صوبے کے مفادات کا کسی کو خیال بھی ہے

خیبر پختونخوا کے ایک ہی علاقے اور حلقے کے سیاسی حریف گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان علاقے اور حلقے کی حد تک لفظی گولہ باری اور سیاسی تنقید کی تو سمجھ آتی ہے لیکن آئینی اور حکومتی عہدے پر فائز ہونے کے باوجود سیاسی رقابت اور کم سے کم تعلقات کارسے بھی گریز سمجھ سے بالاتر ہے ایک سڑک پر مقیم اور ڈیرہ اسماعیل خان کی ثقافت اور روایات کی ہم آہنگی کے باوجود دونوں میں بیر کی کیفیت اورر وز بروز اس میں اضافہ حکومتی اور سیاسی دونوں ہی ماحول اور آئینی حکومتی تعلقات کار میں رکاوٹ ہی کا باعث نہیں بلکہ اس سے صوبے کا مجموعی مفاد بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ خاندانی اور سماجی تعلقات رکھنے والی دونوں شخصیات کی ہوائی فائرنگ نمائشی ہے جس کا مقصد توجہ بانٹنے کے علاوہ کچھ نہیں بہرحال بظاہر یہ معاملہ اب کشیدگی درکشیدگی اور ناقابل واپسی نکتے کی طرف گامزن نظر آتا ہے ۔اخباری اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے۔ بات بڑھتے بڑھتے کے پی ہائوس اسلام آباد تک پہنچ گئی۔ خیبر پختونخوا حکومت نے خیبر پختونخوا ہائوس اسلام آباد میں گورنر کے لئے مختص بلاک ختم کردیا گورنر خیبر پختونخوا اب سرکاری قیام گاہ میں نہیں رہ سکیں گے ۔ اس حوالے سے متعلقہ سٹاف کو بھی مطلع کردیا گیا ہے۔ گورنر بلاک کو ختم کرنے کا فیصلہ خیبر پختونخوا کابینہ نے کیا تھا۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق خیبرپختونخوا ہاؤس میں گورنر کے لئے مختص بلاک ختم کردیا گیا ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ گورنر خیبر پختونخوا اسلام آباد جا کر کہاں رہیں گے مسئلہ یہ ہے کہ اس فیصلے کے اثرات صوبہ مرکز تعلقات پر پڑیں گے جہاں گورنر کی جماعت حکومت کی حلیف ہے صوبہ اور مرکز کے آئینی تعلقات کی اہمیت سے صرف نظر ممکن نہیں خیبر پختونخوا اور مرکز کے تعلقات صرف آئینی تقاضاہی نہیں بلکہ مرکز سے صوبے کے حقوق و وسائل کا حصول بھی بنیادی اہمیت کا مسئلہ ہے جو جاری صورتحال میں ممکن نہیں ہر دو صاحبان کو بطور خاص یہ سمجھنا ہوگا کہ ان میں سے ایک وفاق پاکستان کے آئینی نمائندے کی حیثیت سے خیبر پختونخوا کے گورنر ہائوس کا مکین ہے اور دوسرا عوام کے ووٹوں سے وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز، دونوں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ باہمی تعاون سے صوبے کو دہشت گردی، تعصبات، محرومیوں، غربت و بیروزگاری اور اس جبرواستحصال سے نجات دلائیں جس کے بڑھاوے میں کچھ حصہ امتیازی قوانین افسر شاہی کے غیر ذمہ دارانہ طرزعمل اور طبقاتی سماج کے رویوں کا ہے اور کچھ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کے طور پر آگے بڑھ جانے والوں کا اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ صوبائی حکومت اور وفاق کے آئینی نمائندے گورنر کے درمیان مثالی تعلقات ہوں، دونوں مل کر قانون کی بالادستی کے ساتھ ان مسائل کے حل کے لئے مؤثر اقدامات کریں جن سے صوبے کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ افسوس کہ علاقائی سیاست کے دو حریف صوبے کے بڑے منصبوں پر فائز ہوکر بھی علاقائی سیاست میں گزشتہ چند برسوں سے پروان چڑھنے والی تلخیوں اور نفرتوں کو بھلاکر آگے بڑھنے کے جذبات سے محروم ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر ہر دو نے زبان کے درندے کو قابو رکھنے کی شعوری کوشش نہ کی تو صوبائی حکومت اور آئینی منصب پر فائز شخصیت ہر دو اپنے اصل فرائض پر توجہ نہیں دے پائیں گے۔ اس طور نقصان صرف اور صرف صوبے کے عوام کا ہوگا جن کی قسمت میں پہلے بھی خسارا ہی خسارہ اور مسائل ہی مسائل ہیں۔ اندریں حالات ہم جناب فیصل کریم کنڈی اور جناب علی امین گنڈاپور کی خدمت میں دست بدستہ یہ عرض کریں گے کہ زبانی دانی کے ملاکھڑوں سے پرہیز دونوں اور صوبے کے مفاد میں ہے دونوں اپنے حقیقی فرائض پر توجہ مرکوز کریں۔ ملک میں پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور معاشی ابتری کا دوردورہ ہے اس سیاسی عدم استحکام اور معاشی ابتری سے دوسرے صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے کے لوگوں کی بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے دستیاب وسائل میں صوبائی حکومت اپنا کام کرے اور جہاں وفاق کے تعاون کی ضرورت ہو وفاق حریف کی بجائے بڑے بھائی کے طورپر آگے بڑھ کر تعاون و خیرسگالی کا مظاہرہ کرے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں شخصیات مروجہ سیاست کے اڑن کھٹولے سے اتر کر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں۔ سیاست کے لئے بہت وقت پڑا ہے۔ اس وقت صرف کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں شخصیات ان معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور کرتے ہوئے اپنے فرائض پر توجہ دیں گی اور قانون کی سربلندی اور عوام کی بہبود کو فرض اول کے طور پر نبھائیں گی۔

مزید پڑھیں:  افسوسناک واقعہ اور ردعمل