کسی بھی طرح اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے مشورہ لیا جائے یا کوئی بھی سنجیدہ نوعیت کا کام ان کے سپرد کیا جائے ۔ عمران خان کی ناکامی اور تباہی کے پیچھے اسی طرح کے لوگ تھے جو ذاتی فائدے اٹھانے کے لیے حکومت کا استعمال کرتے تھے اور جب ان پر سخت وقت آیا تو ان میں کوئی بھی ان کی حمایت میں کہیں بھی نظر نہیں آیا بلکہ بہت سوں نے ان کی کھلے عام مخالفت شروع کردی ۔ اس حکومت میں بھی ایسا ہی نظر آرہا ہے ۔ وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ کہ عمر کی حد ختم کی جائے یقیناً کسی کی فرمائش ہے جسے پورا کرنے کے لیے اس کابینہ کا استعمال کیا جائے گا جس کو اثبات میں سر ہلانے کے علاوہ کوئی ہنر نہیں آتا ۔ پوری دنیا میں عمر کی ایک حد مقرر کی جاتی ہے کہ اس کے بعد انسان کو ریٹائرڈ ہوجانا چاہئیے ۔اس لیے کہ انسان کسی بھی کام کے لیے ناگزیر نہیں ہوتے ان کے ریٹائرڈ ہوجانے یا فوت ہوجانے کے بعد بھی بہت سارے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ان کا کام سنبھال سکتے ہیں اور زیادہ بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں اس لیے کہ نئی نسل کا اجتماعی لاشعور کہیں زیادہ تجربات اور مشاہدات کا احاطہ کرتا ہے اور نئے جدید تقاضوں اور وسائل سے زیادہ فیض یاب ہوتی ہے ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سرکاری ملازمین کی تعداد بہت زیادہ ہے جس کے وجہ سے حکومتی غیر ترقیاتی اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کے لیے قرض لینا پڑتا ہے ۔اس لیے حکومت کو سرکاری ملازمین کی تعداد موجودہ کی نسبت سے تین گنا کم کرلینی چاہیئے اور دنیا کی طرح نوے فیصد کام نجی کمپنیوں کے سپرد کردینے چاہئیں جس سے حکومت کو معقول آمدنی بھی حاصل ہوگی اور حکومت ترقیاتی اخراجات پر توجہ دے سکے گی ۔ ہر سیاسی حکومت کا یہ ہدف ہوتا ہے کہ وہ حکومت میں آکر لوگوں کو روزگار دے گی اور اس سلسلے میں ان کی ناقص عقل میں صرف حکومتی نوکری ہی آتی ہے ۔ جبکہ دنیا میں روزگار دینے کا مطلب ہوتا ہے ،لوگوں کے لیے کاروبار کے مواقع پیدا کرنا ، صنعتوں کو لگانے کے لیے سہولیات کی فراہمی اور ایسی مثبت پالیسی بنانا جس کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہواور سرمایہ کار اپنا سرمایہ کسی کام یا روزگار میں لگا دیں جس سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوں ۔ جبکہ سرکاری ملازمتیں دینے سے الٹا معیشت پر بوجھ بڑھ جاتا ہے ۔ یہاں حکومت انڈسٹری کو پروان چڑھانے کی جگہ سرکاری بابوؤں کو اربوں روپوں کی گاڑیاں اور مراعات دینا شروع کردیتی ہے اور ہر نئی حکومت میں یہ بابو اپنے مراعات میں من چاہے اضافے کرتے چلے جاتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ملکی وسائل پر دباؤ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔ اور حکومت تعلیم ، صحت اور عوامی سہولتوں پر کوئی پیسہ خرچ کرنے کے قابل نہیں رہتی ۔ یہی سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے ۔ اگر عمر کی حد ختم کردی گئی تو سینکڑوں کی تعداد میں اقربا ء اور چاپلوس اس سسٹم میں دوبارہ شامل ہوجائیں گے اور اہل لوگ اس ملک کو چھوڑ کر اپنے بہتر مستقبل کی تلاش میں کسی اور ملک کی طرف نکل جائیں گے۔ جسے برین ڈرین کہا جاتا ہے ۔ اس کا ایک نقصان یہ ہوگا کہ ترقی کے انتظار میں بیٹھے لوگ جب یہ سب دیکھیں گے تو وہ کام کرنا چھوڑ دیں گے ۔یوں یہ ملک مزید معاشی بدحالی کا شکار ہوگا ۔ اس لیے اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور عمر کی حد کو مزید پانچ سال کم کرکے ساٹھ برس تک لایا جائے ۔تاکہ جدید تقاضوں اور ضروریات کے تحت نئے لوگ ملک کا نظام سنبھال سکیں اور ملک کو اس دلدل سے نکالا جاسکے ۔

مزید پڑھیں:  ہتک عزت کا تحریری اور غیر تحریری قانون