اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہو شیار

اس میراثن کا لطیفہ نما واقعہ یاد آرہا ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ہندوستان سے لام بندی کے دوران میراثی کے بیٹے کو جنگ کے لئے بھرتی کرانے پر سپاہیوں کی جانب سے رابطہ کیا تو میرا ثن نے کیا خوبصورت جملہ کہا تھا کہ ”پتر’جے گہل ہن ایتھے پہنچ گئی اے کہ میرا ثیاںدے پت وی لڑائی وسطے بھرتی کیتے جان گے، تا ملکہ نوں کہہ دیوکہاو جرمناں نال صلح کرے۔ یعنی جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ میراثیوں کے بچے بھی جنگ کیلئے بھرتی کئے جارہے ہیں تو پھر ملکہ برطانیہ سے کہو کہ وہ جرمنی کے ساتھ صلح کرلے ۔ اب اس لطیفہ نما واقعے کی یاد کیوں آئی ہے ؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب معاملہ پارلیمنٹ کے اندر تک جاپہنچا ہے اور جوتی چور پار لیمنٹ کی مسجد میں بھی واردات کر بیٹھے ہیں۔ یعنی پندرہ سولہ نمازیوں کے جوتے ایک ایسی مسجد سے چوری کر لئے گئے جو حساس ترین علاقہ اور سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاںچپے چپے پہ سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب ہیں مگر اتنی سکیورٹی کے باوجود بھی چور واردات کرنے میں کا میاب ہو گئے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ان سی سی ٹی وی کیمروں کی رینج میں جو جو مقامات آتے ہیں۔ چوروں نے پہلے وہاں کی تصویریں کھینچیں اور پھر ہالی وڈ کی ایک فلم کے ایک منظر کے عین مطابق جس میں ٹام کروز اسی قسم کی ایک حساس عمارت کی دیوار پر چڑھ کر وہاں نصب کیمرے کے لینز کے سامنے اس علاقے کی تصویر چسپاں کر دیتاہے اور پھر آسانی کے ساتھ دوسری جانب اتر کر واردات کر بیٹھتا ہے ، اس دوران متعلقہ سی سی ٹی وی کیمرے کی نگرانی کرنے والا سکیورٹی اہلکار بھی اس واردات سے بے خبر رہتا ہے۔ تاہم اس قسم کی پھرتیاں کسی فلم میں تو ممکن ہوسکتی ہیں مگر کسی مسجد اور وہ بھی پارلیمنٹ جیسے حساس علاقے میں بظاہر تو ممکن دکھائی نہیں دیتیں ،اس لئے اب یہ سوچنا پڑے گا کہ ”جوتی چوروں”نے کس طرح کمال مہارت سے یہ واردات کر ڈالی جہاںقیامت کی نظر رکھنے والے ہر لمحے تاڑتے رہتے ہیں ، یعنی نگرانی کے عمل میں مصروف لوگ بھی دوسری جنگ عظیم کے دوران انگریز فوج کی جرمنی کے ہاتھوں مختلف محاذوں پر پے درپے شکست سے اس قدر عاجز آگئے کہ مقابلے کیلئے ہندوستان کے میراثیوں کے بچوں کو بھی بھرتی کرنے پر مجبور ہو گئے تھے ، اس لئے میراثن کے ملکہ برطانیہ کو مفید مشورے کی طرز پر پارلیمنٹ ہائوس کی سکیورٹی حکام کو بھی کیوں نہ یہ مشورہ بالکل مفت دیاجائے گا کہ اگر معاملہ اس حد تک جا پہنچا ہے کہ اب جوتی چور اس قدر سکیورٹی کی حصار کو توڑتے ہوئے نگرانوں اور نگرانی پر مامور کیمروں کی آنکھ میں ”دھول” جھونکنے تک میں کامیاب ہوگئے ہیں تو پھر بہتر ہے کہ محولہ مسجد میں نماز کیلئے آنے والوں کے جوتے خود ہی اٹھا کر یا تو جوتی چوروں کے آگے رکھ دیں ، پا پھر لکھنؤ کے اس شخص کی تقلید کرتے ہوئے ان جوتوں کو بازار میں بیچ کر شہر بھر کے شعراء کرام کو مشاعرے میں شرکت کی دعوت دی، فرشی نشست تھی ، شعرائے کرام کمرے کے دروازے پر جوتے اتار کر اندر جاتے رہے جب مشاعرہ شروع ہوا تو مالک مکان نے کمرے سے باہر آکر تمام جوتے اپنے ملازم کو دے کر بازار میں کباڑیئے کے ہاں فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم سے ” مہمانوں” کیلئے کھانے پینے کا بندوبست کرنے کا حکم دیا مشاعرے کے اختتام پردعوت شروع ہوئی توشعراء اتنا اچھا انتظام اور اہتمام کرنے پر دعوت دینے والے کی تعریف وتوصیف کرتے ہوئے شکریہ ادا کرتے رہے جبکہ وارداتیا ہر تعریفی جملے پر یہی کہتا ، کھایئے حضور ، یہ سب آپ کی جوتیوں کے طفیل ہے ”اور اس جملے کی حقیقت شعراء کرام پرتب کھلی جب وہ واپسی کیلئے کمر سے باہر آئے مگر وہاں جوتے موجود ہی نہیں تھے ۔مولانا الطاف حسین حالی نے ایک بار جوکہا تھا کہ
اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
ممکن ہے مولانا حالی کی نظر میں اسی ”جوتی گم گشتہ” مشاعرے کی واردات ہی رہی ہو اور انہوں نے شاعرانہ چابکدستی سے اسے ”مسجد” سے جوڑ لیا ہو ویسے برصغیر یعنی ہندوستان اور پاکستان کی مسجدوں میں جوتوں کی چوری کے حوالے سے ایک انفرادیت کے حامل ممالک میں شامل ہیں باقی دنیا کے کسی بھی ملک میں مسجدوں کے احاطوں سے ہم نے جوتے چوری ہونے کی کوئی خبر آج تک نہیں دیکھی یا پڑھی ، ہمیں اس حوالے سے ایک اور اسلامی ملک قطر کی ایک جامع میں نماز جمعہ پڑھنے کا موقع ملا ، وہاں لوگ دروازے پر ہی جوتوں کے ڈھیرلگاتے نماز پڑھنے اندر جاتے دیکھے جبکہ واپسی پر کسی نے بھی جوتے چوری ہونے کی شکایت نہیں کی جبکہ جولوگ تبلیغ کے کام سے وابستہ ہیں ان سے ایک واقعے کے بارے میں پھر سینہ بہ سینہ آگے بڑھنے یعنی سوشل میڈیا کے مطابق ”وائرل” ہوتے ضرور سنا ہے کہ ایک تبلیغی جماعت کسی افریقی ملک کے دورے پر پہنچی اور نماز پڑھنے کیلئے ایک مسجد کے اندر جاتے ہوئے اپنے جوتے ساتھ لیتی گئی تو ایک مقامی شخص نے جوتے مسجد کے اندر لے جانے سے منع کیا تبلیغی جماعت کے ایک رکن نے اپنے خدشے سے اظہار کیا کہ کہیں دروازے پرجوتے چھوڑنے سے چوری نہ ہوجائیں ، مقامی شخص نے حیرت زدہ ہوکر کہا ، پھر آپ یہاں تبلیغ کیلئے کیوں آئے ہیں آپ کوپہلے اپنے ملک میں جوتے چوروں کی ا صلاح کیلئے ادھر ہی تبلیغ کرنی چاہئے ۔ برصغیر کے ایک ممتاز ”عوامی”شاعر نظیر اکبر آبادی نے لگ بھگ ڈیڑھ پونے دو صدیاں پہلے اس صورتحال پر کہا تھا
مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن و نمازیاں
اور آدمی ہی ان کے چراتے ہیں جوتیاں
جو ان کو تاڑتا ہے سوہے وہ بھی آدمی
تاہم پارلیمنٹ ہائوس کی مسجد کو تاڑنے میں نہ تو سکیورٹی اہلکار کامیاب ہوسکے ، نہ ہی سکیورٹی کیمرے ، اس لئے اب اس مسجد کو ”جوتی چوروں” ہی کے حوالے سے کردینا چاہئے تاکہ نہ رہے بانس ، نہ بجے بانسری یعنی جو پارلیمنٹ اپنی مسجد کی حفاظت نہیں کر سکتی ، وہ اپنے عوام کے حقوق کی کیا حفاظت کر سکے گی کہ چور تو بقول راحت اندوری
یہ قینچیاں ہمیں اڑنے سے خاک روکیں گی
کہ ہم پروں سے نہیں ، حوصلوں سے اڑتے ہیں

مزید پڑھیں:  عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے