نانبائیوں کے سامنے اتنی بے بسی؟

پشاور میں آٹے کی قیمت میں کمی کے باعث انتظامیہ نے ڈبل روٹی، بسکٹ اور سموسے کی قیمتوں میں کمی کردی ہے ۔لیکن دیکھا جائے تو یہ میدے کی قیمت میں کمی کی شرح کے مطابق نہ بلکہ یہاں بھی عوام کی بجائے بیکری مالکان کے مفادات کا خیال رکھا گیا ہے دوسری جانب پشاور میں نابنائیوں نے 120گرام کے بجائے سو گرام روٹی فروخت کرنا شروع کر دیا ہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے روٹی کا وزن دس گرام کے اضافہ کے ساتھ120گرام پندرہ روپے اور تیس روپے والی روٹی کا وزن 220گرام کر دیا ہے تاہم پشاور کے نابنائیوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نرخنامہ پر عمل درآمد سے انکار کردیا ہے ۔ پنجاب میں روٹی کی قیمت میںایک بار کمی کے بعد اب دوسری مرتبہ بھی ایک روپے کی مزید کمی کر دی گئی ہے اور اس پر عملدرآمد کے حوالے ے شکایات قابل ذکر نہیں لیکن خیبر پختونخوا میں معاملہ الٹ ہے یہاں جب انتظامیہ نے سنگل روٹی کی قیمت اور وزن کا تعین کیا تو اس پر ایک دن بھی عملدرآمد نہ ہوا اور نانبائیوں نے ڈبل روٹی کے نام پر کم وزن روٹی کی فروخت کا وتیرہ اپنا لیا آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اور قابل ذکر کمی کے باوجود روٹی کا وزن کم اور قیمت ڈبل کی وصول ہورہی ہے پشاور میں120 گرام کی روٹی دستیاب ہی نہیں اور جوڈبل روٹی فروخت ہو رہی ہے اس کا وزن240گرام کی بجائے دو سو گرام ہی ہو گاجو اپنی جگہ خلاف قانون امر ہے بہرحال نانبائیوں کا حکومتی نرخنامے پرعملدرآمدسے انکار اس اعلان کی سراسر نفی اور حکومت کو چیلنج ہے جس میں وزیر اعلیٰ نے صریح الفاظ میں” اس پر عملدرآمد کرکے دکھائیں گے” کا دعویٰ کیا تھا ستم بالائے ستم یہ کہ ضلعی انتظامیہ نے چپ سادھ رکھی ہے اور نانبائیوں کو کھل چھٹی دے دی گئی ہے کم وزن روٹی کی فروخت کی روک تھام کے لئے ڈیجیٹل ترازو کے استعمال کو لازمی بنانے کے بار بار مطالبات کے باوجود انتظامیہ اس پرعملدرآمدسے اس لئے ہچکچا رہی ہے کیونکہ ان کو بخوبی علم ہے کہ اس طرح صارفین کے الزام کی تصدیق ہوگی اور انتظامیہ خود کٹہرے میں کھڑی ہوگی صوبے میں نانبائیوں کے سامنے حکومتی عملداری کے ہیچ ہونے کا سوال جس شدت سے اٹھ رہا ہے اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو بہت جلد یہ مسئلہ حکومت کی عملداری پر سنگین سوالات کا باعث بنے گا اس کا نوٹس لیا جانا چاہئے کہ ضلعی انتظامیہ نانبائیوں کے سامنے بے بس کیوں ہے اور کیا اس کی ذمہ داری محض ایک اعلان کے بعد ختم ہوجاتی ہے یا پھر اس پرعملدرآمد کی ذمہ داری کا بھی احساس کیا جائے گا بیکری اور تندور مالکان سے اگر نرخنامے کی پابندی نہیں کرائی گئی تو دیگر معاملات میں حکومت سے کیا توقع رکھی جائے ۔

مزید پڑھیں:  کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں!