سنگ آمد سخت آمد

حکومتوں کا کام اپنے عوام کو آسانیاں فراہم کرنا ہوتا ہے مگرشاید پاکستانی قوم دنیا کی وہ واحد قوم ہے جن کو مصائب نے چاروں جانب سے گھیر نے کے باوجود ان کی حکومت سے کسی آسانی کی فراہمی کی امیدیں دم توڑتی جارہی ہیں بلکہ جن مصائب و آلام کا انہیں سامنا ہے ان کو اگر محاورے کے مطابق چہل پائی مسئلہ قرار دیا جائے تو بے جانہ ہو گا ۔ ایک جانب ملک میں بجلی کی کمی کا عوام کوسامنا ہے اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب سہتے سہتے ان کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے مستزاد اس پر روز بروز مہنگی ہوتی ہوئی بجلی نے عوام کے کس بل نکال دیئے ہیں اور خصوصاً کم آمدنی اور تنخواہ دار طبقے کو محدود ہوتی ہوئی آمدنی میں بھاری بھر کم یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی ناممکنات کے دائرے میں سمٹتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ایسے میں اگر کوئی کسی نہ کسی طور کچھ رقم پس انداز کرکے اپنی ضرورت کے مطابق سولر سسٹم سے بجلی کے حصول کو ممکن بنا لیتا ہے تو اب حکومت نے نیٹ میٹرنگ سسٹم پر قدغنیں لگا کر انہیں دوسرے طریقے سے پریشان کرنے کی منفی سوچ ابھر رہی ہے اور خبروں کے مطابق اپنی سولر بجلی پیدا کرنے والوں سے سستے ترین داموں بجلی لے کر واپس مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ، تاکہ بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی آمدن بزور بڑھاکر انہیں عوام کا استحصال کرنے کی کھلی چھوٹ دی جائے یہ ا نتہائی نامناسب فیصلہ ہے اور تقسیم کار کمپنیوں کو اپنی بجلی ملک میں صنعتی اور تجارتی کمپنیوں کومہیا کرنے پر آمادہ کیا جائے تاکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہوسکیں نہ کہ عوام کو عذاب سے دوچار کیا جائے ۔

مزید پڑھیں:  کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں!