روزمرہ معمولات میں تنہائی کے چند لمحات ذہنی صحت کیلئے ضروری

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں یا دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں کیونکہ یہ مجموعی صحت کیلئے اچھا ہوتا ہے تاہم حالیہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ ذہنی صحت اور سماجی زندگی کیلئے تنہائی کے کچھ اوقات بھی بہت ضروری ہیں۔
ہانگ کانگ میں جاڈیس بلورٹن فیملی ڈویلپمنٹ سینٹر میں تھراپی کے ڈائریکٹر اور ماہر نفسیات، کین فنگ نے اپنے حالیہ مطالعے میں تنہائی سے وابستہ غلط فہمیوں کو دور کیا ہے اور لوگوں کو اپنے طور پر کچھ تنہائی میں وقت گزارنے کی ترغیب دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکیلے وقت گزارنے اور تنہا محسوس کرنے میں فرق ہے۔ اکیلے وقت گزارنا ایک آپشن ہے جبکہ تنہائی ایک ایسی حالت ہے جس میں تعلق منقطع ہونے کے احساس ہوتا ہے۔ یہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب آپ بھلے لوگوں سے گھرے ہوئے ہوں۔
ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ ہمارا ذہن مسلسل مختلف قسم کی ذہنی سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے جنہیں ’عمل‘ اور ’ٹھہراؤ‘ دو حالتوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
عام طور پر ہم ’عمل‘ کے موڈ میں زیادہ ہوتے ہیں جس سے مراد وہ اقدامات ہیں جو ہم اپنے روزمرہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے کررہے ہوتے۔ اگرچہ اس کے فوائد ہیں لیکن یہ ہماری ذہنی صحت کیلئے اس وقت نقصان دہ ہوسکتا ہے جب ہم سارا دن اسی موڈ میں ہوں۔
لیکن ’ٹھہراؤ‘ کی حالت سب سے زیادہ نظرانداز کی جاتی ہے۔ اس حالت میں آپ کسی چیز میں مصروف نہیں ہوتے بلکہ اپنے ساتھ کچھ وقت گزارتے ہیں۔ یہ وقت، زندگی میں کیا ہورہا ہے یا موجودہ حالات کو زیادہ واضح کرنا، اس سے متعلق بصیرت فراہم کرنا اور موثر لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد کرتا ہے۔
تنہائی میں وقت گزارنا ہمیں اپنے خیالات اور جذبات کو سمجھنے اور ان سے جُڑنے میں مدد کرتا ہے۔ ہر ایک کو اس کی ضرورت ہے چاہے وہ ظاہر پرست ہو یا باطنی پرست۔

مزید پڑھیں:  ایپل ویژن پرو کا استعمال بھارتی سرجنز نے شروع کر دیا
کیٹاگری میں : صحت