در جواب آ ں غزل

معاشرہ کس طرف جا رہا ہے سبھی کو علم اور اندازہ ہے اس کو ٹھیک کرنے کیلئے کیا کیا جائے اس کا بھی بخوبی علم ہے کیا صحیح ہے کیا غلط اس کا بھی علم ہے کیسے کیا جائے یہ بھی معلوم ہے یہ کسی ایک شعبے کی بات بھی نہیں جس شعبے کے حوالے سے سوچیں کم وبیش یہی صورتحال ہے مگر کوئی کر نہیں رہا ہے سوچ سبھی رہے ہیں پریشانی بھی ہے مگر جب ہر کوئی اس کے باوجود بھی کچھ کرنے عملی اقدامات سے گریزاں ہے تو پھر کیا کیا جائے اس سوال کا جواب ہی تو نہیں مل رہا کہ کیا کیا جائے کچھ بھی نہیں ہوسکتا کچھ بھی تو نہیں جب کوئی خود انفرادی طور پر یا پھر اجتماعی سطح پر اس کیفیت کا شکار ہو جا ئے تو کچھ بھی ممکن نہیں کہ جب کوئی ٹھان ہی نہیں لیتے تو تبدیلی کیسی ؟قانون قدرت بھی تو یہی ہے نا کہ جب تک کوئی قوم اپنی حالت آ پ بدلنے کو تیار نہیں تو قدرت بھی ایسا نہیں کرتا کہ یہ ان کا قانون ہے جس کا صریح طور پر ذکر کلام پاک میں موجود ہے مسدس حالی سے بھی یہی فال نکلتی ہے اور ویسے بھی ہم سبھی کا مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ اس عالم اسباب میں اسباب اختیار کر نے پڑتے ہیں انسان بیمار ہو تو اسے طبیب کے پاس جا نا پڑتا ہے علاج اور تجویز شدہ ادویات کا استعمال کرنا پڑ تا ہے اب ہماری سادہ لوحی دیکھئیے سب کچھ معلوم ہے مگر بضد ہیں کہ علاج نہیں کرائینگے اور اسباب نہیں اختیار کر یں گے کیا ہماری سوچ اور رویہ احمقانہ نہیں اس طرح کیسے ہوسکتا ہے مگر ایسا ہی ہو رہا ہے کیونکہ ہم عمل پسند قوم ہی نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کچھ کرنا ہی نہ پڑے بلکہ خود بخود ہو جائے اور ظاہر ہے کہ خود بخود ہو نا ممکن ہی نہیں گزشتہ کالم میں مولوی حضرات بارے کچھ ہلکی پھلکی بات کی گئی تھی ایک عالم دین جنہوں نے خود کو مولوی لکھنے کو کہا ہے اس مولوی کا مراسلہ ہے بڑا دلچسپ ان کا کہنا ہے کہ اس دور میں مولوی کو مطعون کرنا سب سے آ سان کام بلکہ فیشن ہے خدا کے بندو یہ تو دیکھو مولوی کرکیا رہا ہے اور تم لوگ تمہاری حکومت این جی اوز اور غیر ملکی امداد ہر طرح کے وسائل تمہارے پاس ہے مولوی بیچارے کے پاس ہے کیا وہ تو چادر پھیلا کر تم لوگوں سے چندہ مانگ کر کام چلا رہا ہے اس کو چندہ نہ دو عوامی تعاون نہ ہو تو بیچارہ مولوی گھر ہی چلا نہ پائے مگر تم لوگوں کے پاس تو ہر قسم کے وسائل ہیں سکول وکالج بڑے بڑے جامعات ہیں بجائے خود کچھ کر دکھانے کے مولوی کو بتاتے ہو کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی تم لوگ مدرسوں سے نہیں نکلے ،بھائی بات یہ ہے کہ مولوی کہتا ہے کہ رب نے چاند اور کسی سیارے پر زندگی نہیں رکھی، ہم نے وہاں جاکر کیا کرنا ہے، چاند پر جانے کا علم اور ادارے تمہارے پاس ہیں جائیں مولوی نے تھوڑا روک رکھا ہے تم کو سائنس اور ٹیکنالوجی تمہا را شعبہ ہے شوق سے ترقی کر و محنت کرکے ایجادات کرکے مولویوں کی زندگی بھی آ سان کریں، ہم نے چاند پر جانے کی مخالفت کرکے غلطی کی تھی مگر تم مولوی کی بات کو تو وقعت دے کر تنقید کرتے ہو قرآن کی تفسیر کیوں نہیں پڑھتے جس میں فلک سے لے کر فلکیات تک سبھی کا احاطہ موجود ہے اور بار بار کہا بھی گیا ہے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے ،سائنس تو قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن سے سائنس کو رہنمائی ملتی ہے۔
مولوی کا نصاب تو صرف دنیا و آخرت کا ہے وہ اس کی تعلیم دے رہا ہے اس کیلئے وہ جھولی بھی پھیلا تا ہے اور جھولی پھیلا کر ہی کام چلا تا ہے، وسائل تو مولوی کے پاس نہیں تمہارے پاس ہیں پھر سائنس وٹیکنالوجی میں پیچھے خود ہو اور الزام مولوی کو دیتے ہو کیوں مولوی نے کبھی شکایت کی ہے کہ تم لوگوں کی وجہ سے حکومتی عدم توجہی کے باعث مدارس مشکلات سے دو چار ہیں، الٹا بعض کا الزام سب کے سر تھوپ کر سارے مدارس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش ہوتی ہے ،بہرحال چھوڑ یں اس قصے کو جانے دیجئے سرکاری سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آ وے کا آ وا کیوں بگڑا ہوا ہے کچھ اس کی طرف توجہ دیں اور مولویوں کو مطعون کرنے کی بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دیں ،اپنا کام کریں مولویوں کو ان کا کام کرنے دیں ،دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کاروبار صنعت وحرفت آ پ سنبھالیں ،مولوی حضرات آ خرت کی فکر کریں اور دین ومساجد اور مدارس کو ذریعہ روزگار اور کاروبار نہ سمجھ کر دین کی خالص محنت کریں’تو ان شاء اللہ دین دنیا دونوں
عمل سے بنتی ہے زندگی جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں ہے نہ نوری نہ ناری
خود کو فرمائشی طور پر مولوی کہلانے والے عالم دین نے جو کچھ فرمایا ہے اس میں زیادہ اضافے کی گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ دین ہو یا دنیا بلامحنت کْچھ حاصل ہونے والا نہیں اور نہ ہی معاشرے کو رونے سے کچھ ملے گا ،دین و آخرت بھی محنت اور مجاہد ے کی متقاضی ہے اور دنیا وی علم سائنس وٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق سے لے کر انفارمیشن ٹیکنالوجی تک کاروبار صنعت و حرفت کاروبار روزگار سبھی کچھ جدوجہد کی متقاضی ہے، معاشرے کی اصطلاح اور معاملات کی بہتری بھی بیٹھے بٹھائے نہیں ہوسکتی ہمارے معاشرے اور دنیا کے دیگر معاشروں میں فرق ہی اس کا ہے کہ ہم اپنے وطن میں ہوں تو محنت سے گریزاں قانون شکن باہر جائیں تو محنتی بھی اور تیر کی طرح سیدھا بھی کیا ہم اپنے وطن میں یہ سب کچھ نہیں کرسکتے بالکل کرسکتے ہیں مگر کرتے ہیں یہاں ہم کام سے کام نہیں رکھتے باہر جاکر ٹھیک آ خر ایسا کیوں ہے ؟اس لئے ہی تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ ڈنڈے کے مسلمان ہیں حالانکہ ڈنڈے کے زور پر کسی کو مسلمان نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہی اس کی اجازت ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اس معاشرے کا ہر فرد مائل بہ اصلاح نہیں جو درد رکھتے ہیں ان ہی توقع ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کر یں گے صرف مولوی حضرات ہی معاشرے کے ٹھیکیدار نہیں یہ سبھی کا ملک ہے اور کچھ نہیں تو کم از کم خود اصلاح ہی کا راستہ اختیار کیا جائے تو معاشرے کی اصلاح کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:  پاک چین تعلقات اور قومی مفاد