مہنگائی میں کمی کے عوامل

بھارت سے پیاز کی ایکسپورٹ کھلتے ہی ملک میں پیاز کی قیمتیں دھڑام سے نیچے آگریں۔ کئی ماہ تک 200سے 300روپے کلو بکنے والی پیاز 100روپے سے 120روپے میں ملنے لگی۔لاہور میں پیاز 80سے 100روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے، ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات میںایک کلو پیاز 120روپے جبکہ سکھر میں 130روپے کلو میں دستیاب ہے۔ گندم بحران کے بعد پشاور میں آٹے کی 20کلو کی بوری پر 800روپے کم ہوگئے ہیں جبکہ چاول پر 50روپے فی کلو تک کمی سامنے آئی ہے جبکہ گھی اور مرغی کے دام بھی نیچے آگئے۔عالمی کساد بازاری اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، بجلی و گیس کے نرخوں کی تیزرفتاری جیسے عوامل کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی کو تو بادل ناخواستہ بھی قبول کیا جا سکتا ہے لیکن حکومت کے غلط فیصلوں،ملی بھگت ، بدعنوانی اورمافیا کے منصوبہ بند گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ذخیرہ اندوزی و منافع خوری اور اس کی راہ ہموار کرنے کے حامل حکومتی فیصلوں اور پالیسیوں کے باعث ملک و قوم کو جس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ زیادہ تکلیف دہ امر ہے، ماضی میں چینی کا سکینڈل ،حال میں گندم کا سکینڈل، آئی پی پیز سے حیران کن معاہدے جیسے معاملات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جس کے باعث ملکی معیشت و مالیات اور عوام مشکلات کی دلدل میں پھنسی ہوئے ہے، اور اس سے نکلنے کاکوئی راستہ بھی نظر نہیں آتا ،محولہ اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں کمی کی سوائے پالیسی میں تبدیلی کے اور کسی حکومتی اقدام کا باعث نہیں، معیشت کے تقاضوں کو سمجھنے اور منڈی پر اثرات مرتب کرنیوالے عوامل میں اصلاح سے اگر دیگر عوامل اور حالات کے برقرار رہتے ہوئے کمی آسکتی ہے تو اس کا نہ اختیار کیا جانا عوام سے ناانصافی ہو گی،ماہرین اس ضمن میں جن تجاویز کی سفارش کرتے آئے ہیں ان پر عملدرآمد کا تو دور دور تک کوئی امکان نہیں ،ایک تجویز پر ہی عمل سے سامنے آنیوالی صورتحال، اعدادو شمار سے واضح ہے ۔ جس کے بعد اس تجویز کی تائید ہوتی ہے کہ ملکی پالیسیوں اور معاملات میں اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے معاشی فیصلے اور پالیسیاں مرتب کرتے وقت دیگر پہلوئوں کو اولیت دینے کی بجائے معیشت اور منڈی کے تقاضوں کا خیال رکھا جائے تاکہ عوامی سطح پر مشکلات میں کمی آئے ملکی معیشت میں بہتری کا راستہ کھلے ۔

مزید پڑھیں:  کیا پسندوناپسند کا''کھیل ''جاری ہے ؟