سیشن جج کا اغوائ’قابل تشویش !

جنوبی وزیرستان میں تعینات سیشن جج شاکر اللہ مروت کے گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے بھگوال سے اغواء کے واقعے کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے مسلح اغواء کاروں کے ڈرائیور کو چھوڑ کر سیشن جج کی گاڑی کو نذر آتش کرنے کے اقدام کے اصل مقاصد کیا ہیں، ابھی اس حوالے سے صورتحال واضح نہیںہو سکی تاہم اسے جہاں اغواء کاروں کی جانب سے حکومتی اداروں کو دباؤ میں لا کر کسی خاص مطالبے کی تکمیل سے عبارت کیا جا سکتا ہے ،وہاں اسے چند لوگوں کی ذاتی کارروائی قرار دے کر محولہ سیشن جج کے کسی عدالتی فیصلے کیخلاف رد عمل بھی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم صورتحال ممکن ہے ایک آدھ روز میں واضح ہو سکے، جب اس سلسلے میں اغواء کاروں کی جانب سے کوئی ممکنہ مؤقف سامنے ا جائے ،کچھ بھی ہو یہ ایک قابل مذمت فعل ہے جس کی کسی بھی صورت میں حمایت نہیں کی جا سکتی، جنوبی وزیرستان ان قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے جہاں ماضی میں دوسرے قبائلی علاقوں کی طرح اغواء برائے تاوان کی وارداتیں عام ہوا کرتی تھیں اور اغواء کاروں کیساتھ معاملات طے کرنے کیلئے پولٹیکل انتظامیہ مذاکرات کر کے تاوان کی ادائیگی کے بعد اغواء کنندگان کی رہائی کو ممکن بنالیا کرتی تھی، تاہم قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے بعد نہ صرف کورٹ، کچہری کے قیام پر توجہ دی گئی بلکہ تھانوں اور پولیس کی رسائی بھی ان علاقوں تک وسیع کرنے کا اہتمام کیا گیا، اس سے پہلے ان علاقوں میں تنازعات کے فیصلے جرگہ سسٹم کے ذریعے کئے جاتے تھے مگر اب عدالتوں کی ان علاقوں تک توسیع سے عدالت کا کردار بڑھ گیا ہے، اس لئے ممکن ہے کہ اس اغواء کے پیچھے کوئی خاص مقاصد کار فرما ہوں، بہرحال وزیراعلیٰ کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لیکر آئی جی پولیس کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایات بروقت ہیں اور امید ہے کہ متعلقہ حکام تمام تر صلاحیوں تو استعمال کرتے ہوئے مغوی سیشن جج کو بہ حفاظت برآمد کرنے میں کامیاب ہوں گے، اس حوالے سے علاقہ کے ملکان جو اب بھی اپنا اثر رسوخ رکھتے ہیں کہ ذریعے نہ صرف اغواء کاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ مغوی کو کسی قسم کا گزند پہنچنے نہیں دیں گے اور معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں:  چار مارشل لاؤں اور شخصی انانیت کے نتائج