بھوک آداب کے سانچوں میں نہیںڈھل سکتی

”اب اور کتنا رلائے گا پگلے؟” ایک بھارتی فلم کا یہ ڈائیلاگ بہت ہی مشہور ہوا ، یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر بھی ٹرینڈ بن گیا ، مگر لگتا ہے کہ ”پگلے” کو احساس ہو گیا کہ اب بس کر دی جائے کیونکہ رونے والے بہت رو لئے ، مگر کیا کیا جائے کہ رونا تو پھر بھی جاری رہے گا ، یعنی بقول ڈاکٹر راحت اندوری مرحوم
صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئے
اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہئے
میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا
اک سمندر کہہ رہا ہے مجھ کو پانی چاہئے
گزشتہ چند برس کے دوران عوام بے چارے دوہرے عذاب سے دو چار ہو کر دو طرح کے آنسو بہانے پر مجبور رہے ہیں یعنی جب سے ملک میں پیاز ، ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کے نرخ اوچ ثریا پر کمندیں ڈال رہے ہیں اور وہ سبزیاں جو کبھی دس پندرہ روپے کلو سے بھی آگے نہیں جا سکتی تھیں( ہم نے اپنے لڑکپن کے زمانے کی بات جان بوجھ کر نہیں کی ورنہ آپ ہم پر پاگل ہونے کے فتوے بھی لگا سکتے ہیں) وہی سبزیاں پہلے سنچری کراس کرکے ”اپنے ہونے کا پتا” دے رہی تھی بڑھتے بڑھتے ڈبل اور پھر ٹرپل سنچری سے بھی اوپر کے ریکارڈ قائم کرنے کی جانب رواں تھیں ، دیگر کوچھوڑ کر ہم صرف پیاز کا ہی ذکر کرلیتے ہیں جو ایک زرعی ملک کے دعویدار ملک میں چند ماہ سے ساڑھے تین سوروپے کے ہندسے کو کراس کرکے نہ صرف مہنگائی کے عذاب کی وجہ سے عوام کو رلاتے رہے ہیں ، بلکہ انہیں کاٹتے ہوئے بھی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑنا فطری امر تھا اس لئے ہم نے اگر جملہ ”رونا تو پھر بھی جاری رہے گا” اوپر کی سطور میں لکھا ہے تو اس کا جواز تو یقینا آپ جان گئے ہوں گے تاہم وہ جودوگنا رونا ہوتا تھا کم از کم اس میں ایک تازہ خبر کے مطابق تبدیلی آگئی ہے اور مہنگے پیاز کے سستائی سے رجوع کرنے کے بعد اب صرف پیاز کاٹنے کے عمل کے تحت ہی رونا باقی بچا ہے ، اور اس حوالے سے ایک تازہ خبر یہ ہے کہ بھارت سے ایکسپورٹ کھلتے یہ پیازکی قیمتیں دھڑام سے نیچے آگریں دو سو سے تین سو روپے کلو بکنے والی پیاز سوسے 120 روپے کی ہوگئی ۔ یعنی پیاز نے مہنگائی کے کوہ گراں سے نیچے اترتے ہوئے بقول ساحر لدھیانوی عوام کو پیغام دے دیا ہے کہ
تم اپنا رنج و غم ، اپنی پریشانی مجھے دیدو
تمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دیدو
موجودہ صورتحال کو حوصلہ افزاء قرار دیتے ہوئے بھی ہم اسے ”عارضی” بندوبست سے زیادہ کی اہمیت دینے کو دو وجوہ کی بناء پر تیار نہیں ہیں ، ایک تو یہ کہ جس وقت یہ سطور تحریر کی جارہی ہیںذی القعدکی یکم تاریخ ہے اور عیدالاضحی میں تقریباً 40/39 دن رہ گئے ہیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پیاز اپنی عارضی ”پسپائی” کو تیاگ کر ایک بار پھر مہنگائی کے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیں گے ،بھارت سے درآمد کی خبریں سامنے آتی ہیں جبکہ دوسری وجہ کی وضاحت کی طرف جانے سے پہلے ہمیں اپنے بچپن اور لڑکپن میں اپنے بزرگوں سے سنی ہوئی وہ بات یاد آگئی جس نے تقسیم ہند سے پہلے انگریزوں کی سازش کے تحت برصغیر کے باشندوں میں فکری تقسیم کی بنیادیں استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ، اور وہ تھا مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کے بیج بونا ، اگرچہ اس فکری تقسیم اور ایک دوسرے سے نفرت کی بنیادیں برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے صدیوں پہلے خود ہندوئوں کے درمیان ذات پات کے حوالے سے موجود تھیں اور خاص طور پر برہمن (ہندوئوں کی اعلیٰ ذات) سے تعلق رکھنے والے باقی تین طبقوں میں کھشتری اور ویش کے ساتھ تو پھر بھی تعلق استوار رکھتے تھے ، جبکہ نچلی جاتی یعنی شودروں کوا نتہائی حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور قدیم زمانے میں تو ظلم کی انتہا یہ تھی کہ اگر کسی شوردر کے کان میں ہندوئوں کی مقدس کتابوں کے الفاظ بھی پڑ جاتے تھے تو ان کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال کر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناشیندنی کے عذاب میں مبتلا کر دیا جاتا ، انگریزوں نے ہندوئوں کے اندر اس ذات پات کی کیفیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہندوئوں اور مسلمانوں کے بیچ بھی نفرت ، حقارت اور تعصب کی بنیادیں استوار کرنے کیلئے اس کی ابتداء ریلوے سٹیشنوں پر مسافروں کو دو طبقوں میں بانٹنے کی کامیاب کوششیں یوں کیں کہ مسافروں کو پانی کی فراہمی کے حوالے سے ”مسلمان پانی اور ہندو پانی” کانعرہ ایجاد کیا اور ریلوے سٹیشنوں پر بالٹیوں میں پانی بھر کر ساتھ میں گلاس یا مٹی سے بنے ہوئے کٹوروں میں ہندو اپنا نعرہ یعنی ہندو پانی اور مسلمان اسی نلکے سے بالٹی بھر کر مسلمان پانی کے نعرے لگاتے ہوئے ہر دو مذاہب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو ”سراب” کرتے اس حوالے سے زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تھوڑے کو بہت جانتے ہوئے خود بھی صورتحال کو جاننے کی زحمت فرمائیں اس لئے واپس اصل مسئلے کی جانب چلتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور جس دوسری وجہ کی نشاندہی ہم نے کی ہے اس کو زیر بحث لاتے ہیں پیا ز کی بھارت سے درآمد سے عوام کو جوآسانیاں یعنی مہنگائی سے کسی نہ کسی حد تک نجات مل رہی ہے کہیں اسے بھی ”ہندو پانی”” مسلمان پانی” سے آلودہ کرنے کی کوششیں نہ کی جائیں کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت کے ساتھ تجارت کے سوال پر سوشل میڈیا پر ایک مخصوص ٹولہ اسے بدقسمتی سے مذہب سے جوڑنے کی کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے اس لئے خدشہ یہی ہے کہ بھارت کے پیاز کو ”ہندو پیاز”کہہ کر ”حرام ، حلال” کی گتھیاں سلجھانے کی بنیادیں استوار نہ کر لی جائیں حالانکہ کسی بھی سبزی یا اشیائے خوردنی کو مسلم اور غیرمسلم قرار دینے کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا ، بلکہ اسے معلوم کے حق میں آسانیوں کی بنیادپرپرکھنا چاہئے ہمیں تو یہ بھی خدشہ ہے کہ اس کالم کے شائع ہونے تک وہ مخصوص طبقات جو ہمیشہ ہی ایسی خبروں کی ناک میں رہتے ہیں۔
، خم ٹھونک کر سامنے نہ آچکے ہوں اور بھارت سے سستے پیاز کے مقابلے میں مہنگی پیاز بلکہ ٹماٹر بھی دیگر دیسوں سے منگوانے اور عوام پر مہنگائی مسلط کرنے کے حق میں دلائل کے انبار لگاتے ہوئے نظر آرہے ہوں، بلکہ ہمیں تو یہ خوف بھی دامن گیر ہے کہ ہماری اس تحریر پر ہمارے خلاف ”فتوئوں” کی دکانیں کھول کر حملہ آور ہونے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں ”میراتھن ریس”کاآغاز بھی کر چکے ہیں تاہم جس طرح ریلوے سٹیشنوں پر ایک ہی نلکے سے پانی بھر کر ان پر ہندو پانی ، مسلمان پانی کا لیبل لگا کر دونوں مذاہب کے ماننے والوں میں تفرقہ ، نفرت ابھارنے کا دھندہ کیا جاتا تھا اب پیاز کو مسلمان پیاز اور ہندو پاز بنانے سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم نہیں ہو سکتا کیونکہ پیاز یاکوئی بھی سبزی نہ مسلمان ہوتی ہے نہ غیر مسلم بلکہ سبزی تو سبزی ہوتی ہے اور بقول شاعر
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

مزید پڑھیں:  ''جذبہ رقابت یا اسبابِ عیش کی نایابی''