سہولت ، زحمت نہ بن جائے !

نادرا میں یونین کونسل کی سطح پر شناختی کارڈ بنانے اور اس کی تجدید کرنے کی سہولت دینے کا فیصلہ اصولی طور پر قابل داد ضرور ہے، اس لئے کہ دنیا بھر میں وہاں پر قومی شناختی کارڈ ، پاسپورٹ اور دیگر متعلقہ دستاویزات وہاں کے باشندوں کو انتہائی آسانی اور کم سے کم فیسوں کی ادائیگی کے بعد چند روز کے اندر اندر جاری کر دی جاتی ہیں ، جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسی تمام دستاویزات اور کارڈز وغیرہ کا اجراء نہایت مشکل امر بنا دیاگیا ہے اور متعلقہ ادارے عوام کے اس بنیادی حق کو بھی تسلیم نہ کرنے کے پیچیدہ عمل کو مزید مشکل اور تکلیف دہ بنانے کی پالیسیوں پر کارفرما ہیں بلکہ اس سارے عمل کا نہایت افسوسنا ک پہلو یہ ہے کہ جائز طور پر دستاویزات وغیرہ کا حصول تو ادق کام بن چکا ہے جبکہ غیر قانونی طور پر جعلی کارڈز ، پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات متعلقہ اداروں ، محکموں اور دفاتر کے اندر گنتی کے چند بدعنوانوں کی مٹھیاں گرم کرنے سے آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہیں ،اس سلسلے میں مختلف اوقات میں خصوصاً نادرا اور پاسپورٹ دفاتر میں ایسے بدعنوانوں کوبے نقاب کرنے اور ان کو قانون کی گرفت میں لانے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوچکی ہیں جنہوں نے غیر قانونی طور پر غیر ملکی افراد کو پاکستانی شناختی کارڈزاورپاسپورٹ جاری کرنے میں اہم کردار ادا کیا اب جبکہ انتہائی حساس نوعیت کی شناختی دستاویز (کارڈ) بنانے کی سہولت کو یوسی سطح پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو ہم اتنا ضرور عرض کریں گے کہ اتنی حساس شناختی دستاویز کے اجراء کو حد درجہ فول پروف بنانے پر توجہ دینا لازمی ہونا چاہئے ، اس لئے کہ اگر نادرا جیسے ادارے میں بھی”بدعنوانی” کی روک تھام نہیں کی جا سکی تو کہیں یوسی کی سطح پر اسے ”آسان سے آسان تر” نہ بنا دیا جائے جس کے بعد نہ صرف شناختی کارڈ بلکہ اس کی مدد سے پاسپورٹ کاحصول”حلوہ” بنا دیا جائے۔

مزید پڑھیں:  کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں!