اتنا آسان حل۔۔۔ ؟

خیبر پختونخوا میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کم کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی وفاقی حکومت کو شیڈول جاری کرنے کی ڈیڈ لائن پر چیف ایگزیکٹو پیسکو متعلقہ عملے کے ساتھ وزیر اعلیٰ ہائوس گئے اور چیف ایگزیکٹو پیسکو نے صوبے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کم کرنے اور لوگوں کو ریلیف دینے کی یقین دہانی کرائی۔ نیز اس موقع پر صوبے میں لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول جاری کرنے پر اتفاق ہو گیا، نئے شیڈول کے مطابق 22گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کم کر کے 18گھنٹے اور18 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کم کر کے14گھنٹے کی جائے گی۔دریں اثناء وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا کہ وہ بجلی سے متعلق مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن بات تب تک نہیں ہوسکتی جب تک صوبے کے عوام کو لوڈشیڈنگ کے حوالے سے فوری ریلیف نہ ملے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے بقایا جات سے کٹوتی کروا کر اپنے لوگوں کو ریلیف دینا چاہتی ہے، اگر لوگوں کو فوری ریلیف نہ ملا تو صوبے میں امن و امان کے سنجیدہ مسائل جنم لینے کا خدشہ ہے۔علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 16 روپے سے بڑھ کر65روپے ہونے کے باوجود شہریوں کو بجلی مل رہی ہے اور نہ بجلی کی ٹرانسمیشن کا نظام ٹھیک ہو رہا ہے، صوبے میں لائن لاسز کی ذمہ دار وفاقی حکومت اور پیسکو ہے اس کی سزا صوبے کے عوام کو دی جا رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے جذباتی ویڈیو بیان کے بعد لوڈ شیڈنگ میں کمی او رنئے شیڈول کی تشکیل سے تو اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ صوبے میں بے تحاشا لوڈ شیڈنگ کی ایک وجہ بد انتظامی بھی تھی البتہ ہر بار احتجاج کے بعدماضی میں بھی ابتدائی چند روز تو صورتحال بہتر کرنے کے بعد پرانا سلسلہ پھر سے شروع ہونے کا مشاہدہ رہا ہے نیز احتجاج والے علاقوں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کے آبائی علاقوں سے لوڈ شیڈنگ کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرکے بھی اس کا حل نکالنے کی مثالیں موجود ہیںاصل مسئلہ نیشنل گرڈ سے صوبے کے حصے کی پوری بجلی کی فراہمی اور بعدازاں صوبے میں اس کی منصفانہ بنیادوں پر تقسیم ہی ہے ماضی میں صوبے کے حصے کی بجلی اسلام آباد میں استعمال ہونے اور صوبے کو کوٹے سے کم بجلی دینے کا عمل عروج پر رہا یہ سارے عوامل بجلی کے نظام پر بوجھ اضافی لوڈ شیڈنگ اور ناانصافی پرمبنی رویہ اختیار کرنے کا باعث بنتے رہے ہیں البتہ سب ے اہم امر سو فیصد ریکوری والے علاقوں کو لوڈ شیڈنگ سے مبرا کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد کا بھی ہے کیونکہ اگر حقیقی صارفین کی حوصلہ افزائی نہیں ہو گی اور ان سے بھی بجلی چوری والے علاقوں کے صارفین کی طرح سلوک ہوگا تو پھر ریکوری کا متاثر ہونا فطری امر ہو گا بنا بریں جملہ معاملات کو سامنے رکھ کر ہی حقیقت پسندانہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے وزیر اعلیٰ کا اس ضمن میں وفاق سے بات چیت کا عندیہ احسن امر ہے قبل ازیں واپڈا کے وفاقی وزیر کا وزیر اعلیٰ سے ملاقات کا وقت دینے کا بیان سامنے آچکا ہے اگر ان کو دعوت دی جائے اور بجائے اس کے کہ الزام تراشی اور بلاوجہ کے دبائو اور کشیدگی پرمبنی حالات پیدا کئے جائیں ایک دوسرے کے موقف اور مجبوریوں کو سمجھنے اور مفاہمانہ انداز میں اس کا ممکنہ حل نکالنے پر اتفاق کیا جائے تو یہ احسن ہو گا جہاں تک بجلی چوری کی روک تھام کاسوال ہے اس ضمن میں صوبائی حکومت کو بجلی چوروں کے خلاف پیسکو اہلکاروں کی کارروائیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھانی ہو گی بجلی چوری کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں او رنہ ہی جب تک اس کا راحرام کی روک تھام نہ ہو بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری کی گنجائش نہیں بلاشبہ لائن لاسز اور بجلی چوری کی روک تھام متعلقہ وفاقی محکمہ کی ذمہ داری ہے مگر صوبائی حکومت انتظامی اور تحفظ دینے کے معاملات سے بری الذمہ نہیں وزیر اعلیٰ کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیاجا سکتا کہ وفاق صوبے کے بقایاجات میں سے کٹوتی کرکے بجلی کے حوالے سے ریلیف دے بجلی چوری میں صوبہ بھر کے لوگ ملوث نہیں اور نہ ہی سو فیصد بجلی چوری ہوتی ہے بلکہ بعض علاقے اور افراد انفرادی طور پر اس حوالے سے ملزم ہیں جن کی سزا نہ تو صوبے کے عوام کو دی جانی چاہئے اور نہ ہی ان کوکسی حکومتی رقم سے ریلیف دینے کی حمایت کی جا سکتی ہے ان عناصر کے خلاف وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں مل کر سخت کارروائی یقینی بنائیں اور جن جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے بلوں کی وصولی نہیں ہو پار رہی ہے وہاں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہونا چاہئے جن علاقوں میں بجلی کے بلوں کی وصولی سو فیصد ہو رہی ہے نیز جہاں بڑے پیمانے پر شمسی نظام کے ذریعے گرڈ کو بجلی آتی ہے وہاں کے بارے میں اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے بہرحال چونکہ گرمیوں میں بجلی کی طلب و رسد کا توازن بگڑ جاتا ہے اس لئے ان علاقوں میں بھی سورج ڈوبنے کے بعد شام اور رات کے اوقات میں محدود لوڈ شیڈنگ ہو تو حرج نہیں البتہ اصولی طور پر یہ علاقے لوڈ شیڈنگ سے مبرا ہونے چاہئیں اور دن کو شمسی بجلی پیدا کرکے گرڈ کو دینے کے عوض ان کو بلا تعطل بجلی واپس ملنی چاہئے سارے بجلی صارفین کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا عمل بہرحال حقیقت پسندانہ نہ ہو گا توقع کی جانی چاہئے کہ جملہ امور و معاملات کو مد نظر رکھ کر معاملات کو آگے بڑھانے کی احسن حکمت عملی اختیار کی جائے گی اور ساتھ ہی صوبے اور ملک کے مفادات دونوں ہی کااپنی اپنی جگہ خیال بھی رکھا جائے گا اور اپنی اپنی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دی جائیگی۔

مزید پڑھیں:  حد ہوا کرتی ہے ہر چیز کی اے بندہ نواز