جنابِ نوازشریف!گریوں ہوجائے تو ۔۔؟

مسلم لیگ ن کے قائد (چنددنوں ایک بار پھر صدر بننے والے )سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے مسلم لیگ(ن)کی مرکزی مجلس عملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شکوئوں شکایات کے دفتر کھول دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے قوم سے بھی گلہ ہے کہ مجھے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا گیا اور وہ خاموش رہی۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ ان کے پاس سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو محفوظ ہے جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز کو جیل میں رکھنا ہے تاکہ عمران خان کو لایا جاسکے۔ انہوں نے 2014 کے دھرنے سے قبل بنی گالہ میں عمران خان سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی نے اس ملاقات میں مجھے تعاون کا یقین دلایا چند دن بعد وہ لندن میں جنرل ظہیرالاسلام، طاہر القادری اور پرویزالہی سے ملے اور پھر ہماری حکومت کے خلاف دھرنے شروع کردیئے۔ بانی پی ٹی آئی نے میری کمر میں چھرا گھونپا۔ انہوں نے خود کو تین بار منصب سے ہٹائے جانے اور 2 بار اپنی حکومتوں کے خاتمے پر بھی متعدد سوالات اٹھائے یہ بھی کہا کہ ملک کو تباہ کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ نواز شریف نے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا نقوی بھی اب نیب کو بھگتے اور بتائے کہ اس نے اتنی دولت و جائیدادیں کیسے بنائیں۔ ادھر سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نوازشریف کے پاس کوئی آڈیو ہے تو سامنے لائیں۔مسلم لیگ (ن)کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خطاب کے سامنے آنے والے مندرجات پر فی الوقت یہی کہا جاسکتاہے کہ وہ خود سے روا رکھے گئے سلوک سے لگے زخموں کی کسک اب تک محسوس کرتے ہیں۔ بہتر ہوتا اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپنے مخالفین کی بیخ کنی کے پروگرام میں شرکت اور اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر مخالفین کے خلاف مقدمات کی بھرمار کرنے کا بھی عوامی سطح پر اعتراف کرتے۔ انہیں قوم کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ وہ میمو گیٹ سکینڈل میں کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ کس کی خوشنودی کیلئے گئے یا یہ کہ میثاق جمہوریت پر دستخط کے باوجود وہ اور ان کی جماعت پی سی اور ججز کے ایک گروپ کی بحالی کو آزاد عدلیہ کی ضمانت کیوں سمجھتی تھی۔ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ کیری لوگر بل کے معاملے میں وہ اور ان کی جماعت سول حکومت کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیوں کھڑی ہوئی یہی نہیں ججز تقرری اور نیب قوانین میں ترمیم کے معاملے پر بھی انہوں نے جمہوری پارلیمنٹ کا ساتھ دینے کی بجائے ججز کے افتخار چودھری گروپ کی ضرورت اوراس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ کی بریفنگ پر پینترا بدلتے ہوئے اپنے نامزد اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان کو آگے کردیا۔ مروجہ سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے قائدین جب خود سے ہوئے سلوک اور زیادتیوں کی اشک بار کہانیوں سے اپنے حامیوں کے جذبات ابھار رہے ہوتے ہیں تو عین اس وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ راج محل میں ہونے والی بعض سازشوں میں ان کا کردار کیا تھا؟ جناب نوازشریف تین بار خود کو منصب سے ہٹائے جانے پر شاکی و برہم ہیں ان کا گزشتہ روز کا خطاب بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ پھانس ابھی جگر میں ہے۔ وہ بعض کرداروں کو بھولے نہیں سوال یہ ہے کہ ماضی کے معاملات کو اگر چھوڑ بھی دیا جائے تو ان کی جماعت اور اتحادیوں نے 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاکر اس اسٹیبلشمنٹ کو محفوظ راستہ کیوں دیا جو سیاسی کارکنوں کی نصف صدی کی جدوجہد اور اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے نہ صرف دس قدر پیچھے ہٹ چکی تھی بلکہ وضاحتوں میں مصروف تھی؟ اس امر پر دو آرا نہیں کہ ان سے 2017 میں زیادتی ہوئی لیکن اگر انہوں نے سپریم کورٹ کو خط لکھنے کی بجائے پارلیمانی کمیشن بنانے کی تجویز مان لی ہوتی تو نتیجہ مختلف ہوتا۔ بدقسمتی سے وہ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ احسان مندی سیاسی فہم اور جدوجہد سے زیادہ اہم ہے۔ہماری دانست میں انہیں اور ان کی جماعت و اتحادیوںکو 2022ء کے کرداروں کو بھی کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا بظاہر انہوں نے یہ مطالبہ اس لئے نہیں کیا کہ پھر انہیں بھی قوم کو بتانا پڑتا کہ 2013 میں ان کے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کیا طے پایا تھا اور نتائج والی شام انہوں نے دو تہائی اکثریت کس سے مانگی تھی؟ اس امر پر دو آراء نہیں کہ پانامہ میں بلاکر اقامہ اور تنخواہ نہ لینے کو جرم قرار دے کر انہیں دی گئی سزائیں درست نہیں تھیں ان سزائوں کے نا درست ہونے کا ثبوت سپریم کورٹ کے ایک سابق عزیز جج میں ان کے خاندان کیلئے بھری نفرت بھی کارفرما رہی پھر اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کا نظریہ ضرورت اور تیسری قوت کے معاملے پر اتفاق رائے بھی تھا لیکن اگر اس وقت بھی وہ جرات رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے پاس جاکر اپنا مقدمہ پیش کرتے تو منصوبہ سازوں کو لینے کے دینے پڑجاتے ۔ بہرحال انہیں ثاقب نثار والی آڈیو سمیت دیگر ثبوت قوم کیسامنے رکھنا ہوں گے مگر اس سے قبل مختلف مواقع پر اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کاری کے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ یہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو۔ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ نیز یہ کہ وہ عوام کے درمیان کھڑے ہوکر عہد کریں کہ وہ اور ان کی جماعت مستقبل میں اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کاری سے ا جتناب برتیں گے۔ یقینا یہ عہد دوسری سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی کرنا چاہیے۔ یہاں ایک بات کی جانب ان کی توجہ دلانا ضروری ہے کہ اکتوبر 1999ء میں جنرل مشرف رجیم نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا عوام اس پر خاموش نہیں بیٹھے تھے۔ عوامی ردعمل کی طاقت کو انہوں نے جدوجہد کا ہتھیاربنانے کی بجائے دس سالہ معاہدہ جلاوطنی کا ذریعہ بنایا تھا۔ کاش کبھی وہ اپنے اس نادرست فیصلے کا تجزیہ کریں جس کی وجہ سے جمہوری عمل کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جناب نوازشریف مندرجہ بالا نکات پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے یہی نہیں بلکہ مستقبل میں اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار نہ بننے کا دوٹوک اعلان بھی کریں گے۔ امید تو نہیں کہ بڑے میاں صاحب جرات رندانہ سے کام لیں گے پھر بھی عرض کرنے میں کیا ہرج ہے۔

مزید پڑھیں:  خیبر پختونخوا کی مسلسل حق تلفی