ٹیکسوں کی بھرمار؟

صوبائی حکومت نے جہاں مختلف شعبوں میں موجودہ شرح ٹیکس میں ردوبدل کرکے صوبائی خزانے کو بھرنے کی سعی کی ہے وہاں ڈھابہ ہوٹلوں ، چھولے فروشوں کے ڈھابوں پر بھی ٹیکس عاید کرکے متعلقہ افراد کو مشکلات سے دو چار کر دیا ہے ممکن ہے شہر میں اکا دکا ڈھابے والوں کی آمدن اس قدر ہو کہ ان پراگر ٹیکس عاید کر دیا جائے تو وہ اسے برداشت کر سکیں تاہم ہر چھابڑی والا تو گھر کے لئے روٹی بھی پوری طرح بہم پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا ، اسی طرح پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے پانچ مرلے کے مکانات پر بھی ٹیکس عاید کرکے غریب افراد کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا پانچ مرلے کے ذاتی رہائش کے لئے استعمال ہونے والے گھروں کو ایم ایم اے دور میں پراپرٹی ٹیکس سے مستثنیٰ کیاگیا تھا کیونکہ پانچ مرلے تک کے گھروں کے مکین غربت کے دائرے میں آتے ہیں مگراتنی مدت گزر جانے کے بعد غالباً سابق نگران حکومت نے خاموشی کے ساتھ (غیر قانونی طور پر) اس فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے پانچ مرلے کے گھروں کوبھی ٹیکس نیٹ میں شامل کر دیا تھا اور لوگوں کو ٹیکس نوٹسز بھیجنے شروع کردیئے گئے تھے حالانکہ نگران حکومت اس اقدام کاکوئی قانونی حق نہیں رکھتی تھی ، اب موجودہ حکومت نے بھی اس صورتحال کو جاری رکھنے کافیصلہ کرکے کم آمدنی والے عوام کو مشکل سے دو چار کر دیا ہے ، اس لئے ہماری گزارش ہے کہ پانچ مرلے کے ذاتی مکان کو حسب سابق پراپرٹی ٹکس سے مستثنیٰ رکھاجائے تاکہ غریب لوگ اطمینان کا سانس لے سکیں پانچ مرلہ گھروں کواستثنیٰ دے کر بھی مطلوبہ نتائج کا حصول ناممکن اس لئے نہیں کہ اس سے اوپر والے گھروں سے اگر ٹیکس وصولی کویقینی بنایا جائے تو ہدف پورا ہوگا اصل توجہ ہدف کے حصول پر دینی چاہئے جس کی زیادہ ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:  حد ہوا کرتی ہے ہر چیز کی اے بندہ نواز