اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی

قدرت اور فطرت کے انسان جتنا قریب رہے گا اس کا مطمئن اور خوش و خرم رہنا اتنا ہی فطری ہو گا آج کا انسان تمام سہولیات بلکہ تعیشات کے باوجود ناخوش اور غیر مطمئن اس لئے نظر آتاہے کہ وہ فطرت کی بجائے مادیت کا پر ستار بن گیا ہے جو اسے کبھی بھی مطمئن ہونے نہیں دیتی اور بے چین ہی بے چین رکھتی ہے اگر ہم نے خوش مطمئن اور صحت مند رہنا ہے تو ہمیں فطرت کو اپنانا ہو گا جس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس بارے میں شعوری طور پر کوشش کریں اس سے پہلے اسے سمجھیں کہ فطرت کے تقاضے ہوتے کیا ہیں فطرت ہر وہ چیز اور فعل ہوتی ہے جو قدرت کی طرف سے جبلتی طور پر انسان کو ودیعت ہوئی ہوتی ہے ، ہم ترقی اور جدیدیت کے نام پر فطرت کو بہت پیچھے چھوڑ آچکے ہیں جس پر فطرت کا غضبناک ہونا فطری امر ہے ہم سے پہلے بھی تو یہ دنیا آباد تھی اور اس پر مخلوقات کا بسیرا تھا اس کرہ ارض پر توہمارے ہی جیسے انسان آباد تھے ان کی بھی احتیاجات تھیں تسلیم کہ ایسے ہی تھا مگر وہ فطرت کے مطابق زندگی گزار رہے تھے مگر ہم نہیں بلکہ بالکل الٹ ایک مطالعے کے مطابق یہ دنیا جب سے بنی ہے تب سے اب تک اس کی مجموعی طور پر کل آبادی 17 کھرب رہی ہے جس میں سے موجودہ دنیا میں محض 4.7فیصد یعنی صرف آٹھ ارب آبادی ہے جس نے دنیا کے ماحول آب و ہوا حیات اور قدرتی وسائل کا جتنا بیڑہ غرق کیا ہے اتنا تو گزشتہ ساڑھے چار ارب سالوں کے دوران اس دنیا میں آکر چلے جانے والے 116 کھرب اور 92 ارب انسانوں نے نہیں کیا ہے حضرت انسان کی قدرتی ماحول سے کھلواڑ اور بگاڑ میں کردارکا میں صرف پلاسٹک کی مصنوعات کے استعمال کے اعداد و شمار کاحوالہ دوں گی کہ ایک اندازے کے مطابق پانچ کھرب پلاسٹک کی مصنوعات سو ارب پلاسٹک کی بوتلوں پچاس کروڑ پلاسٹک کی نلکیوں کا ایک پہاڑ آٹھ ارب لوگوں کے اس سیارے پر کھربوں کا ستم ڈھانے کا باعث بنی ہوئی ہیں اور ان کی تعداد و استعمال میں روزانہ کی بنیادوں پر کروڑوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اپنا کاربن فٹ پرنٹ کم کریں کے عنوان سے اس حوالے سے گزشتہ کالم میں تفصیل سے لکھ چکی ہوں مختصراً پاکستان میں اس وقت صورتحال ابتر سے ابتر ہوتی جارہی ہے جن میں آبادی کا بڑھتا ہوا دبائو اور اس سے پیدا شدہ مسائل معاشی ترقی کی کم شرح اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات شامل ہیں جس کاتقاضا ہے کہ ملک میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے جائیں جیسے کہ جنگلات کی کٹائی اور ٹمبر مافیا کی بیخ کنی اور سبزے کا تحفظ ضروری ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں معاملہ الٹ چل رہا ہے میں خیبر پختونخوا کی بطور خاص بات کروں گی کیونکہ یہاں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں جنگلات کا رقبہ کافی ہے اور حکومت بھی جنگلات لگانے میں سرگرمی کا دعویٰ رکھتی ہے اس ضمن میں کچھ اچھے عملی اقدامات سے بھی انکار نہیں مگر اس کے باوجود اس حقیقت سے بھی صرف نظر کرنے کی گنجائش نہیں کہ خیبر پختونخوا کے اضلاع چترال ، شانگلہ ، بشام ، بحرین ، کالام ، دیر اور ضم اضلاع کے جنگلات کا جس بیدردی سے ٹمبر مافیا کٹائی کر رہی ہے وہ چشم کشا اور روح فرسا ہے، ایک محفل میں ٹمبر مافیا کی بات ہو رہی تھی اور محکمہ جنگلات کے حکام کی ملی بھگت اور بدترین رشوت ستانی کی بات چل نکلی تو ایک صاحب جسے میں اچھی طرح نہ جانتی اور اس کی ناقابل یقین باتوں کا اعتبار نہ ہوتا تو میں یہاں اس کا تذکرہ بھی نہ کرتی مختصراً انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو ایک ایسے ضلع کے بارے میں تھا جو ملک کا پرامن ترین ضلع کہلایا جاتا ہے جہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ جس شخص کے کرتوتوں کی بات کر رہے تھے اس کے لئے وہ نہایت مہذب اور شریف آدمی ہونے کے دعویداربھی تھے لیکن انہوں نے اس کے جس کردار کے چہرے سے پردہ اٹھایا وہ بہت کریہہ اور بھیانک تھا انہوں نے ٹمبر مافیا کے اس مہذب اور شریف کردار کے کرتوتوں کی کہانی بیان کی تو میرے رونگٹھے کھڑے ہو گئے کہ اگر وہ اس قدر سفاک اور ظالم ہے تو باقی وحشی درندے سمجھے جانے والے کردار کیسے ہوں گے کہانی کچھ یوں ہے کہ اس ٹمبر مافیا کے ضلع میں ایک ایماندار ڈسٹرکٹ فارسیٹ آفیسر آیا اور ٹمبر کی سمگلنگ کا دھندہ ٹھپ کر دیا اس کا تو علم نہیں کہ اسے رام کرنے کے لئے جتن کئے گئے یا نیہں یقینا ایسا ہوا ہو گا کیونکہ مافیا سب کوساتھ ملا کر دھندا کرنے کی عادی ہوتی ہے اور عموماً ہوتا بھی ایسا ہی ہے کہ سبھی مل کر اندھیر نگری مچائیں اور اوپر والوں کو بھی ان کا حصہ جاتا رہے مگر یہاں جب دال نہ گلی تو موصوف نے ان کو راستے سے ہٹانے کی ٹھانی اجرتی قاتلوں کی ایک ٹیم کی خدمات غالباً گیارہ لاکھ کی لی گئی یا پھر گیارہ لاکھ کی پہلی قسط کی ادائیگی ہوئی بہرحال قاتل پیچھے لگ گئے ایک مرتبہ رات کو سنسان علاقے میں جب ڈی ایف او کے گزرنے کی اطلاع ملی تو بندوقیں تانے قاتل بیٹھ گئے جیپ نشانے پر اور بندوقوں کے ٹریگر پر انگلیاں دبنے والی تھیں کہ ٹیم لیڈر نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو روکا اور اپنی بندوق بھی نیچی کر لی کیونکہ ان کا اپنا ایک بندہ جیپ میں ساتھ سوار تھا موقع اور تاک دونوں گئے دوسری مرتبہ طے پایا کہ گھر میں کود کران کا کام تمام کر دیا جائے دیوار پھلانگ کر جب صحن میں چھلانگ لگائی گئی تو سیدھا نیچے لیٹے کتے پر پیر پڑ گئے جس نے آسمان سر پراٹھایا لیا اور مارنے والے سے بچاے والا زیادہ طاقتور ہوتا ہے کا جملہ حرف بحرف درست ثابت ہوا ڈی ایف او کو بھنک پڑ گئی تھی بلکہ قتل کے منصوبے کاعلم ہو چکا تھا دھمکیاں تو مل ہی رہی تھیں پر انہوں نے ضمیر اور ایمان کا سودا تو نہ کیا لیکن اس ضلع سے تبادلہ میںعافیت جانی بھلا بتائیں ایسے صوبے میں جنگلات کے تحفظ کا ضلعی سطح کے ایک افسر سے توقع کرنا چاہئے یقینا نہیں اس کیلئے طاقتوروں کی ضرورت ہے مگرطاقتور خواہ وہ ڈی سی ہو ڈی پی او ہو یہاں تک کہ جج ہی کیوں نہ ہو یا مزید طاقتور ان میں ایماندار کم اور مافیا کے ساتھی زیادہ پائے جاتے ہیں ایسے میں قدرت و فطرت اور موسم کی تباہ کاریوں کاجادو سر چڑھ نہ بولے اور تباہی مقدر نہ ہو تو کیا ہو اے بندگان خدا پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے کیوں اس دنیاکو ہی جہنم زار بنا رہے ہو آخرت کا عذاب تو یقینی ہے وہاں تو ذرے ذرے کاحساب ہونا ہے اور ٹھیک ٹھیک ہونا ہے ۔کیا اس پرایمان نہیں یاپھر جہنم سے ڈر نہیں لگتا؟۔

مزید پڑھیں:  مٹی بنے سونا؟