آئی ایم ایف کا شکنجہ

حکومت اس وقت وفاقی بجٹ کی تیاروں میں مصروف ہے اور مختلف اشیاء پر ٹیکس چھوٹ سے عوام کو کسی نہ کسی حد تک ریلیف دینے کے حوالے سے سوچ اپنا کر آنے والے بجٹ کو” عوام دوست” بنانے کیلئے کوشاں ہے مگر عین اسی وقت جب ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کیلئے ایک طرف دوست ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کی توقع لگائے بیٹھی ہے جبکہ آئی ایم ایف سے بھی بیل آؤٹ پیکج کیلئے مذاکرات بھی جاری ہیں تاکہ بیل آؤٹ پیکج کے اعلان سے دوست ممالک کی سرمایہ کاری میں بھی آسانیاں اور سہولتیں پیدا ہو جائیں کیونکہ جب تک آئی ایم ایف اور ممکنہ خزانہ کے حکام کے مابین مذاکرات کسی منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات بھی روشن نہیں ہو سکتے، تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے تمام اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کی شرط نے حکومت کو ایک ایسی الجھن سے دوچار کر دیا جسے بظاہر چھٹکارا پانا اگر ناممکن نہیں تو بہت ہی مشکل ضرور ہو گیا ہے، آئی ایم ایف نے تمام اشیائ( ما سوائے اشیاء خور دونوش) پر 15 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی جو شرط عائد کر دی ہے اس سے جہاں بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کا خواب چکنا چور ہو جائے گا وہاں مزید مہنگائی سے عوام کی چیخیں ساتویں آسمان سے جا ٹکرائیں گی اور زندگی کی ہر سہولت اتنی مہنگائی کی زد میں آ جائے گی کہ اس تک رسائی تقریباً ناممکنات کے دائرے میں داخل ہو جائے گی، علاوہ ازیں اخباری اطلاعات کے مطابق بیل آؤٹ پیکج میں بجلی، گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا جس کا اثر بہ الفاظ دیگر زندگی کے ہر شعبے پر پڑنے کے امکانات لازمی اور لا بدی ہو جائیں گے اور مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آئے گا جس کے آگے بند باندھنے کی کوششیں بہت مشکل ہو جائیں گی، آئی ایم ایف اس قسم کے احکامات یا شرائط سے حکومت کے ہاتھ پیر باندھنے کی کوششیں کر رہا ہے اور اگر اس نے کوئی لچک دکھانے سے انکار کر دیا تو عوام پر مہنگائی کا اتنا دباؤ پڑے گا کہ اسے کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہے گا، بصورت دیگر اگر حکومت اتنی سخت شرائط پر عمل کرنے سے انکار کرتی ہے تو آئی ایم ایف مزید قرضے دینے سے انکار کر کے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو ناکام بنا کر (خدانخواستہ)پاکستان کی معیشت کو ناکام بنانے اور پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے کے خطرات سے دوچار کر سکتا ہے جبکہ آئی ایم ایف سے قرض نہ ملنے کی صورت میں دیگر دوست ممالک جو سرمایہ کاری کیلئے آمادہ ہیں وہ بھی بظاہر( ضمانتیں نہ ملنے کی وجہ سے) اپنی سرمایہ کاری روک سکتے ہیں، ایک جانب یہ صورتحال ہے اور دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اپنے تازہ بیان میں جو صوبائی بجٹ پیش ہونے کے بعد سامنے آیا ہے کہا ہے کہ وہ صوبے کے عوام پر ٹیکس اپنی مرضی سے لگائیں گے ،گویا بہ الفاظ دیگر ان کے الفاظ کو یوں بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نافذ کردہ ٹیکسوں کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ،جو یقینا ملکی مفاد میں کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا، اس قسم کے بیانیے کو ” پاپولسٹ سیاست” کے مطابق تو سمجھا جا سکتا ہے لیکن اصولی، اخلاقی اور قانونی تقاضوں کے مطابق درست قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لئے کہ اگر صوبائی حکومت ٹیکسوں کے نفاذ کو اپنے تابع فرمان قرار دیکر ان میں من پسند تبدیلیوں اور رد و بدل کو جائز تصور کرتی ہے تو پھر این ایف سی ایوارڈ کے مطابق قومی محاصل میں سے اپنے حصے سے (بوجوہ) کم آمدن ملنے یا وفاق کی جانب سے ایوارڈ میں کسی ممکنہ کمی بیشی کو کیسے چیلنج کر سکے گی؟، بہرحال یہ تو ہمارا اندرونی مسئلہ ہے اور اس کا حل باہم گفت و شنید اور افہام و تفہیم سے تلاش کیا جا سکتا ہے لیکن اس قسم کے بیانات سے بہر طور آئی ایم ایف کے ساتھ کسی بیل آؤٹ پیکج کی ڈیل کے فائنل ہونے میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اس حوالے سے ایک اہم سیاسی رہنماء کے سابقہ کردار ،خاص طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ قرضوں کی فراہمی کے معاملات کو سبوتاژکرنے اور پاکستان کو( خدانخواستہ) ڈیفالٹ کرنے کی پالیسیوں پر تبصرہ کرنے سے قطع نظر اب بھی اس حوالے سے ”خطوط” لکھ کر قرضے کی فراہمی کے معاملے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو کسی بھی لحاظ سے قوم و ملک کے مفادات کے مطابق قرار دینا تو درکنار اس سے ملکی مفادات کے خلاف قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا ،بہرحال یہ جو عوام کو مختلف مدات میں ریلیف پرقدغن لگانے اور تمام اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی شرائط سے عوام کا گلہ گھونٹنے کی شرائط عائد کی جا رہی ہیں، حکومت لاکھ اسے بہ امرمجبوری قوم کے مفادات کے مطابق قرار دے، اس کے نتائج خود حکومت کے مفاد میں شاید نہ ہوں کیونکہ اس اقدام سے عوام پر بے پناہ مہنگائی مسلط ہونے کے بعد موجودہ حکومت کیخلاف احتجاج کی صورت ابھرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکے گا، خصوصا ًجب ابھی حال ہی میں آزاد کشمیر میں غیر معمولی صورتحال اور اجتماع کے باعث جس طرح بجلی کی قیمت انتہائی کم اور ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کے برعکس باقی ملک میں جس طرح بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، خصوصا ًخیبر پختونخوا میں سوشل میڈیا پر پن بجلی کے حوالے سے ٹرینڈز چل رہے ہیں اور ڈیمز کی ملکیت کے دعوؤں کے بعد یہاں بھی بجلی3روپے یونٹ کے علاوہ فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے خاتمے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں جبکہ اس صورتحال کے برعکس کہ عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف ملے ،آئی ایم ایف اپنا دباؤ بڑھا کر بجٹ کی تیاری میں روڑے اٹکانے کی کوششیں کر رہا ہے جس کے مقاصد واضح ہو رہے ہیں اور وہ حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر پاکستان میں کیا کھیل کھیلنا چاہتا ہے اس بارے میں سوچنے کے حوالے سے زیادہ تردد کی ضرورت نہیں ہے ،بہرحال دیکھتے ہیں کہ حکومت اس گنجل سے کیسے باہر نکلتی ہے اور انے والے بجٹ میں عوام کو ریلیف دیتی ہے یا پھر آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت عوام پر مزید مہنگائی تھونپتی ہے۔

مزید پڑھیں:  بجٹ اور معاشی حقائق