گندم سکینڈل ۔۔ نگران حکومت کو کلین چٹ؟

نگراں دور حکومت میں اضافی گندم درآمد کرنے کے سکینڈل میں ذمہ داروں کا تعین کرلیا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق نگراں دورِ حکومت کے کسی بھی اہم ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی تاہم وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کے4افسروں کو معطل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افسروں پر ناقص منصوبہ بندی اور غفلت برتنے کا چارج لگایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سرپلس گندم امپورٹ سے ملک میں گندم کی مارکیٹ کریش ہوئی۔سابق نگران حکومت کے دور میں سامنے آنے والے گندم سکینڈل میں ”ذمہ داروں” کا تعین کرتے ہوئے نگران حکومت کوکلین چٹ دینے اور چار افسروں کو معطل کرنے کے اقدام کے حوالے سے سوالات ابھرنا ایک فطری امر ہے ، اس میں قطعاً شک نہیں کہ کسی بھی منصوبے کی فائل پر متعلقہ اداروں یا محکموں کی جانب سے پیش رفت کی جاتی ہے اور تجاویز کو دستاویزی صورت میں آگے بڑھایا جاتا ہے جبکہ متعلقہ فائلوں پر ذمہ داری سرکاری حکام ہی تحریری صورت میں آراء دے کر حتمی منظوری کے لئے متعلقہ وزارت تک پہنچاتے ہیں اس لئے اگر کسی منصوبے کی منظوری لی بھی جاتی ہے تو تجاویز ”نیچے” سے اوپر کی سطح تک لانے میں ذمہ داروں کا تعین انہی فائلوں پر مختلف مراحل میں ”رد و قدح” کے اصولوں کے تحت تجاویز دینے والوں کو ان کی ذمہ داری سے مبرا نہیںکیا جا سکتا ، لیکن فائنل اتھارٹی کی منظوری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا چونکہ اس سکینڈل کی ذمہ داری سابق نگران وزیر اعظم نے خود اپنے بیانات کے ذریعے اٹھائی ہے اس لئے نگران کابینہ کو کلین چٹ دینے سے پہلے یہ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ فائل کو آگے بڑھانے والوں نے تجویز کی منظوری سے پہلے ملک میں گندم کی وافر مقدار میں موجودگی اور چند ہی ہفتوں بعد نئی فصل کے آنے کے حوالے سے کوئی وضاحت دی تھی یا پھر مبینہ طور پر گندم مافیا کے آنکے میں پھنس کر اور (کسی ممکنہ لالچ کی وجہ سے اس منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے کابینہ کو اصل حقائق سے بے خبر رکھا ؟ جب تک اس بات کا تعین نہیں ہوتا اس سکینڈل پر سوال اٹھتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں:  قابل فخر و تقلید