بجٹ سے پہلے بجٹ؟

اصولی طور پر تو صوبوں میں بجٹ ہمیشہ وفاق کی جانب سے قومی بجٹ پیش کئے جانے کے بعد ہی متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں پیش کئے جاتے ہیں ، یہ ایک ایسی روایت ہے جس پر ہمیشہ عمل درآمد کیا جاتا ہے ، اور اب کی بار غالباً جون کے پہلے ہفتے میں وفاقی بجٹ کی قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ، اس لئے وفاقی بجٹ کے بعد ہی صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے صوبوں میں بجٹ پیش کرنے میں زیادہ آسانی رہتی ہے کیونکہ وفاقی بجٹ میں صوبوں کو آئینی تقاضوں کے تحت قومی محاصل میں سے ان کے حصے کی نشاندہی کردی جاتی ہے اور صوبے انہی کے مطابق اپنے تخمینے لگاتے ہوئے اپنے اپنے صوبوں میں قومی محاصل میں اپنے حصے اور صوبائی سطح پر متوقع ٹیکسوں کی آمدنی کے مطابق صوبوں کے بجٹ تشکیل دیتی ہیں ، تاکہ سال بھر میں (ماسوائے غیر معمولی حالات ، کسی ناگہانی آفت ، یا دوسری کسی وجہ کے ) اپنی آمدن اور اخراجات کے مطابق کاروبار حکومت کو چلانے کیلئے ضروری فیصلے اور ا قدامات کر سکے ، تاہم اب کی بار خدا جانے وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے وفاقی بجٹ سے پہلے ہی صوبہ خیبر پختونخوا کا بجٹ 24مئی کو پیش کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں ہمیں یاد ہے کہ ایم ایم اے کے دور میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے پن بجلی کے خالص منافع(جو تب تک چھ ارب روپے پر ساقط کیا گیا تھا) کا کیس وفاق کے ساتھ اٹھا کر اعلیٰ سطح پر مذاکرات میں اس بات کی یقین دہانی حاصل کرلی تھی کہ مزید گفت و شنید اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے تک یہ رقم چھ ارب سے بڑھ کر عارضی طور پر آٹھ ارب کر دی جائے گی یوں انہوں نے صوبے کے عوام کو یہ خوشخبری سناتے ہوئے صوبائی بجٹ میں پن بجلی منافع کی رقم آٹھ ارب ظاہر کرتے ہوئے اس حوالے سے اضافی رقم کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کو بھی صوبائی میزانئے میں شامل کیا مگر وفاق نے وعدے کے باوجود اس برس اضافی دو ارب کی رقم دینے میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی ، جس کی وجہ سے صوبائی حکومت احتجاج پر مجبور ہوئی، اگرچہ بعد میں اے این پی کے دور میں پن بجلی کے خالص منافع میں اضافہ اور بقایاجات کی قسط وار ادائیگی کا مسئلہ کسی نہ کسی حد تک آگے بڑھتا رہا مگر یہ سلسلہ اس وقت(خصوصاً بقایاجات) پھر تعطل کا باعث بن گیا جب وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی اور پرویز خٹک کے بعد محمود خان کی صوبائی حکومتیں بھی صوبے کے بقایا جات بسیار کوششوں اور عمران کے زبانی وعدوں کے باوجود حاصل کرنے میں ناکام رہیں ، اب نظر بہ ظاہر تو وفاقی بجٹ سے پہلے صوبائی بجٹ پیش کئے جانے کے پس پشت مقاصد کیا ہیں کیونکہ اس وقت صوبائی وزیر اعلیٰ جس طرح وفاقی حکومت کے ساتھ مختلف معاملات پر ”سینگیں لڑاتے” دکھائی دے رہے ہیں بلکہ نئے گورنر کے ساتھ اصولی طور پر افہام و تفہیم کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے الٹا”مبارزت” پر مبنی رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور دونوں جانب سے دھمکی آمیز بیانات بھی سامنے آچکے ہیں جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا ہائوس اسلام آباد میں گورنر اینکسی پر قبضے او گورنر ہائوس کے ”فنڈز” پر قدغن لگانے کے سخت بیانات کے تناظر میں صوبائی بجٹ کو وفاق کی جانب سے بجٹ پیش کئے جانے سے پہلے پیش کرنے کے مقاصد دو طرح سے ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ وفاقی محاصل اگر خدانخواستہ کم مل جاتے ہیں جبکہ صوبائی بجٹ میں ان کا تخمینہ زیادہ دکھایا جاتا ہے تو اس مسئلے کو وفاق کے خلاف صوبے سے زیادتی قرار دے کر شور و غوغا کیا جائے اور وفاق کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی جائے اس حوالے سے اصل حقائق سے ہٹ کر مبینہ شوشل میڈیا ٹرولز کے ذریعے منفی پروپیگنڈہ یقینا عوام کے ذہنوں میں شکوک ابھارنے کا باعث بنے گا ، جبکہ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس وقت ایک بار پھر سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ سر اٹھا رہا ہے جبکہ بعض خبروں کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے بھی اس حوالے سے حکومت پردبائو بڑھایا جارہا ہے اور پنشنروں تک پر ٹیکس کے نفاذ کی ”افواہیں” سامنے آرہی ہیں ایسے میں اگر وفاقی ملازمین اور پنشنرز کیلئے جو رقم بڑھانے کی سوچ اپنائی جا رہی ہے اگر صوبے میں اس سے زیادہ رقم صوبائی ملازمین اور پنشنرز کیلئے رکھی جاتی ہے تو اس سے وفاقی ملازمین اور پنشنرز قومی سطح پر احتجاج کی راہ اختیار کرسکتے ہیں ، جو یقینا ملک میں بے چینی کا باعث ہو گی ادھر ماہرین کے مطابق وفاقی بجٹ سے پہلے صوبے میں بجٹ پیش کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے او ترقیاتی بجٹ کے لئے اگلے مالی سال میں ضمنی بجٹ لانا پڑے گا بہرحال یہ تو صوبائی حکومت ہی بہتر جانتی ہے کہ وہ کن وجوہات کی بناء پر اور کن مقاصد کے حصول کیلئے وفاق سے پہلے صوبائی بجٹ پیش کرنے کی سوچ اپنائے ہوئے ہیں اور اگر ماہرین کے مطابق بعد میں ضمنی بجٹ لانا ضروری ہوگا توپھراتنے پاپڑ بیلنے کی ضرورت ہی کیا ہے ، ہر بات میں انا اور ضد سے کام لینا دانشمندی نہیں ہے اور اس بارے میں تمام عواقب و عوامل کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

مزید پڑھیں:  کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں!