صوبائی حکومت کے بننے والے سفید ہاتھی

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے پاس مالی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیںاور مالی وسائل پیدا کرنے کے اقدامات میں بھی کوئی پیش رفت نظر نہیںآرہی۔ وفاق سے ملنے والے گرانٹس اور بجلی کی مد میں ملنی والی کچھ رقم پر ہی ہر برس صوبائی حکومت تکیہ کرکے اپنا بجٹ بناتی ہے ۔ صوبہ میں انڈسٹری کے نہ ہونے سے بیروزگاری بھی دوسرے صوبوں کی نسبت کافی زیادہ ہے ۔ ایسے میں صوبائی حکومت کی کچھ شاہ خرچیاں اس کی مالی حالت کو مزید کمزور کررہی ہیں ۔ صحت کار ڈ ایک بہت ہی اچھا اور قابل تحسین کام ہے اور عوامی مفاد کا کام ہے ۔ مگر جس ترتیب سے صوبائی حکومت اس کو چلانے کی کوشش کررہی ہے اس ترتیب سے اسے مستقبل قریب میں چلانا ممکن نہیں رہے گا ۔ اس لیے کہ اس مد میں اٹھنے والے اخراجات ہر برس کے ساتھ پچاس فیصد زیادہ ہوتے جائیں گے ۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو محکمہ صحت کے زیر انتظام ہسپتالوں کے اخراجات بھی اٹھانے ہوں گے ۔ یوں صوبائی حکومت اپنے دستیاب وسائل میں ان کے اخراجات پورا کرنے میں ناکام ہوجائے گی ۔ صحت کارڈ پر مریضوں کو سہولت تو حاصل ہے مگر اس مد میں خرچ ہونے والی رقم بہت زیادہ ہے ۔ اگر یہی رقم ہسپتالوں پر حقیقی معنوں میں خرچ کی جائے تو مریضوں کو مکمل سہولت بھی ملے گی اور حکومتی اداروں کی صلاحیت اور تعداد میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوگا ۔اور بے روزگار ڈاکٹروں اور معاون طبی عملے کو لاکھوں کی تعداد میں روزگار کے مواقع ہاتھ آئیں گے ۔ صحت پر دیے جانے والی رقم سے مریضوں کو وقتی فائدہ ہوگا مگر جو حکومتی ڈھانچہ ہے صحت کے محکمے اور ہسپتالوں کا وہ بگڑتا چلا جائے گا ۔ ایک وقت ایسا آئے گا جب حکومت کے پاس صحت کارڈ کوجاری رکھنے کے لیے وسائل نہیں ہوں گے اور تب سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی ایسی نہیں ہوگی کہ وہ صوبہ کے مریضوں کا بوجھ اٹھا سکیں تو ہمارے پاس پھر اس کا حل نہیں ہوگا۔ پوری دنیا میں صحت کارڈ تمام آبادی کو دینے کی صلاحیت و سہولت موجود نہیں ہے ۔ البتہ فلاحی حکومتیں جن کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے ان کو سرکاری ہسپتالوں میں مفت سہولت مہیا کرتی ہے ۔ یہ صحت کارڈ ایک دو برس میں ایک ایسا سفید ہاتھی بنے گا جس کا بوجھ حکومت نہیں اٹھا پائے گی ۔ صحت کارڈ کے ساتھ ایک اور سفید ہاتھی صوبائی حکومت کا پشاور میں منصوبہ بی آرٹی ہے ۔ یہ بس سروس جو پشاور میں شروع کی گئی ہے اس سے پشاور کے شہریوں کو بہت زیادہ سہولت مل گئی ہے اور اس سے عام آدمی کو ایک بہترین سفری سہولت دستیاب ہوگئی ہے ۔ مگر جس بے دردی کے ساتھ اس منصوبہ میں کرپشن کی گئی اور مسلسل کی جارہی ہے وہ ناقابل بیان ہے ۔ صوبائی حکومت ہر برس اربوں روپے اس کمپنی کا خسارہ ختم کرنے کے لیے دے گی ۔آج اگر یہ رقم چھے ارب روپے ہے تو اگلے برس یہ رقم دس ارب سے تجاوز کرجائے گی اور اس سے اگلے بر س یہ خسارہ مزید بڑھے گا۔ اور اس منصوبہ کے لیے جو قرضہ لیا گیا تھا اس کی ادائیگی اور سود کی رقم دینے کا معاملہ بھی شروع ہوچکا ہے ۔ یوں صوبائی حکومت کو ہر برس اربوں روپے اس کے لیے بنائی گئی کمپنی کو دینے ہوں گے ۔ دو ایک برس بعد اس کی بسوں کی شل لائف ختم ہوجائے گی اور کمپنی ان بسوں کو معاہدے کی رو سے چند سو روپوں میں خرید لے گی اور مزید بسوں کے لیے پھر اربوں روپے مانگے گی۔ یوں یہ سفید ہاتھی بھی صوبائی حکومت سے نہیں سنبھالا جائے گا۔ صوبہ کا ایک اور سفید ہاتھی آفسر شاہی بھی ہے ۔صوبہ کا انتظام چلانے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں ملازمین ہیں ۔جو ہر ملک اور ہر صوبہ میں ہوتے ہیں ۔ مگر صوبائی حکومت نے گزشتہ دس بارہ برسوں میں آفسر شاہی پر ایسے عنایات کا سلسلہ شروع کیا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ ہر گریڈسولہ اور سترہ سے لیکر گریڈ بائیس کے آفسر کو گاڑی ، ڈرائیور ، مرمت و دیکھ بھال کے لیے پیسے اور پیٹرول ، ڈیزل ، موبل آئل کی مد میں اربوں روپے ۔ پھر بنیادی تنخواہ کے علاوہ تنخواہ سے زیادہ الاونسز اور دیگر مراعات ایسی ہیں جس کی پوری دنیا میں نظیر نہیں ملتی ۔ اس مد میں اٹھنے والے اخراجات بھی اتنے زیادہ ہیں کہ مستقبل قریب میں موجودہ وسائل میںاس کے لیے انتظام کرنا حکومت کی بس میں نہیں ہوگا ۔ پنشن کا مسئلہ بھی ایسا ہے کہ وہ بھی مستقبل قریب میں ناقابل اصلاح ہوجائے گا۔صوبائی حکومت کو اس وجہ سے ما لی مشکلات مستقبل میں زیادہ پیش آئیں گی ۔اس لیے حکومت کو بروقت سخت اقدامات کرنے ہوں گے اور ان سفید ہاتھیوں کا انتظام کرنا ہوگا۔ اور ان اداروں کو دنیا کی طرح چلاناکا انتظام کرنا ہوگا ۔ حکومتی اخراجات میں پچاس فیصد تک کمی لانا ہوگی اور وہ کام جس سے کثیر سرمائے کا زیاں ہورہا ہے ان کے آگے بند باندھنے ہوں گے ۔جنگلات کی بے دریغ کٹائی روکنا ہوگی ۔ اور معدنیات پر مکمل سرکاری کنٹرول حاصل کرنا ہوگا ۔ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا ہوگا۔ اور اپنے لیے آمدنی کے نئے اور موثر ذرائع ڈھونڈنے ہوں گے۔ امن و امان کو ہر صورت میں برقرار رکھنا پڑے گا اور سیاحت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا ۔ صوبائی خود مختاری کا حقیقی استعمال کرکے بجلی کی پیداوار اور اس کی ترسیل کا صوبائی انتظام کرنا ہوگا ۔ سب سے بڑی بات کہ روزگار کا انتظام کرنا ہوگا ۔ مگر سرکاری نوکریوں کی شکل میں نہیں بلکہ صنعتوں اور دیگر پیداوری شعبوں میں جس سے حکومت کو بھی مالی فائدہ ہوگا ۔ اس چھوٹے صوبہ کو یہ سفید ہاتھی اگلے چند برسوں میں نگل جائیں گے ۔

مزید پڑھیں:  اسلامی دنیا کا پہلا ایٹم بم