تاریخ خود کو دہرا رہی ہے !

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اورسابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس سے بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں منظور کرلیں۔ ہائی کورٹ میں سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزائوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں کیس سے بری کردیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کے 30جنوری2024کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان اگر کسی اور مقدمے میں گرفتار نہیں تو رہا کیا جائے ۔ واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے 30 جنوری کو دونوں کو دس دس سال قید کا حکم سنایا تھا یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو 8 فروری کے عام انتخابات سے قبل کے دنوں میں یکے بعد دیگرے سنائی گئی تین سزائوں میں سے یہ سب سے سنگین تھا۔عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دونوں کو ایک خفیہ کیبل کو ‘لیک کرنے’ اور اس طرح پاکستان کے محفوظ مواصلاتی نظام کی حفاظت، سالمیت اور ساکھ سے سمجھوتہ کرنے کے جرم میں 10،10 سال کی سخت سزا سنائی گئی تھی۔اس سزا کے باعث شاہ محمود قریشی عام انتخابات میںبھی حصہ لینے سے محروم ہو گئے تھے جبکہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں پہلے ہی سزا سناکر نااہل قرار دیا جا چکا تھا۔اسلام ہائی کورٹ کی طرف سے اس سے پہلے کی دو ٹرائلز کو کارروائی میں سنگین بے ضابطگیوں کا علم ہونیکے بعد روک دیا گیا تھا۔ تب بھی، ٹرائل کورٹ کی سزا کو قانونی برادری نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ بہت سے لوگوں نے ان غیر معمولی حالات پر تنقید کی تھی جن میں مقدمہ مکمل ہوا تھا۔اس مقدمے میںدونوں مدعا علیہان نے اپنے اپنے وکیل مقرر کرنے یا استغاثہ کے گواہوں سے جرح کرنے کے حق سے انکار کر دیا تھا،اس کے باوجود استغاثہ کی جانب سے سزائے موت کی زیادہ سے زیادہ سزاکا مطالبہ کیا گیا تھا۔سائفر کامقدمہ ایک پیچیدہ اور سمجھ میں نہ آنے والا تھا اس میں سزا بھی ہوئی اور اب بری کئے جانے کا فیصلہ بھی آگیا اس سے آگے کے قانونی معاملات سے قطع نظر اس مقدمے کی نوعیت او ر وقت کے تناظرمیں اگرجائزہ لیاجائے تو یہ مقدمہ بھی سیاستدانوں پر بننے والے دیگر مقدمات سے مختلف نہ تھا جس میں اول اول عدالتوں سے سزا ہوتی ہے اور بالاخر اعلیٰ عدالتوں سے ریلیف ملتا ہے اور ہوتے ہوتے بالاخر مقدمہ بے نتیجہ ہی نکلتا ہے سائفر کیس میں بھی تاریخ خود کو دہراتی نظر آئی مشکل امر یہ ہے کہ ماضی سے حال تک سیاستدانوں کو بڑے بڑے اور سنگین ا لزامات کا پراپیگنڈہ کرکے پکڑا گیا اور جب ان کے چھوٹنے کا وقت آیا تو کھودا پہاڑ اور چوہا بھی نہ نکلنے والا معاملہ تھا ۔تحریک انصاف کے قائد اور رہنمائوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی کسی دن اچانک یا پھر دھیرے دھیرے ان کے تمام مقدمات اور فیصلوں کی صفائی شروع ہونے کا عمل سامنے آئے گا جو ملکی معاملات سیاست اور عدالت سبھی کے لئے کوئی ا حسن صورت کا باعث نہ ہوگا اسی اثناء میں سینئر قانون دان اعتزاز احسن کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے کا مشورہ دے دیا ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراز احسن نے کہا کہ عمران خان صدر آصف زرداری سے مل لیں، میرا خیال ہے صدر زرداری بانی پی ٹی آئی کیلئے بہت سارے دروازے کھول سکتے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ عمران خان کو جلدی جیل سے باہر آتا نہیں دیکھ رہا، عمران خان نے اپنے لیے خود رکاوٹیں کھڑی کیں، انسان کو نرم مزاج ہونا چاہیے یہ نہیں کہ اس سے بات نہیں کرنی اس سے بات نہیں کرنی، یہ عمران خان کو نقصان دے رہا ہے، بات ہر ایک سے کرو، مانو کسی کی بھی نہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے کافی سخت پالیسی بنالی ہے۔ سینئر قانون دان نے مزید کہا کہ یہ جج پی ٹی آئی کے نہیں، یہ جج آزاد ہیں یا حکومت کے ساتھ ہیں ۔سینئر قانون دان سیاسی دنیا کے نشیب و فراز سے بھی واقف ہیں اور ماضی کے اہم واقعات و مقدمات کے ذاتی شاہد اور بطور وکیل عدالتوں میں حاضر ہوتے رہے ہیں ان کے مشورے پربانی پی ٹی آئی کے کان دھرنے کا امکان اس لئے کم ہے کہ وہ مختلف مزاج کے ثابت ہوئے ہیں لیکن بالاخر جانبیں کو لوٹنا ہے اس لئے جتنا جلد وہ یہ راستہ اختیار کریں تو عدالتوں اور ملک و قوم کا وقت بچ جائے گا اور ملک میں سیاسی استحکام کی امید پیدا ہو گی جو معروضی صورتحال میں ناگزیر ہے ۔

مزید پڑھیں:  جیو اور جینے دو