ڈیرہ کی لڑائی پشاور میں

جب ہمارے صوبے کونیا نام نہیں ملا تھاتب بھی دیگر شہروں کے وزیر اعلیٰ ہونے کی وجہ سے ان کے آبائی علاقوں کی لڑائیاں پشاور میں ہواکرتی تھیں اس ساری لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان صوبائی دارلحکومت پشاور کا ہوتا رہا ہے یہاں کے سارے ترقیاتی فنڈزوہاں منتقل ہوتے رہے ۔صوبہ کا نیا نام خیبر پختونخوا مل تو گیا تاہم یہ لڑائیاں جاری رہیں، رہی سہی کسر دہشت گردی نے نکال دی کیونکہ آئے روز ہونے والے بم دھماکوں نے پشاور کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ یہاں کے بازار اور گلیاں تباہ وبرباد ہوگئیں یوں پھولوں اور رونقوں کا شہر پشاور جنگ زدہ کابل سے بھی زیادہ زبوں حالی کا شکارہوتا چلا گیا۔ کیونکہ پشاور کوکوئی اپنا وزیر اعلیٰ نہ مل سکا یہ سلسلہ صرف مردان تک ہی محدودنہیں رہا بلکہ جب ہزارہ کا وزیر اعلیٰ آیا تب بھی بنوں کا وزیر اعلیٰ آیا تب بھی اور دس سال سے زیادہ رہنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دورمیں بھی کبھی نوشہرہ اور کبھی سوات یہ سارے کے سارے فنڈمنتقل ہوتے چلے گئے۔
پشاور صوبہ کا دارلحکومت ہونے کے ناطے ہروقت رش میں گھرا رہتاہے صوبہ بھر کے عوام چاہے وہ اپنے کسی سرکاری کام سے آئے ہوں یا اپنے ذاتی کام سے، انہیں صحت کا مسئلہ ہوتو وہ صوبہ کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ ملک کے بہترین غیر سرکاری ہسپتال بھی پشاور میں ہونے کی وجہ سے یہاں نہ صرف سڑکوں پر رش رہتاہے بلکہ دفاتر، ہسپتالوں اور بازاروں میں بہت رش رہتاہے اور ایک شہر کی بجائے پورے صوبہ کا لوڈ ہونے کی وجہ سے سڑکیں اپنی طبعی عمر سے بہت پہلے شکستہ ہوجاتی ہیں ہسپتال کے فنڈ شہر کے لوگوں کو ادویات دینے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ بازاروں میں دن بھر صوبہ بھر سے آئے خواتین وحضرات سے بھرے رہتے ہیں یوں پشاور کے شہریوں کے وسائل پورے صوبہ کے لوگوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں لہٰذا پشاور میں زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کام ہونے بہت ضروری ہیں ہسپتال کی استعدادکاربڑھانے کی ضرورت بھی ہے لیکن اس کیلئے پشاور شہر کے اپنے حصے کے فنڈز کیساتھ ساتھ صوبہ بھر کے عوام کے حصہ بقدر جثہ کے حساب سے ترقیاتی فنڈز کی ضرورت رہتی ہے۔ جتنے زیادہ اچھی سڑکیں پشاور میں ہوں گی اتنی دیر پا ہوں گی اور صوبہ بھر سے آنے والے لوگوں کو اپنے سرکاری و زاتی کاموں کی انجام دہی میں آسانی ہوگی۔ اسی طرح ہسپتالوں میں جتنی زیادہ اور اچھی سہولیات ہوں گی صوبہ بھر کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اور یہ سب تب ممکن ہے کہ وزیر اعلیٰ کوئی بھی ہووہ پورے صوبہ کے لئے ترقیاتی فنڈز مختص کرتے ہوئے صوبائی دارلحکومت کو ہمیشہ ترجیح دے۔
پشاور کی بدقسمتی رہی ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک بہت کم ہی شہر پشاور کا رکن اسمبلی وزیر اعلیٰ بن سکاہے ۔ علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا 18ویں وزیر اعلیٰ ہیں، ان سے پہلے قیام پاکستان کے وقت کانگرس پارٹی کے عبدالجبار خان وزیر اعلیٰ تھے اگست 1947ء کو ان سے وزارت اعلیٰ لے لی گئی۔ پاکستان بننے کے بعد صوبہ شمال مغربی سرحدی صوبہ کے پہلے وزیر اعلیٰ کا منصب سوات سے تعلق رکھنے والے خان عبدالقیوم خان کو دیا گیا اپریل 1953تک وزیر اعلیٰ رہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی پچھلی حکومت کے وزیر محمود خان کا تعلق بھی سوات سے تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے عبدالرشید خان اپریل1953 سے جولائی 1955 تک وزیر اعلیٰ رہے۔ مفتی محمود گیارہ ماہ، عنایت اللہ گنڈاپور تقریباً دو سال اور اب علی امین گنڈہ پور بھی اسی ڈویژن سے ہیں۔ اسی طرح پشاور کے علاوہ دیگر ڈویژنزسے تعلق رکھنے والوں میں ہزارہ سے سردار بہادر خان صرف دو ماہ وزیر اعلیٰ رہے، اقبال خان جدون، پیر صابر شاہ، راجہ سکندر زمان، مہتاب خان عباسی وزیر اعلیٰ رہے۔ مردان وچارسدہ سے فضل الحق، آفتاب خان شیرپائو، میر افضل خان، حیدر خان ہوتی وزیر اعلیٰ کے منصب پر قائم رہے۔ اسی طرح بنوں اکرم خان درانی نے بھی ہمارے پیارے صوبہ پر حکمرانی کی تاہم زیادہ تر ترقیاتی کام ان کے اپنے ڈویژن میں ہوئے اور پشاور دھماکوں سے تہس نہس ہوگیا لیکن اتنے فنڈز نہیں مل سکے کہ کم ازکم اسے پچھلی والی حالت میں لایا جاسکے۔ گو پشاور ڈویژن سے نوشہرہ سے نصراللہ خان خٹک اور پرویز خٹک بھی وزیر اعلیٰ رہے تاہم پشاورشہر سے صرف ارباب جہانگیر خان وزیر اعلیٰ رہے۔ اور ان کے ادوار میں پشاور کو قدرتوجہ رہی۔ پشاورمیں اس وقت وزیر اعلیٰ اور گورنر ڈیرہ اسماعیل خان سے ہیں اور پشاور شہر ان دیرینہ حریفوں کا سیاسی اکھاڑا بن رہاہے۔ ہمارے ان دونوں سے درخواست ہے کہ خدارااپنی سیاست اپنے علاقہ میں رکھیں اورعارضی ہی سہی پشاور کے رہائشی ہونے کے ناطے اس شہر کی رونق اور ترقی بحال کرنے میں مل کر کام کریں مرکز سے زیادہ سے زیادہ فنڈز لیں اور پشاور کے ساتھ ساتھ اپنے علاقہ بلکہ پورے صوبہ کی ترقی کی طرف توجہ دیں۔

مزید پڑھیں:  اثاثے اور لائی بے لی ٹیز