کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہنے کو سیاسی بیان قرار دینا عام سیاسی موقف سے مختلف گردانا جانا چاہئے انہوں نے کہا کہ دس، بارہ سال عمران خان اور ہم مد مقابل رہے ہیں، یہودی ایجنٹ کہنا گالی نہیں ہے بلکہ یہ احتجاج کا عنوان ہے۔ جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ میں یہودی ایجنٹ کیوں کہہ رہا تھا، پی ٹی آئی والے پہلے آتے تو بھی ان کے سامنے اپنا موقف رکھتا، آج بھی رکھا ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے امکان کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں، مذاکرات سے انکار نہیں کریں گے، مذاکرات کا ماحول بنتا ہے تو حوصلہ افزائی کریں گے۔مولانا فضل الرحمان کی سیاسی جدوجہد اور بصیرت کے تو ہم قائل رہے ہیں اس وقت بھی وہ بیک وقت حکومت سے رابطے اور تحریک انصاف سے مفاہمت کی دوہری چال چلنے میں مصروف ہیں جو ان کا حق اور طرز سیاست ہے لیکن کسی کو یہودی ایجنٹ کہنے کے بعد اب اسے سیاسی بیان قرار دینا کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری کے عین مصداق ہے اس کی جانب سے اس کی توجہ پر اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا ہی کہا جا سکتا ہے یہودیوں سے نفرت اور صیہونی ازم سے بیزاری اور نفرت کو سیاسی مخالفین کے لئے استعمال کرنے کی ازروئے دین اسلام اور ازروئے اخلاق کس قدر گنجائش تھی یا ہے اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا سوائے اس کے کہ اسرائیل بطور ملک اور یہود و ہنودہمارے معاشرے اور دینی حلقوں دونوں میں وہ بدترین نفرت کا باعث ہیں جس کا نام لینا بھی لوگوں کو گوارا نہیں اب اگر کسی کو ان سے منسوب کیا جائے اور بعد میں خود اپنے ہی موقف کو تھوک کر چاٹنے کے برابر کر دیا جائے تو اس پر سوال اٹھنا تو معمولی بات ہے اس بہتان طرازی پر روز آخرت کی پوچھ گچھ سے ڈرنا چاہئے جس سے بچنے کی واحد صورت معافی کی خواستگاری اور معافی کا اعلان ہی ہو سکتا ہے ۔ تحریک انصاف او رجے یو آئی میں بعد کی جو کیفیت رہی ہے اور کارکنوں کے اذہان و قلوب میں جو باتیں جڑ پکڑ چکی ہیں اگر ان کی طرف دیکھا جائے تو وقتی طور پر خواہ مل بیٹھیں بھی تو خود دونوں جماعتوں کے اپنے اندرونی حلقے اسے دل سے شاید ہی کبھی تسلیم کرنے پر تیار ہوں بہرحال قابل اطمینان امر یہ ہے کہ پاکستان میں اب کم از کم کوئی یہودی ایجنٹ نہیں اور نہ ہی اب اس کی تکلیف دہ تکرار سننے کو ملے گی۔

مزید پڑھیں:  ٹیکسوں میں ردو بدل