پاک ایران گیس معاہدہ

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاملہ پرانا اور پیچیدہ ہے لیکن ہر فیصلہ پاکستان کے مفاد میں کیا جائے گا اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحق ڈار نے کہا کہ امریکہ یا کوئی اور ملک کیاکہتا ہے پاکستان اپنے مفاد کو مقدم رکھ کر فیصلہ کرے گا اور پاکستان اپنے مفاد پر کسی کو ویٹو کی اجازت نہیں دے گا۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاہدہ صرف پاکستان اور ایران کے مابین طے نہیں پایا تھا بلکہ اس کا تیسرا فریق بھارت بھی تھا جس نے بعد میں اس معاہدے سے بوجوہ علیحدگی اختیار کی چونکہ معاہدے کے مطابق ایران نے اپنے حصے کا پائپ لائن پاکستان کی سرحد تک تعمیر کرکے اپنی ذمہ داری ادا کردی تھی جس کے بعد امریکہ نے ایران پرنیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول اور ایٹمی قوت بننے کے حوالے سے پیش رفت کے الزامات لگا کر اقتصادی اور تجارتی پابندیاں عاید کرکے اس کی توثیق اقوام متحدہ سے بھی کروالی اور پاکستان کو دھمکی دی کہ وہ اس معاہدے سے باہر نکل آئے بصورت دیگر اسے (پاکستان) کو بھی نتائج بھگتنا پڑیں گے جس کے بعد یہ معاہدہ کھٹائی میں پڑنے سے پاکستان میں گیس کا بحران پیدا ہوا اس پر ایران نے پاکستان کو معاہدے کی خلاف ورزی پراربوں ڈالرجرمانہ ادا کرنے کا کہا اگرچہ جرمانہ اس لئے نہیں بنتا کہ معاہدہ سہ فریقی تھا اوربھارت کی اس سے علیحدگی کے بعد اصل معاہدہ ٹوٹ چکا تھا بہرحال اب پاکستان کو اپنے مفاد میں فیصلہ کرکے جلد ازجلد اس حوالے آگے بڑھنا چاہئے تاکہ ملک میں گیس بحران پر قابو پایا جا ئے۔

مزید پڑھیں:  اس طرح سے لوڈ شیڈنگ ختم ہوگی؟