چوں کفر از کعبہ برخیزد۔۔۔

پابندی کے باوجود اور یہ پابندی آج کی نہیں بلکہ کئی سال قبل پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے لگائی گئی ہے صوبائی اسمبلی کے باہر سورے پل میں جسے اب جسٹس چوک کا نام دے دیا گیا ہے احتجاجی دھرنوں اور مظاہروں کے باعث پشاور میں ٹریفک کا نظام شدید طور پر متاثر ہو کر درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے ، یہ وہ بنیادی پوائنٹ ہے یا بہ ا لفاظ دیگر پشاور کے ٹریفک نظام کی ”شہ رگ” ہے جسے بند کرنے سے پورے شہر میں پہیہ چند منٹوں کے اندر جام ہو کر پورے شہر کو معلق کر دیتا ہے بدقسمتی سے پہلے عوام اور بعض گروپس ، یا پھر مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین اپنے مطالبات منوانے کے لئے اس ا ہم پوائنٹ کو بلا ک کرکے شہر کوبند کر دیتے تھے جن کو منتشر کرنے کے لئے پولیس حکام حرکت میں آجاتے تھے مگر اب تو اہم اداروں یعنی بلدیاتی نمائندے اور دیگر افراد بھی احتجاج کے لئے اسی مقام کا انتخاب کرتے ہیں حالیہ دنوں میں کچھ ایسی ہی صورتحال کا پشاور کے شہریوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ٹریفک کے نظام کو شدید مشکلات سے دوچار کرکے روز مرہ کے معاملات کو نمٹانے میں عوام اور خاص طور پر طلبہ کے لئے مسائل کھڑے کئے وہ یقینا قابل تشویش امر ہی قرار دیا جاسکتا ہے ، اس صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی کی عمارت کو کسی دوسری موزوں جگہ منتقل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے اور عوامی احتجاج کے لئے کسی کھلے میدان کو مختص کیا جائے اس کے بعد اگر کوئی شہریوں کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کرے تو انہیں کڑی سزا دی جائے تاکہ عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس”سنگین مذاق” کا مداوا ممکن ہوسکے۔

مزید پڑھیں:  خیبر پختونخوا کی مسلسل حق تلفی