غیر معمولی اصلاحات کی ضرورت

صوبائی حکومت کی جانب سے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں جعلی احکامات کے ذریعے تبادلوں اور بھرتیوں کی شکایات پر کیو آر کوڈ کے اجرا کے بعد ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں جعلی احکامات پر تبادلوں اور بھرتیوں کے بارے میں تفصیلی چھان بین میں تاخیر کی گنجائش نہیں اس ضمن میں عندیہ دیاگیا ہے کہ جعلی احکامات کے ذریعے تبادلوں اور بھرتیوں کے بارے میں چھان بین بھی شروع کی گئی ہے اور چھان بین کے بعد اس میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف کاروائی کی جائے گی جبکہ جعلی احکامات پر بھرتی ہونے والے ملازمین کو برطرف کر دیا جائے گا۔اگرچہ یہ اقدامات اور پیشرفت اطمینان کا باعث امر ہے لیکن اس سے نہ صرف ہمارے تعلیمی منتظمین اور نگرانوں کی ملی بھگت او غفلت طشت ازبام ہوگئی بلکہ مشکل امر یہ بھی ہے کہ اولاً یہ ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوگااور پورے معاملات کی جامع تحقیقات ذمہ داری کا تعین سے لے کر اسے انجام تک پہنچانے کے عمل میں کئی ایک قانونی رکاوٹیںبھی پیش آسکتی ہیں قبل ازیں بھی جعلی تقررناموں پر اساتذہ کی بھرتی کے واقعات تنخواہ ہیں نہ ملنے پر سامنے آتے رہے ہیں اس دوران جعلی تقرر ناموں پر باقاعدہ ان اساتذہ نے سکولوں میں رجسٹر حاضری پر دستخط کئے دستاویزی جملہ لوازمات پوری کیں اور کام کیا جن کو بعدمیں محکمے کی طرف سے جعلی تقرر ناموں کے باعث برطرف بھی کیا گیا مگر عدالت سے رجوع کے بعد وہ بحال ہو گئے محکمہ تعلیم کی روز بروز کوئی نہ کوئی سکینڈل او ر کہانی سامنے آنے لگی ہے اس دوران ہی سینکڑوں لیپ ٹاپ غائب ہونے کا انکشاف ہوا یہی نہیں گھوسٹ ملازمین کام کئے بغیر تنخواہ وصول کرنے والے ملازمین کی تقرری اور ضلع میں اور حاضری کسی اور ضلع خاص طور پر پشاور اور اسکے مضافات میں دیگر اضلاع میں تعینات اساتذہ کی موجودگی غرض عجیب و غریب قسم کے گھپلے اوربے ضابطگیاں ہونا معمول کی بات ہے مگر اسکانوٹس لینے والا کوئی نہیں خیبر پختونخوا کے ضم اضلاع اور دیگر پسماندہ ضلعوں میں ہی صورتحال سنگین نہیں صوبائی دارالحکومت اور مضافات میں بھی صورتحال کچھ اچھی نہیں محکمہ تعلیم میں جعلی تقررناموں کا انکشاف کو اگر نئی بات بھی قرار دیا جائے تو سیاسی بنیادوں پر اور سفارشی اساتذہ کی تقرری سے محکمے کا جس طرح آوے کا آوابگڑاہوا ہے اور معیار تعلیم کاجوستیا ناس ہو رہا ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں جب بھی اساتذہ کا امتحان لینے کی تجویز آتی ہے تو ایک بھونچال سا آتا ہے اس سے مضحکہ خیز امر اور کیا ہوسکتا ہے کہ جو اساتذہ دوسروں کا امتحان لیتے ہیں وہ خود جائزہ امتحان میں حصہ لینے پر تیار نہیں اور نہ ہی استعداد کے مطابق کام کی انجام دہی کا فریضہ نبھاتے ہیں حکومت کو محکمہ تعلیم کی انتظامی سطح سے لے کر تدریسی شعبے تک ازسر نوجائزہ لینے اور اصلاح احوال پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے جب تک محکمہ تعلیم میں احتساب کا یقین نہ آئے اس طرح کے واقعات ہی نہ صرف ہوتے رہیں گے بلکہ اس کے ذمہ دار بھی بچ نکلیں گے۔

مزید پڑھیں:  جنابِ نوازشریف!گریوں ہوجائے تو ۔۔؟