خشت اول کی کجی اصل مسئلہ ہے

عالمی سطح پر یہ اصول کارفرما ہے کہ جب بھی کسی غیر معمولی صورتحال کی وجہ سے متعلقہ ملک کی ایک بہت بڑی آبادی ہمسایہ ملکوں کی جانب نقل مکانی کرتے ہوئے وہاں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہوتی ہے تو عالمی قوانین کے مطابق یہ نقل مکانی عارضی بنیادوں پر ہی ہوتی ہے اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد ان پناہ گزینوں کو واپس اپنے وطن جانا ہی پڑتا ہے ، جبکہ دوران پناہ گزینوں کو میزبان ملک یا ممالک کے قوانین کی پابندی کرنا لازمی ہوتی ہے ، کئی ممالک میں اس قسم کے افراد کو پناہ گزین کیمپوں تک ہی محدود رکھا جاتا ہے تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نہ صرف کڑی نظر رکھی جا سکے بلکہ میزبان ملک کے لئے یہ لوگ کسی پریشانی کا باعث نہ بن سکیں، بدقسمتی سے مگر ہمارے ہمسائے برادرمسلمان ملک افغانستان میں جب ”انقلابیوں” نے حکومت کا تختہ الٹ کر انقلاب ثور برپا کیا تو اس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں افغان باشندوں نے بہ امر مجبوری پاکستان ، ایران اور دیگر ممالک کی جانب ہجرت کرکے وہاں پناہ لی ، ان میں سب سے بڑی تعداد پاکستان آنے پر مجبور ہوئی جبکہ بہت کم تعداد ایران پہنچی ، ایران میں شروع دن ہی سے انہیں نہ صرف شہری آبادیوں سے دور عارضی کیمپوں میں بسا کر ان کی رجسٹریشن کی گئی اور اگر کسی کام سے وہاں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کی کیمپوں سے نکل کر شہری آبادیوں میں آنا پڑتا تو ان کو شام تک یا جتنے وقت کے لئے اجازت نامہ دیاجاتا اس کی پابندی کرتے ہوئے مقررہ دن اور وقت پر لوٹنا اور متعلقہ کیمپ میں رپورٹ کرنا لازمی ہوتا ، اس لئے وہاں آج تک ان افغان مہاجرین کے حوالے سے کسی بے قاعدگی کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ، جبکہ پاکستان میں اس دور کے حکمران فوجی آمر ضیاء الحق کے زبانی احکامات کے تحت ان لاکھوں مہاجرین کو ابتداء میں عارضی کیمپوں میں ضرور رکھاگیا جبکہ وہ لوگ جو ثروت مند تھے اور اپنے ساتھ دولت بھی لائے تھے انہوں نے بنگلوں اور اچھے مکانوں میں رہائش اختیار کرلی جبکہ ان کی رجسٹریشن پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی ضیاء الحق کے احکامات کی وجہ سے ان لاکھوں مہاجرین سے کوئی ”تعرض ” نہ رکھنے کی پالیسی اختیار کی گئی جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ان کے اندر وہاں کے سماج دشمن عناصر کی بھی ایک خاصی بڑی تعداد نے یہاں آکر اور نقل و حمل آسانیوں سے بھر پور بلکہ ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور اس قسم کے سماج دشمن افراد نے غیر قانونی کارروائیاں شروع کر دیں جس کی تفصیل میں جاے کا یہ موقع نہیں ہے کہ عوام ان کی ناکردنیوں کی پوری تفصیل سے اچھی طرح واقف ہیں دوسری جانب جن لوگوں کے پاس کچھ نہ کچھ سرمایہ تھا انہوں نے مقامی مارکیٹوں میں پھیل کر کاروباری سرگرمیاں شروع کر دیں جکہ آہستہ آہستہ اپنے پائوں مضبوط کرنے کے لئے انہوں نے اہم پاکستانی دستاویزات(شناختی کاردڈ ، پاسپورٹ)تک رسائی کے لئے متعلقہ محکموں اور اداروں کے اندر موجود گنتی کے چند بدعنوان عناصر کی مدد سے خود کو پاکستانی شہریت کا حامل بنو الیا ، اور اب دنیا بھر میں پاکستان کے اصل باشندوں کے ساتھ اس قسم کے غیر قانونی دو نمبر کے پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی پاکستانی شناخت کے ساتھ دندناتے پھرتے ہیں جن میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو اپنی غیر قانونی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ادھر ملک کے اندر انہی جعلی دستاویزات کی مدد سے ان لوگوں کی ایک نمایاں تعداد نے پاکستان میں جائیدادیں خریدنے اور کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کی معیشت کے لئے خطرات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرنا شروع کر رکھا ہے ، حد تو یہ ہے کہ ان کی ایک بہت بڑی تعداد نے خود کو ووٹرز کے طور پر بھی رجسٹر کروا رکھا ہے اور انتخابات میں سرگرم رہتے ہیں ، بلدیاتی ، صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے امیدواروں کے طور پر بھی بعض افراد کے سامنے آنے کی خبریں گزشتہ سالوں میں عام رہی ہیں جن کے نتائج باعث تشویش امر ہے ، اب وفاقی حکومت نے افغان باشندوں کی جانجب سے دو ہزار 361 جعلی شناختی کارڈز کے ذریعے گاڑیوں ، جائیداد اور کاروبار وغیرہ رجسٹرڈ کرنے کے بارے میں تحقیقات اور چھان بین شروع کر دی ہے اس حوالے سے وفاق کی سطح پر نشاندہی کرنے کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی غیر قانونی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے افغان باشندوں کے بارے میں تحقیقات کی منصوبہ بندی ایک خوش آئند امر ہے ، اس ضمن میں محکمہ ایکسائز اور محکمہ مال کی جانب سے ریکارڈ فراہم کیا جائے گا جبکہ اسلحہ لائسنس کے بارے میں پولیس کی جانب سے تفصیل فراہم کی جائے گی اسی طرح ایف بی آر اور ایف آئی اے سے بھی مطلوبہ ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ تمام اقدامات اپنی جگہ قابل تحسین سہی لیکن اصل معاملہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ہے اور ان عوامل کی نشاندہی کرکے اس کا مستقل حل ڈھونڈنا ہوگا سیانوں کی اس بات سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ خشت اول چوں نہد معمار کج ، تاثر یامی رود دیوار کج ، اگر ہم پہلے دن ہی سے ایران کی طرح پالیسیاں اختیارکرکے ان بن بلائے مہمانوں کوکسی قاعدے قانون کا پابند بنانے پر سنجیدہ توجہ دیتے تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا مزید یہ کہ ان کو غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈز اور پاسپورٹ کا اجراء ناممکن بنا دیا جاتا تو صورتحال اس نہج پر نہ پہنچتی ، اس ضمن میں نادرا اور پاسپورٹ کے محکموں میں غلط نجشیوں کے ذمہ داران کونشان عبرت بنا دیا جاتا تو یہ خرابی اتنی نہ پھیلتی ، اب بھی جن لوگوں کے بارے میں تحقیقات کے دوان انہیں ناجائز طور پر پاکستانی شناخت دلوانے والوں کی بھی اگر نشاندہی کی جائے تو یہ مسئلہ بہت حد تک سلجھ سکتا ہے ۔

مزید پڑھیں:  کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں!