عسکریت پسندوں سے مذاکرات؟

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے خطہ میں امن کیلئے عسکریت پسندوں کیساتھ مذاکرات کی حمایت اور مذاکرات سے قبل اس لئے لائحہ عمل مرتب کرناکہ نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ قابل غور مشورہ ضرور ہے لیکن قابل عمل ہونا ضروری نہیںوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ علاقے میں امن کے قیام کیلئے نیشنل سکیورٹی کی سطح پر بیٹھ کر لائحہ عمل مرتب کیاجائے جس کے بعد اس پر بحث کی جائے اور اس کے بعد مذاکرات ہونے چاہئے تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے ۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سابق دور میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور چلے تھے پاکستان سے کئی وفود نے افغانستان جا کر مذاکرات کئے تھے تاہم ان کا حل نہیں نکالا جا سکا تھا وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مذاکرات کی پالیسی ترک کرتے ہوئے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد سابق حکومت پر دہشتگردوں کی آبادکاری کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا اب ایک بار پھر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے امن کیلئے مذاکرات کی حمایت کردی ہے ۔یہ ایک ایسا نازک اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس پر بیان دینے کی بجائے درون خانہ مشاورت اور لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے وزیر اعلیٰ نے یہ بیان اسوقت دیا ہے جب ان کے آبائی علاقے میں مسلسل دوبار سرکاری اہلکاروں کونشانہ بنایا گیا اور اب کسٹم اہلکار وں نے رات کو فرائض کی انجام دہی معطل کردی ہے جس کے اثرات کو سمجھنامشکل نہیں جہاں تک مذاکراتی عمل کا تعلق ہے مشکل امر یہ ہے کہ اس کے لئے بہترین کوششیں ہو چکیں علمائے کرام کے وفود گئے اور علاوہ ازیں بھی ایک دینی سیاسی جماعت کی مقتدر شخصیت نے بھی حال ہی میں سعی کی مگر نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی ٹی ٹی پی اور منقسم گروپیں دہشت گردی کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں ایسے میں اگر بعض سے مفاہمت ہو بھی جائے تو خود ان کی صفوں سے اٹھ کر دوسرے گروپ میں شامل ہوکردہشت گردی میں ملوث ہونے کا راستہ پھر بھی کھلا رہتا ہے مفاہمت کے نام پر واپس آنے والے عناصرجس طرح امن وامان کے لئے خطرہ بن گئے اور ان کی سرکوبی میں جن مشکلات کا سامنا ہوا اس تجربے کی روشنی میں مذاکرات اور مفاہمت کی نہ تو امید کی جاسکتی ہے اور نہ ہی محولہ عناصر پر اعتبار ہوسکتا ہے بہرحال یہ ایک نازک قومی مسئلہ ہے جس پر وسیع تر مشاورت کے بعد متفقہ اور ٹھوس پالیسی کی تشکیل یاموجودہ پالیسی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے البتہ جو بھی صورت ہوٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر ہونی چاہئے اور اس پر عملدرآمد میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دی جائے تاکہ اس مشکل کا مستقل حل نکل آئے۔

مزید پڑھیں:  فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں اضافہ