ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو ، سپریم کورٹ کے تازہ حکم نے ہمیں اس دور میں پہنچا دیا ہے جب برصغیر کو آزادی دیتے ہوئے انگریز حکمرانوں نے بوریا بستر گول کرتے ہوئے واپس انگلستان کی راہ لی تھی ، اور آزادی کو ہمارے ہاں کچھ لوگوں نے اپنی تفہیم کے مطابق معنی پہناتے ہوئے اس سے حظ اٹھانا یوں شروع کر دیا تھا کہ اس دورکا ایک لطیفہ بہت مشہور ہوا تھا ، ہوا یوں کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں چھڑی لئے اسے گول گول گھماتے ہوئے فٹ پاتھ پر جارہا تھا ، اس طرح ”آزادانہ” چھڑی گھمانے سے سامنے سے آنے والے شخص کی ناک سے یہ چھڑی جا لگی اور اس نے تلماتے ہوئے چھڑی گھمانے والے شخص کو ٹوکا کہ ذرا دھیان سے چلا کرو ، چھڑی برادر نے کہا ، اب ہم آزاد ہو گئے ہیں اور میری مرضی کہ جس طرح بھی چلوں پھروں ، متاثرہ شخص نے اپنی ناک سہلاتے ہوئے کہا ، جناب آپ کی آزادی کی حدود وہاں ختم ہو جاتی ہیں جہاں سے میری ناک کی سرحدات شروع ہوتی ہیں اور آپ کی یہ حرکت میری ناک کی حدود میں تجاوزات سے تعبیر کی جائیں گی جس کی میں قطعاً اجازت نہیں دے سکتا ، اس لطیفے کو ایک طرف رکھ کر دیں تو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ملک بھر میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات ختم کرنے کے حوالے سے ایک تحریری حکم میں قرار دیا ہے کہ بدقسمتی سے سڑکوں پر قبضے کی وجہ تجاوزات ہیں ، قبضہ کرنے والا سمجھتا ہے کہ اپنی پراپرٹی کے سامنے قبضہ کرنا اس کا حق ہے لوگوں نے فٹ پاتھوں پر جنریٹر تک لگا دیئے ہیں عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو حکم دیا کہ وہ تین دن کے اندر اندر سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات ختم کریں عدالت نے قرار دیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بھی تجاوزات قائم کر رکھی ہیں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت روکنے کا کسی کو اختیار نہیں ، سپریم کورٹ نے حکمنامے کی کاپی اٹارنی جنرل ، تمام ایڈووکیٹ جنرلز اور تمام سرکاری اداروں کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے پیمرا کو اس ضمن میں پبلک سروس میسج شائع اور نشر کرنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے حکمنامے کو عوامی نکتہ نظر سے پرکھا جائے تو پیغام ملتا ہے کہ بقول شاعر
ہاتھ رکھ کر میرے سینے پہ وہ فرمانے لگے
درد کیوں ہوتا ہے؟ کب ہوتا ہے؟ اب ہوتا ہے ؟
سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ آزادی کی ”نیلم پری” تو اس ”چھڑی گھمانے والے ” کے ”عقد” میں دی جا چکی ہے اور جن کی ”ناک”کی سرحدات کو پامال کیا گیا تھا وہ آج بھی اپنی ناک پر ہاتھ رکھے اپنے زخم سہلا رہے ہیں اور وہ ہیں عوام جنہیں عرف عام میں ”کالانعام” یعنی جانوروں سے تشبیہ دی جاتی ہے ، آپ کسی بھی بڑے چھوٹے شہروں کے بازاروں میں گھوم جایئے عوام کے حقوق کو مسلنے والے چند لوگوں کے ہاتھوں فٹ پاتھوں بلکہ آدھی آدھی سڑکوں کو ”یرغمال” بنتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں او رجن لوگوں نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو قبضہ کرکے عوام کے حقوق پامال کرنے کا ”دھندہ” شروع کر رکھا ہے یہ ایک مافیا کا روپ اختیار کر چکے ہیں ، اس ”مافیا” میں صرف دکاندار ہی شامل نہیں ہیںتہہ بازاری بھی اس کا باقاعدہ حصہ ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں ، ملک کے مختلف شہروں کو چھوڑ کرہم صرف اپنے شہر پشاور کے بڑے بازاروں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ بڑی مارکیٹوں ، بازاروں یہاں تک کہ نسبتاً چھوٹے بازاروں کے اندر بھی یہ مافیا سرگرم ہے ، چلیں ہاتھی کے ہاتھوں میں سب کا پائوں ، صدر روڈ ، خیبر بازار ہی میں ذرا گھوم لیتے ہیں جہاں بڑی دکانوں کے سامنے فٹ پاتھ پر تہہ بازاری قبضہ جما کر بیٹھے ہوئے ہیں ، جن دکانوں کے سامنے یہ ”ٹھیئے” موجود ہیں ان سے نہ صرف دکاندار روزانہ یا ماہانہ معاوشہ لیتے ہیں گویا دکان کے سامنے فٹ پاتھ کو متعلقہ دکاندار اپنی ملکیت سمجھتے ہوئے اسے کرایہ پر چڑھا رہے ہیں تاہم مسئلہ یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتا بلکہ بازار میں ”ڈیوٹی دینے والے ” بھی اپنا حصہ وصول کرکے آنکھیںبند رکھتے ہیں اسی طرح دکانوں کے آگے فٹ پاتھ سے ملحقہ سڑک کنارے کیری ڈبوں ،موٹرسائیکل لوڈروں اور ٹیکسی گاڑیوں والے بھی دکانداروں کی سرپرستی میں دونوں جانب کی آدھی آدھی سڑک پر قبضہ جمائے ہوتے ہیں جو ان دکانوں میں فروخت ہونے والے سامان کو خریداروں کے گھروں تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ سامان ڈھونے والی یہ ٹرانسپورٹ سارا سارا دن ان بازاروں میں دکانوں کے ساتھ قبضہ جمائے کھڑی رہتی ہیں ، اور جب یہ آدھ پونے گھنٹے کیلئے وہاں موجود نہیں رہتیں یعنی گاہکوں کے بتائے ہوئے پتے پر سامان پہنچانے کیلئے جاتی ہیں تب بھی متعلقہ دکاندار کے کارندے خالی کاٹن وہاں لا کر رکھ دیتے ہیں تاکہ کوئی شریف آدمی اپنی گاڑی وہاں پارک نہ کرسکے اور شہری بے چارے جو اپنی گاڑی وہاں خالی جگہ دیکھ کر کچھ دیر کیلئے پارک کرنا چاہے تو اسے اس کی اجازت نہیں دی جاتی یہ تو اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ نے اس صورتحال کانوٹس لے کر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو صورتحال کو کنٹرول کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں حالانکہ وہ جن کی ”ناک” پر گھومنے والی چھڑی سے ضرب لگی ہے بلکہ گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ان کی ناک مسلسل چھڑی کے ضربات سے مجروح ہو رہی ہے وہ تو یہ سوال اٹھاتے اٹھاتے بھی اب عاجز آچکے ہیں ، گویا بقول افتخار عارف
ایک ہم ہی تو نہیں ہیں اٹھاتے ہیں سوال
جتنے ہیں خاک بسر شہر کے ، سب پوچھتے ہیں
ان کے علاوہ ایک اور مافیا بھی شہر کے مختلف علاقوں میں سرگرم ہے اور عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے یہاں بھی ”ملی بھگت” سے سب کچھ ہوتا ہے اور وہ ہے اہم جگہوں پر پارکنگ کے نام پر فیس وصول کرنے والا مخصوص طبقہ یہ بھی بلدیاتی اداروں سے ٹھیکہ لے کر مقررہ جگہوں سے آگے پیچھے ، دائیں بائیں جہاں تک ان کا بس چلے گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں وغیرہ سے من مانی فیس وصول کرنے میں ہر طرح سے آزاد بلکہ محاورتا؟ ”مادرپدر آزاد” ہے جو متعلقہ اداروں کے اندر ہی بھی”حصہ” باقاعدگی سے مبینہ طور پر پہنچاتا ہے اور اسی وجہ سے اگر کوئی مقررہ فیس سے زیادہ وصول کرنے پر زبان کھولتا ہے تو متعلقہ ٹھیکیدار کے کارندے معترض سے الجھ کر اس کی بے عزتی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے جبکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پارکنگ والے گاڑیوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے اور صرف پارکنگ کی فیس وصول کرتے ہیں جس کی وضاحت فیس وصول کی جانے والی رسید پر کی گئی ہوتی ہے تو پھر یہ لوگ فیس اور وہ بھی مقررہ ریٹ سے زیادہ کس قانون کے تحت لیتے ہیں؟ بہرحال ا ب دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ان احکامات پر عمل کیا جاتا ہے یا پھر چار دن کی چاندنی ، پھر اندھیری رات ہے کے مصداق چند روز بعد ان احکامات کی دھجیاں” سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر” بکھری ہوئی نظر آئیں گی اور ان دھجیوں کی وجہ سے فٹ پاتھ پر پھر قبضہ مافیا نظر آئے گااگرچہ تازہ ترین یہ ہے کہ مردان میں تجاوزات کے خلاف آپریشن میں تصادم ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ڈاکٹر راحت اندوری کاایک شعرملاحظہ فرمایئے
امیر شہر کے کچھ کاروبار یاد آئے
میں رات سوچ رہا تھا ، حرام کیا کیا ہے؟

مزید پڑھیں:  گری ہوئی سیاست