تم اپنی چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے

اردو ز بان بھی عجیب ہے ، اس کے بعض ا لفاظ لکھنے میں تو کچھ اور ہوتے ہیں لیکن ا ن کی ادائیگی کے وقت تلفظ کچھ کا کچھ بن جاتا ہے مثلاً اردو زبان کا ایک قاعدہ ہے کہ جب حرف ”خ” کے بعد حرف ”و”(وائو) آتا ہے تو ”و” خاموش ہو جاتا ہے اور آپ بقول فیض احمد فیض لاکھ اسے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے کہیں کہ ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے”مگراسے ایسی چپ لگی ہوتی ہے کہ جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو مثلاً یہ جو الفاظ ہیں خواہش ، خواندہ ، خواہ مخواہ ، خواب ، خواجہ وغیرہ وغیرہ تو لکھتے ہوئے تو ان میں حرف(و)شامل ہوتا ہے مگر ان کی ادائیگی کے وقت یہی حرف (و) ایسے غائب ہو جاتا ہے جیسے گدھے کے سرسے سینگ ،اور یہ یوں بولے جاتے ہیں ، خاہش(خواہش ، خاندہ (خواندہ )،خامخا(خواہ مخواہ) خاب (خواب) خاجہ(خواجہ) اب اس صورتحال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس (و) کے غائب ہونے پر آپ انگریزی زباں کے (وائو) Wao کا اطلاق مت کیجئے گا البتہ ان سب کا جواب اردو ہی کے ایک اورلفظ نے دے رکھا ہے اور وہ ہے لفظ ”خواتین” جہاں پہنچ کر یہ (و) نہ صرف اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے بلکہ خاموش بھی نہیں رہتا ، یعنی وہ لطیفہ تو آپ نے سن رکھا ہو گا کہ ایک کمرے میں پندرہ بیس خواتین موجود تھیں اور ہاں بالکل خاموشی تھی ، بلکہ اگر اس حوالے سے ایک اور سوال نما لطیفہ یاد دلایا جائے تو بے جانہ ہو گایعنی کسی نے سوال کیا کہ ایک کمرہ اگر ایک خاتون آدھے گھنٹے میں صاف کرتی ہے تو وہی کمرہ صاف کرنے میں دو خواتین کتنا وقت لیں گی؟ ظاہر ہے جواب تو پندرہ منٹ آناچاہئے مگرایسا نہیں ہے بلکہ صحیح جواب ایک گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے اب آپ خود غور فرمائیں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ دراصل یہی وہ مقام ہے جہاں فیض احمد فیض کی اس نظم سے استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
یہ تو خیر زبان کے اصول و ضوابط کی باتیں ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ان دنوں خود ساختہ شاعروں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو کر ”دھمال” ڈال رہی ہے جن کے بارے میں آسانی کے ساتھ ”بنارس کے ٹھگ” والا کلیہ استعمال کیا جا سکتا ہے ، اب یہ بنارس کے ٹھگ کون تھے کیا مخلوق تھی ، تو ان کے بارے میں آسانی کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے تھے اس طرح بمبئی(جس کا نام اب ممبئی رکھ دیاگیا ہے ) کے جیب تراش بھی بہت مشہور تھے اس حوالے سے ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک مرز ا قندیل بیگ کوناز تھا کہ کوئی ان کا جیب نہیں تراش سکتا اسی چکر میں ایک دوست سے ان کی شرط لگی انہوں نے اپنی شیروانی کے اندرونی جیب میں دس ہزار کے نئے اور کرارے نوٹ ڈالے اور اپنے دوست کے ساتھ ایک مصروف بازار میں نگل گئے موصوف نے بڑی ہوشیاری سے اپنے رقم کی حفاظت کی واپس گھر پہنچے تو اپنی جیب سے رقم نکال کر دوست کودکھائی اس بے چارے کا منہ اترگیارقم گنتے ہوئے اچانک مرزا کی نظرایک کاغذ پر پڑی جو نوٹوں کے درمیان اڑساہوا تھا ، کھولا تو تحریر پڑھ کر ان کے طوطے اڑ گئے لکھا تھا” بے ایمان ، بے شرم ، جعلی نوٹ لے کر گھوم رہا ہے ، پکڑاگیا تو ضمانت بھی نہیں ہو گی ، جلادے انہیں” بقول ساقی فاروقی
یہ کہہ کے ہمیں چھوڑ گئی روشنی اک رات
تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے
بات خود ساختہ ، سوشل میڈیا دھمالی شاعروں کی ہو رہی تھی ، جوان دنوں یا تو دوسروں کی شاعری پر بمبئی کے جیب تراشوں کی طرح ہاتھ صاف کرتے دکھائی دیتے ہیں یاپھر بزم اردو لکھنو کے ویب سائیٹ پر سامنے آنے والی ایک پوسٹ کے مطابق ”حالات”سے بھرپور استفادہ کرکے اپنی ”ادبی حیثیت” منوانے میں مصروف ہیں پوسٹ کے مندرجہات سے پتہ چلتا ہے کہ ”کچھ بزرگ اساتذہ دن رات تھوک میں غزلیں کہا کرتے تھے اور ان غزلوں میں سے کچھ غزلیں کم ریٹ پر اپنے خاص شاگردوں (بیشتر متشاعر و متشاعرات) قیمت یا کسی خاص خدمت کے عوض دے دیا کرتے تھے کچھ سینئر شاگرد جوخود کو اساتذہ سمجھنے لگے تھے قرب و جوار کے اضلاع میں متشاعروں کو کم ریٹ پرخریدی گئی غزلوں کے مہنگے داموں فروخت کر دیتے تھے اس حوالے سے اگرچہ یہی کام دنیا کے مختلف ممالک خصوصاً امریکہ ، کینیڈا ، برطانیہ وغیرہ میں موجود بعض شاعرات کے حوالے سے بھی کی جاتی ہے جن میں اگرچہ جینوئن شاعرات بھی موجود ہیں مگر ان کی دیکھا دیکھی کچھ خواتین کو شاعری کا بخار چڑھ جاتا ہے اور وہ پاکستان(خصوصاً) کے ”بکائو” شاعروں سے ان کی شاعری خرید کر اپنے نام پر کتابی صورت میں شائع کرادیتی ہیں یوں بقول شاعر” کہ خوں لگا کے شہیدوں میں نام کر جائیں” کے مصداق شاعرات میں اپنا نام لکھوا لیتی ہیں حالانکہ وہ شاعرات توکیا مشتاعرات کی صف میں بھی کہیں دکھائی نہیں دیتیں ، ایسے ہی کسی متشاعر قسم کے ایک نوجوان نے منیر نیازی مرحوم کو اپنی غزل سنائی تو انہوں نے حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے اس غزل کو اردو شاعری میں ایک بہترین اضافہ قرار دیا شامت اعمال کہ اگلے ہی روز اس نوجوان نے وہی غزل حلقہ ارباب ذوق کے تنقیدی اجلاس میں پیش کر دی اجلاس کے شرکاء نے اس غزل کی دھجیاں اڑاکر رکھ دیں اور اسے شاعری کاایک بدنما داغ قرار دیا وہ لکڑہارا منہ بسورے منیر نیازی صاحب کے پاس آیا اور بولا سر آپ نے تو کہا تھا یہ بہت اچھی غزل ہے مگر حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں اسے شاعری کا ایک بدنما داغ قرار دیاگیا منیر نیازی مسکرائے اور کہا’پتر جے ماں کدی پیار نال چن لکھ دیوے تے مقابلہ حسن وچ حصہ لین نئیں ٹرجاندا”۔ یعنی اگرماں بچے کوپیار سے چاند سے تشبیہ دے دے ، تو اس پر مقابلہ حسن میں حصہ لینے کے لئے جانا کیا ضروری ہے؟ سو اے سوشل میڈیا کے شاعرو ، اپنی (یا وہ گوئی پر مبنی ) شاعری پر لوگوں کے کمنٹس پر خود کو میر و غالب ، فیض و فراز نہیں سمجھنا چاہئے وماعلینا الالبلاغ۔
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے

مزید پڑھیں:  خیبر پختونخوا کی مسلسل حق تلفی