موثر افراد کے اثاثے پبلک کرنے کا معاملہ

آئی ایم ایف نے ایک بار پھر وزرائ، ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا جو مطالبہ کیا ہے ہماری دانست میں یہ ایک نہایت ہی معقول مطالبہ ہے، اور اس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد سے ملکی حالات کے درست سمت میں آنے کے امکانات 100 فیصد نہیں تو کم از کم 80 فیصد ضرور روشن ہو جائیں گے، اس وقت صرف سرکاری ملازمین (گریڈ 22 سے گریڈ 16، 15 یا شاید گریڈ 14 تک) کے اثاثوں کے حوالے سے متعلقہ ملازمین کو ہر سال یا دو سال بعد گوشوارے متعلقہ فارم پر بھر کر اپنے اپنے دفاتر میں جمع کرانے کی پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جبکہ یہ تمام ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے اور ضرورت کے وقت انہیں کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے ،مگر جہاں تک دیگر طبقات کا تعلق ہے ان کے بارے میں وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ آیا ان کے گوشوارے درست ہیں یا نہیں، اور اس کا ثبوت مختلف سیاسی رہنماؤں کے خلاف انتخابی عمل کے دوران جمع کرائے گئے اثاثوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی صورت اکثر سامنے ا جاتا ہے، یہ بھی نہیں کہ سیاسی رہنمائ، ارکان پارلیمنٹ میں سے کچھ یا زیادہ افراد بھی درست گوشوار جمع نہیں کراتے بلکہ اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی اکثر حقیقی معلومات فراہم نہیں کرتے اور ” بے نامی” اثاثوں کے بھی مالک ہوتے ہیں ،اس لئے اگر آئی ایم ایف کے مطالبے پر ان تمام طبقات کے اثاثوں کو پبلک کرنے پر عمل درآمد کیا گیا تو اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے کے امکانات روشن ہو جائیں گے، ایک تو یوں کہ غلط معلومات کے خلاف کوئی بھی واقف حال اعتراض کر کے اصل صورتحال سامنے لا سکے گا اور دوسرے یہ کے متعلقہ منصب سے اترنے کے بعد اگر” آمدن اور اثاثے ” بڑھے ہوئے ہوں تو ایسے افراد کو قانون کے تحت” کلیئر ” کا بھی سامنا کرنا پڑے گا، یوں ناجائز اثاثے بنانے والے حد درجہ محتاط ہو جائیں گے اور ملک کی خزانے کو نقصان پہنچانے سے کنارہ کشی پر مجبور ہوں گے۔

مزید پڑھیں:  عوام کی مشکلات کا بھی کسی کو خیال ہے؟