سخت گرمی اور بدترین لوڈ شیڈنگ

خیبر پختونخوا بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور میں شدید ترین گرمی اور طویل ترین لوڈ شیڈنگ بلکہ بجلی کی غیر اعلانیہ طویل بندش کے یکجا ہونے سے شہریوں کی سخت مشکلات بالخصوص ضعفاء معصوم بچوں خواتین اور بالعموم سارے شہریوں کی تکلیف کا اندازہ کچھ مشکل اس لئے نہیں کہ سوائے حکمرانوں اور شمسی توانائی کے متبادل انتظام کرنے والوں کے سبھی کا اس سے واسطہ ہے بجلی چوری کی روک تھام کے لئے وفاق کی جانب سے اقدامات کی مخالفت و ممانعت کے صوبائی حکومت کے اقدام کے موقع پر ہی اس طرح کی متوقع صورتحال کی پیشگوئی کی گئی تھی جو درست ثابت ہوئی نیز ممبر صوبائی اسمبلی کا گرڈ سٹیشن میں داخل ہو کر زبردستی بجلی کی بحالی اور بل کی ادائیگی کی شرح کم ہونے کے باعث پیدا شدہ صورتحال بھی بجلی کی طویل بندش کی ایک ممکنہ وجہ ہے وزیر اعلیٰ کا بھی بجلی بٹن بارے بیان جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف تھا لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ اب گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا وزیر داخلہ اور وزیر پانی و بجلی کی جوملاقات ہوئی ہے اس میں قانون کے مطابق مشاورت کے ساتھ یقینا کوئی طریقہ کار وضع کیا گیا ہوگا جس کے بعد صوبے میں لوڈ شیڈنگ کے اعلانیہ دورانیہ کی پابندی کی توقع ہے لیکن صارفین کو بل کی ہر حال میں ادائیگی کرنی ہو گی ورنہ مفت کی بجلی زبردستی زیادہ دیر حاصل نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پشاور میں گرمی کی شدت میں اضافہ کیساتھ ہی لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اندرون شہر پشاور سمیت ضلع بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8سے 12گھنٹے سے بھی تجاوز کرگیا ہے پشاور میں بجلی لوڈشیڈنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی رات گئے اچانک بجلی بندکردی جاتی ہے جو تین سے چار گھنٹے تک بند رہتی ہے موسم کی قہرمانیاں بھی کچھ کم نہیں خیبر پختونخواکے میدانی اضلاع بشمول پشاورمیں شدید گرمی اورلوچلنے سے اگلے پچھلے تمام ریکارڈٹوٹ گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گی۔ آئندہ 48گھنٹوں کے دوران درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ سے متجاوز کرنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان شہریوں کے لئے محکمہ موسمیات پر ذی روح کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجادی ہیں۔پاکستان پہلے ہی ہیٹ ویو سے نمٹ رہا ہے جس نے 21 مئی سے 26 اضلاع کو متاثر کیا ہے، وزارت موسمیاتی تبدیلی کا کہنا ہے کہ یہ محض آغاز ہے۔ یہ لہر، جو 30 مئی تک جاری رہے گی، اس کے بعد جون میں مزید دو لہریں آئیں گی، جو پہلے سے ہی سنگین صورتحال کو مزید تیز کرتی ہیں۔ درجہ حرارت معمول سے پانچ سے چھ سینٹی گریڈتک بڑھنے کی توقع ہے، دوسری ہیٹ ویوسات ، آٹھ جون اور تیسری مہینے کے آخری ہفتے میں ہوگی۔امر واقع یہ ہے کہ غیر پائیدار ماحولیاتی طریقوں نے گرمی کی لہروں کی تعدد اور شدت میں اضافہ کیا ہے۔ یہ سخت حالات نہ صرف انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ یہ گلیشیئر پگھلنے میں بھی تیزی لاتے ہیں اور جنگل میں آگ لگنے کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ حکومت نے صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے کئی اقدامات کیے ہیں۔ جامع رہنما خطوط اور ابتدائی انتباہات کو پھیلا دیا گیا ہے، جس کا مقصد 2015 کی ہیٹ ویو کی تباہ کن ہلاکتوں کو روکنا ہے۔ لوگوں کو صحت کے خطرات اور ضروری احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی مہم جاری ہے۔ مزید برآںاین ڈی ایم اے قدرتی آفات سے بروقت ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی محکموں کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔ان کوششوں کو، اگرچہ قابلِ ستائش قرار دے کر تجویز دی جا سکتی ہے کہ ان کو مزید تقویت دی جانی چاہیے۔البتہ اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ حکام کو آب و ہوا کی تبدیلی کے طویل مدتی اثرات کو کم کرنے کے لیے جارحانہ جنگلات کے ذریعے سبز احاطہ کو بڑھانے کو ترجیح دینی چاہیے۔ شدید گرمی کو بہتر طریقے سے برداشت کرنے کے لیے شہری انفراسٹرکچر کو بڑھانا اور گرمی کے شدید دور میں پانی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی صلاحیتوں کو بڑھانے کی بھی فوری ضرورت ہے۔ ریئل ٹائم الرٹس اور ایڈوائزریز کے لیے این ڈی ایم اے کی موبائل ایپلیکیشن تیار کرنا اور اسے فروغ دینا عوامی تیاریوں کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے مزید کولنگ سینٹرز کے قیام اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کو بڑھانے کے کام کو تیز کیا جانا چاہیے۔ کھلے آسمان تلے محنت کرنے والے مزدوروں کو پانی کے وقفے اور موسم گرما کے موافق اوقات کے ساتھ مناسب خیال رکھا جانا چاہیے۔ کمیونٹی کی سطح پر، لوگوں کو غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے، کمزور افراد جیسے بچے، بوڑھے، اور صحت کی حالت میں مبتلا افراد کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ آسان اقدامات، جیسے ہائیڈریٹ رہنا، ڈھیلے کپڑے پہننا، اور گھروں کو ٹھنڈا رکھنا، گرمی سے متعلق بیماریوں کو روک سکتے ہیں۔ کھلے مقامات پر آتش گیر مواد کو ٹھکانے لگانے سے گریز کرتے ہوئے جنگلات میں لگنے والی آگ کو روکنے میں کمیونٹیز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مزید برآں، درخت لگانے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے مشترکہ کوششیں درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ باہمی تعاون کے ساتھ، ہم موسم کے ان شدید واقعات کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:  رعایا پر بجٹ حملہ