ہم غلام ہیں!!

ملک میں سیاسی معاملات کی ہماہمی سے اب دل اکتا گیا ہے ، ایک قوت تھا کہ اس سیاسی منظر نامے پرنظریں جمائے رکھنا ، اب کیا ہونے والا ہے کہ تمہید باندھنا اور پھراپنی پیشگوئی کو مجسم ہوتے دیکھنے میں بڑی تسکین تھی ۔ کئی بار امید بھی جاگتی تھی ، کبھی جذبے بھی سر چڑھ کر بولتے تھے ، مسیحا کا ا نتظار بھی رہتا تھا اور یہ یقین تھا کہ ایک دن اس ملک کے دن سنہرے ہونگے اور اس ملک کے کھلیان سونااگلیں گے ، اس ملک سے محبت ہماری رگوں میں خون کے ساتھ دوڑتی تھی اور اگر کوئی اس ملک کے خلاف بات کرتا یایہ کہتا کہ یہاں کیا رکھا ہے تودل چاہتا کہ اس سے پھر کبھی نہ ملیں ، میری کئی دوستیاں اسی جذبے کی نذر ہوئیں کہ مجھے اپنے وطن کے خلاف کوئی بات سننی گوارا نہ تھی ، کئی بار یہ محبت میرے کسی فیصلے ، کسی اقدام کی کسوٹی بھی بنی لیکن میں اپنی محبت میں گم رہی اور اب جب عمرمیں ٹھرائو آنے لگا ہے یہ محبت اب بھی قائم ہے بس اب اچھے دنوں کی امید میں بھی اک ٹھہرائوسا ہے ، کچھ خاموشی ہے ، وہ جذبے جو ہر وقت ہاتھ تھامے گھوما کرتے ہیں ، میرے ساتھ ہی زندگی کے اس باغ میں بینچ پر آبیٹھے ہیں وہ کئی بار مجھ سے سوال کرتے ہیں کیا ہمیں اب خاموش ہونا جاناہے یونہی کسی کونے میں بیٹھ کر انتظار کرنا ہے کہ کب یہ دھوپ ڈھلے ، شام کی کوئی خنک ہوا ہمارے لئے اس کڑکتی دھوپ سے کچھ سکون فراہم کرے تو ہم پھر کسی آنگن میں کھیلیں پھر کسی کا ہاتھ تھامیں ، ابھی تو اس دھوپ میں پائوں جلنے لگی ہیں ، یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ، جو لوگوں کو اچھے دنوں کی امید دلاتے ہیں لیکن ان کے لہجوں میں سچائی ، امید کچھ بھی تو نہیں اور ان کے چہروں کے بہروپ بھی اس گرمی میں پگھل کرڈھلک گئے ہیں اب ان کے نین نقش کی بدصورتی اوربہروپ کاڈھل جانا ، سب مل کر ایک خوفناک منظر تشکیل دیتا ہے ، اب محبت کے لئے کوئی راہ نہیں بچی اب اس محبت کے لئے کسی امید کے سایہ دار درخت کی چھائوں بھی میسر نہیں ، کیا ہو گا کیا اب یہ خاموشی خلا بن جائے گی اور ہماری اولادیں آنکھوں میں مستقبل کی خواہش لئے کسی اور ملک کسی اور صبح کی جانب دیکھیں گے وہ ملک وہ صبحیں جو ان کی نہ ہوں گی اور جوانہیں دھتکاریں گے ، جو کبھی انہیں اپنانے کے لئے تیار نہ ہونگے ، جن کے لئے ان کی کوئی اہمیت نہ ہوگی ، میں ان کی باتیں سن کر سر جھکالیتی ہوں ، یہ غم تو میرے دل میں بھی شب و روز پلتا ہے ، میں اپنا محاسبہ کرنا چاہتی ہوں لیکن اس کی بھی تو ہمت نہیں ، اس ملک کے لئے میں کچھ نہ کر سکی اگر کچھ کرسکتی تو آج میرے بچوں کے لئے مستقبل کا ایک دن ہی سہی روشن تو ہوتا ۔ میرے بچے اس ملک سے بے لاگ محبت تو کرتے لیکن اس ملک کے دامن میں بھی انہیں دان دینے کو کچھ روپہلی کرنیں ہوتیں ، لیکن ایسا نہیں ہیں ، وہ جنہوں نے دنوں ہاتھوں سے اس ملک کو لوٹا ، وہی سیاست دان اب یہ ملک نوچنے کھسوٹنے کے لئے اپنی اولادوں کو تھما رہے ہیں وہی لوگ جو اس ملک کی تقدیر کو سیاہ روشنی سے تحریر کرتے رہے آج بھی لوگوں میں افیون کی پڑیاں بانٹ رہے ہیں اور وہ جن سے یہ امید تھی کہ یہ مسیحائی کریں گے ان کے دامن بھی خالی ہیں ، خالی لفظ ، کھوکھلی باتیں اور بے بسی ، کیونکہ کسی کے اختیار میں کچھ نہیں وہ جنہیں یہ دوش دیا جاتا ہے کہ سب انہی کی انگلیوں کے گرد لپیٹا ہے وہ بھی تو خاموش غلام ہیں ، ہم انہیں طاقتور سمجھتے ہیں اور کبھی کبھی وہ بھی خود کو طاقتور سمجھنے لگتے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ جہاں شام کاکھانا قرض سے آتا ہے اس گھر میں جوان بھی کبھی تنو مند نہیں ہوتا اور سینہ تان کر نہیں چلتا ، جہاں باپ روگی ہو وہاں کبھی کوئی صبح کھنکناتی ہوئی طلوع نہیں ہوتی اس گھرمیں کبھی مستقبل اور امید کی کوئی کرن آنگن میں نہیں اترتی ہم غلام ہیں ، جناب عمران خان کہا کرتے تھے ”ہم کوئی غلام ہیں” ان کی پالیسیوں سے کئی بار اختلاف بھی ہوا اور کئی بار ان کے اہل جماعت کی نا اہلی پر بہت مایوسی ہوئی لیکن یہ جملہ مجھے اچھا لگتا تھا کیونکہ اس میں امید تھی کہ ہم غلام نہیں لیکن حقیقت تو کچھ اور ہی ہے ہم واقعی غلام ہیں ہم بھی ہمارے سیاستدان ، ہمارے حکمران ، ہمار ے طاقتور ، ہمارے زور آور ہم سب ، سب کے سب غلام ہیں ، ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں کیونکہ ان کے لئے دیئے پیسے کے بغیر ہمارا دن نہیں ڈھلتا ، ہم اپنی خواہشات کے غلام ہیں جن کے لئے ہم ہر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں ، ہم اپنی بھوک کے غلام ہیں کہ ہمارے لئے قرض کا دسترخوان بہت اہم ہے ، ہم اس نفرت کے غلام ہیں جو ہم ایک دوسرے سے بے وجہ محسوس کرتے ہیں اور اس کازہر لفظوں سے اپنے اردگرد پھیلاتے ہیں حالانکہ نفرتوں کازہر جو انب کوختم کرتا ہے ، ہم ایک غلام ملک میں رہتے ہیں جہاں غلامی در غلامی ہی شیوہ ہے ، جو ہمارے حکمران ہیں جن کے بارے میں ہم زہر خند رہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں غلام بنا رکھا ہے ، وہ کسی اور کے غلام ہیں ، یہ ملک اپنی سرحدو ں کا غلام ہے ، ہم نہ ان سرحدوں سے باہر تجارت کرنے کے لئے آزاد ہیں او نہ ہی روابط استوار کرنے کے لئے ، ہم غلام ہیں اور ہمیں اس غلامی کا احساس بھی ہے لیکن ہم نے خود کو بے بس مان رکھا ہے تو کیا کیجئے کہ اصل زہریہی ہے جو ہم اپنے جذبوں کو اپنے ہاتھوں پلا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:  انسداد منشیات کے تقاضے