آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج

اس کم بخت سوشل میڈیا نے شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کو بھی بزعم خویش شعراء اور ادباء کی”صفوں” میں شامل کر دیا ہے ،اور جو حقیقی معنوں میں کار ادب کی راہوں کے مسافر ہیں انہیں سمجھ میں نہیں آتی کہ ان متشاعروں اور خود ساختہ ادیبوں کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے ، اس حوالے سے ایک ادبی لطیفہ نما حقیقہ(اسے عقیقہ مت سمجھئے گا)یاد آگیا ہے اور وہ یہ کہ ایک بار جگر مراد آبادی اپنے گھر کے مہمان خانے(بیٹھک) میں جس کی کھڑکی گلی کے اندر کھلتی تھی اپنی عادت کے مطابق اپنی تازہ غزل اونچی آواز میں گنگنا رہے تھے ، جو اسی رات ایک مشاعرے کی صدارت کے دوران انہوں نے پڑھنی تھی ، ان کی گلی میں رہنے والے ایک نوجوان متشاعر ان کی اس عادت سے بخوبی آگاہ تھے ، اس نے بھی مشاعرے میں نو آموز شعراء کی فہرست میں اپنا نام لکھوا رکھا تھا ، وہ وہاں سے گزرے اور حضرت جگر کو اپنی تازہ غزل گنگناتے ہوئے دیکھا تو کھڑکی کے قریب ہی ایک جانب چھپ کر کھڑے ہو گئے اور جگر صاحب کی ساری غزل نوٹ کر لی ، رات کو مشاعرہ برپا ہوا اور محولہ متشاعر نوجوان نے اپنی باری آنے پر جگر مراد بادی کی تازہ غزل سنانی شروع کی تو پنڈال میں ہر جانب واہ واہ کے ڈونگرے برسنا شروع ہو گئے جگر صاحب کرسی صدارت پر براجمان اپنی غزل کی اس ”سرقہ سرائی”پر بہت حیران و پریشان ، نوجوان کی دیدہ دلیری پر انگشت بہ دندان رہ گئے مگر خاموش رہے ، شمع محفل آخر میں صدر مجلس یعنی حضرت جگر مراد آبادی کے لاکر رکھی گئی تو انہوں نے بلا تکلف مرزا غالب کی ایک مشہور غزل سنانی شروع کر دی سٹیج پر موجود شعرائے کرام اور پنڈال میں موجود سخن فہم حضرات دنگ رہ گئے کچھ دیر تو خاموشی رہی مگر بالآخر پنڈال میں سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ”اوبڈھے ، شرم کرو، مرزا غالب کی غزل چرا کر لائے ہو” وغیرہ وغیرہ ، جگر صاحب خاموش ہو گئے اور جب پنڈال میں بھی شور تھم گیا تو جگر صاحب نے کہا ، بھائی میں نے تو ایک مرے ہوئے شاعر کے کلام پر ہاتھ پھیرا ہے مگر آپ لوگ اتنا شور مچا رہے ہیں ادھر اس نوجوان نے میرے جیتے جی میری غزل پر ڈاکہ ڈالا ہے مگر آپ تو اس پر واہ واہ کئے جارہے تھے اور اتنا بھی نہیں سوچا کہ اس نوجوان کی یہ حیثیت ہے بھی یا نہیں کہ میرے اندازمیں شاعری کرے ؟ اس کے بعد اس متشاعر نوجوان کو وہاں سے دم دبا کر بھاگنے ہی میں عافیت دکھائی دی بلکہ آئندہ وہ کسی مشاعرے میں نظر بھی نہیں آیا ، گویا بقول یار طرحدار خالد خواجہ
رات محفل کے تمسخر کا نشانہ میں تھا
آپ راوی تھے وہاں اور فسانہ میں تھا
خیر بات ہو رہی تھی آج کے دور کے ان متشاعروں اور خود ساختہ ا دیبوں کی جو بزعم خود فیس بکس ، یو ٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا ایپس پر ادب کے جفاداروں میں شامل ہو کر اپنے فالورزکے ذریعے واہ واہ کے جوابی تبصروں سے خود کو ”ثقہ” شاعر نہ صرف سمجھ بیٹھتے ہیں بلکہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں رہی ان کی زباندانی تو اس حوالے سے یہ لوگ زبان کی جس طرح ریڑھ مارتے ہیں اس کے ثبوت کے طور پر سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے بلکہ اس زبان کے قتل عام کے حوالے سے اکثر پوسٹیں بھی وائرل ہو جاتی ہیں ۔ خیر جانے دیں ، بات کار ادب کی ہو رہی تھی اور اس حوالے سے اگر ہم یہ کہیں کہ برصغیر میں ابتداء ہی سے مرد حضرات کے ساتھ خواتین اہل قلم نے بھی ادبی کارنامے انجام دینے میں کوئی کمی نہیں کی اور وہ ہمیشہ مرد اہل قلم کے ساتھ خواتین اہل قلم کی تحریروں نے دھوم مچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، بلکہ جن بڑے شہروں میں مرد ادیبوں ، شاعروں ، نقادوں کیاکٹھ مختلف مقامات پرجمع ہوتے رہے ہیں ان میں اکثر خواتین بھی باوجود معاشرتی بندھنوں کے حتی المقدور شامل ہو کر کار ادب کو آگے بڑھاتی رہی ہیں ، اگرچہ بعض نہایت اہم اور جانی و مانی ادیبائوں اور شاعرات کے ان ادبی محفلوں میں شرکت سے گریز کے باوجودان کی تحریریں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی رہی ہیں اس حوالے سے اردو زبان کی خواتین اہل قلم کی ایک طویل فہرست سامنے رکھی جا سکتی ہے مگر حیرت ہے کہ ہمارے ہاں پشتو زبان کی اہل قلم کی ابتدائی سرگرمیوں میں ایک خاتون س ، ب ، ب (سیدہ بشریٰ بیگم )کا تذکرہ ضروری ہے جن کا ایک شعر بہت ہی مقبول اور ان کے حالات پر بہترین تبصرہ بھی ہے وہ کہتی ہیں
پہ خبرو کے شوم پٹہ ، لکہ بوئیںدگل دہ پانڑو
کہ م سوک شوق دلیدو کڑی دا کتاب زما تصویر دے
دراصل انہوں نے مغل شہزادی زیب النساء مخفی کے اس شعر کی پشتو زبان میں ترجمانی کی ہے کہ
در سخن مخفی منم چوں بوئے گل در برگ گل
ہر کہ دیدن میل دارد درسخن بیند مرا
بات بہت آگے نگل گئی ہے حالانکہ بات صرف اتنی تھی کہ خواتین اہل قلم ادب کے فروغ میں جو کردار ادا کر رہی ہیں اس حوالے سے پشاور کی اہل قلم خواتین ملک بھر میں سب سے آگے دکھائی دیتی ہیں بشریٰ فرخ کی قیادت میں پشاور کی اہل قلم خواتین کی تنظیم کارواں حوا غالباً خواتین کی اولین تنظیم ہے جو گزشتہ کئی سال سے ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیساتھ ساتھ نو آموز اہل قلم خواتین کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے اب ملکی سطح پر اپنی منفرد پہچان بنا چکی ہے اس تنظیم کے ساتھ وابستہ خواتین ا ہل قلم کی ایک اچھی خاصی تعداد نے کئی خوبصورت تخلیقات سے دامن ادب کو بھر دیا ہے ، ان میں اردو پشتو شاعری کے مجموعے ، افسانوی مجموعے ، سفر نامے وغیرہ شامل ہیں اور گزشتہ سال سے ملکی سطح پر اس تنظیم نے ادبی ایوارڈ ز کا سلسلہ شروع کرکے گویا بقول شخصے ”اپنی ادبی دستار میں ایک اور کلفی” کا اضافہ کر دیا ہے گزشتہ روز کاروان حوا نے دوسرے سالانہ ادبی ایوارڈز کی ایک نہایت ہی باوقار اور خوبصورت تقریب خانہ فرہنگ ایران پشاور میں منعقد کی جس میں ملک بھر کے چیدہ چیدہ قلم کاروں کو ایوارڈز دینے کیلئے اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کو بطور مہمان خصوصی دعوت دی گئی تھی اور ان کی موجودگی نے یہ ثابت کیا کہ کارون حوا کو اب ملکی سطح پر بھی پذیرائی مل رہی ہے کالم کی تنگ دامنی کی وجہ ایوارڈز کی تفصیل ممکن نہیں ہے آئندہ کسی کالم میں گوش گزار کر د ی جائیں بقول شاعر
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

مزید پڑھیں:  اصلی تے وڈی مسلم لیگ