ہراسانی کی کہانی طویل ہے

لکی مروت کے روایتی طور پر سخت پختون معاشرے کے باوجود محکمہ تعلیم کے دفتری عملے کی جانب سے خواتین اساتذہ کی ہراسانی کا واقعہ واحد واقعہ نہیں بلکہ لکی مروت سے چترال تک ہر جگہ اس طرح کی کہانیاں زباں زد عام ہیں مگر اس طرح طشت ازبام ہونے کا واقعہ شاید پہلی مرتبہ ہے امر واقعہ یہ ہے کہ استانیوں کی ہراسانی کے واقعات کی کہانیاں اتنی طویل اور افسوسناک ہیں کہ ان کا بیان پیشہ معلمی کے تقدس کی پامالی ہو گی اس طرح کے واقعات میں کسی ایک فریق کے قصور وار ہونے کی گنجائش کو یکسر رد نہیں کیا جا سکتا مگراکثر واقعات میں آگ دونوں طرف سے برابر لگی ہوئی کا مصرعہ حقیقت حال کا درست بیان سمجھا جائے تو شاید ہی مبالغہ آرائی ہو۔ اس طرح کے واقعات جہاں تصویریں اور ویڈیو بنیںاور پھر ان کا غلط استعمال ہو کیسے اور کیونکر ایک فریق کو الزام دیا جائے بہرحال اس طرح کے بدترین واقعات کی تفصیل میں جانے کی بجائے اگر اس طرح کے واقعات کے امکانات کو تلاش کرکے اس کے تدارک کے اقدامات کی طرف توجہ دی جائے تو یہ موزوں ہو گا پوسٹنگ ٹرانسفر اب معمول کا عمل نہیں رہا اساتذہ کی پوسٹنگ کے معاملات ہوں یا پھراستانیوں کے اس کی قیمت نقد اور جنس کی صورت میں ادائیگی و وصولی کوئی راز کی بات نہیں اتنی رقم دے کر اس جگہ پوسٹنگ کروالو کا ریٹ طے ہے اور جولوگ رشوت نہ دینا چاہیں یا عزت پیاری ہو ہر ضلع میں لسٹ نکلوالی جائے تو معلوم ہو گا کہ انکاری اساتذہ ٹینور سے کہیں بڑھ کر سخت اور مشکل ترین اور درو دراز کے سکولوں میں عرصے سے تعینات ہیں اس طرح من پسند جگہوں علاقوں اور سکولوں میں جانے والوں کے نام بھی پوشیدہ نہیں ہوں گے لکی مروت کے واقعہ نے تو قلعی کھول دی ہے جس کے بعد عزت داروں کے چہروں پر کہیں کوئی ان کو بھی اس نظر سے نہ دیکھے کے خدشات کے باعث نمودار حیا کو محسوس کیا جا سکتا ہے جبکہ جو عناصراس کے عادی ہوں ان کو فرق نہیںپڑتا اس مسئلے کی طرف خواتین اراکین اسمبلی کو بلا امتیاز اسمبلی میں آواز بلند کرنی چاہئے اور ہر رکن اسمبلی اپنے اپنے ضلع میں تعیناتیوں کا جائزہ لے کر محروم افراد کو نہ صرف ان کا حق دلانے کی ذمہ داری پوری کریں بلکہ اس طرح کے امکانات اور ماحول پر خواتین اراکین اسمبلی کو اسمبلی میں مشترکہ طورپر آواز بلند کرنی چاہئے اور خواتین اساتذہ کے تحفظ کے لئے آوازبلند کرنی چاہئے زنانہ سکولوں کے ضلعی دفاتر میں عملے کی تقرری کے وقت اخلاقی طور پر نیک نام افراد کو ترجیح دی جائے اور کسی کو بھی طویل عرصے تک ایک ہی جگہ اور عہدے پر تعینات نہ رکھا جائے نیز زنانہ سکولوں کے دفاتر میں مرد عملے کا دائرہ عمل محدود سے محدود ترکیاجائے اور ہو سکے تو زنانہ عملہ ہی تعینات کرکے اس طرح کے امکانات کو ختم کیا جائے ۔

مزید پڑھیں:  بڑھتی ہوئی آبادی کا دھماکہ