1 38

لندن پلان ٹو!

تحریک انصاف نے حکومت بچانے کیلئے ق لیگ سمیت اپنے تمام اتحادیوں کے ہر مطالبے کو تسلیم کرنے کیلئے آخری حد تک جانے کا ارادہ کر لیا ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان کو بھی اب اندازہ ہونے لگا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک جہاں پر سیاست اور اقتدار میں بے شمار انداز سے مداخلت کی جاتی ہے، یہاں کرسیِ اقتدار پر آرام وسکون کیساتھ براجمان ہونا اتنا سہل نہیں ہے، جتنا کہ وہ اقتدار کے حصول سے قبل گمان کررہے تھے۔ عالمی تنہائی سے لیکر اس وقت پاکستان کے اندرونی حالات میں بھی بگاڑ رونما ہوچکا ہے، یہ بگاڑ اتنا زیادہ ہے کہ سوچنے والے اب سوچ رہے ہیں کہ اگر تحریک انصاف کا حکومتی ”اسٹیٹس کو” جاری رہا تو ملک کو پہنچنے والے نقصان کا کوئی ازالہ ممکن ہی نہیں ہوپائے گا۔محض معاشی محاذ ہی تو نہیں جہاں تحریک انصاف کی حکومت ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ حکومتی معاشی ٹیم کے سربراہ تو اسد عمر تھے، جنہوں نے آتے ہی پہلا اعلان یہ کیا تھا کہ عوام کی ابھی مزید چیخیں نکلیں گی۔ وزیراعظم کی معاشی ٹیم تو پہلے چھ ماہ کے عرصے ہی میں ناکام ہوگئی تھی۔ سچ یہ ہے کہ کابینہ کی اس تبدیلی کے بعد غیرمنتخب تقرریوں کے بعد سے ہی کافی حد تک یہ امور واضح ہوگئے تھے کہ اب آگے چل کر کیا ہونا ہے یا ہونے والا ہے؟ حفیظ شیخ کی سربراہی میں ایک نئی معاشی ٹیم مسلط کی گئی۔ ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی کے استعفیٰ کے بعد اب اس بات کو یقینی گردانا جائے کہ حکومت کی دوسری معاشی ٹیم جو دراصل آئی ایم ایف کی معاشی ٹیم ہے، وہ بھی ناکام ہوچکی ہے، جس میں تبدیلی شبر زیدی کے استعفے کے بعد ہوچکی ہے، جو ہر آنے والے دن میں مزید بڑھے گی۔ وزیراعظم نے شبر زیدی کو ایف بھی آر کا چیئرمین مقرر کرتے وقت حد درجہ اظہارمسرت کیا تھا۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ شبرزیدی کا ساری زندگی کام کیا رہا ہے؟ شبر زیدی انتہائی شریف النفس ہیں لیکن کانفلیکٹ آف انٹرسٹ کی بنیاد پر انہیں عہدہ قبول ہی نہیں کرنا چاہئے تھا، کیونکہ ان کا کام ساری عمر ٹیکس وصولی کے برعکس رہا ہے۔ شبر زیدی ساری زندگی سبق دیتے رہے کہ ٹیکس کس طرح سے بچانا ہے، پھر وہ بھلا کس طرح سے پہاڑ جیسا ٹیکس کی وصولی کا ہدف پورا کرپاتے؟ تحریک انصاف کی حکومت تو اٹھارہ ماہ تک ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی کیخلاف قائم کردہ اپنے بیانئے پر خوب دھول اُڑاتی رہی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ وزیراعظم عمران خان سے کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ آپ نے اتنے عرصے میں کیا کیا ہے، آپ کے پاس کونسا پلان ہے؟ کسی فرد، ادارے، تنظیم یا حکومت کیخلاف واویلا کرنے کیلئے بھی کوئی ٹائم فریم ہوتا ہے۔ آخر کب تک یہ راگ الاپا جاتا رہے گا کہ فلاں کھا گیا، فلاں لوٹ گیا؟ حکومت جنہیں تمام برائیوں کی جڑ گردانتی ہے ان سیاستدانوں کے کھانے پینے کا راستہ گزشتہ اٹھارہ مہینوں سے بند پڑا ہوا ہے۔ مال کھانے والے بھی جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں، خواجہ آصف نے اسمبلی میں دورانِ تقریر کہا کہ آصف زرداری اور نوازشریف کی شوگر ملیں تو بند ہیں، آخر پھر یہ چینی کیسے مہنگی ہوئی ہے؟ اٹھارہ مہینوں سے سارے کرپٹ تو جیلوں میں بند ہیں یا پھر عدالتوں سے ضمانتیں لینے کے چکر میں ہیں، کچھ ملک سے باہر ہیں۔ حکومت اس عرصے میں کرپشن کی کھڑکیاں اور دروازے بند کرچکی ہے۔ اس کے بعد ملکی خزانے میں بہتری کیوں نہیں آئی ہے؟ آٹے اور چینی کے بحران کے پس پردہ کونسی مافیا ہے؟ اگر مافیا ہے تو اس کیخلاف کونسی کارروائی ہوئی ہے؟ اگر نہیں ہوئی ہے تو کیوں نہیں ہوئی ہے؟ جب ناکامیوں کے بعد مزید ناکامیاں ہی سامنے آتی رہیں گی تو بالآخر ایک روز اس بات کا جواب دینا پڑے گا کہ ناکام تجربے کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
اپوزیشن کی جماعتیں تحریک انصاف کی حکومت کی مشکلات کے باعث آگے بڑھ کر حکومت گرانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ تحریک انصاف کی مزید غلطیاں یا نااہلی کھل کر عوام کے سامنے آجائے، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت اور ان کے اتحادیوں کو ایک ہی نوع کے دو تین پیغامات مستقبل کے حوالے سے دئیے گئے ہیں، جس کے بعد وزیراعظم سمیت ساری کابینہ کو اب یہ احساس دامن گیر ہوگیا ہے کہ انہیں جس راستے سے یہاں تک لایا گیا تھا اب ان کی واپسی بھی اسی راستے سے ہونے کا امکان بہت بڑھ گیا ہے۔ اس کے بعد سے نواز لیگ کو اس ساری صورتحال میں اہم کردار ملنے کی بھی تیاریاں جاری ہیں۔ میاں شہبازشریف اپنے بیمار بھائی کی وجہ سے لندن میں مقیم نہیں ہیں بلکہ وہ ایک نئے تجربے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جس طرح نوازشریف کی حکومت کیخلاف لندن پلان تیار ہوا تھا، اسی طرح سے لندن پلان (ٹو) کی تیاریوں کی خبریں بھی چل رہی ہیں۔ اب تو چودھری نثار علی خان کی بھی لندن روانگی کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ محض وفاق ہی سے نہیں بلکہ پنجاب میں بھی بوریا بستر گول ہونے کا امکان ہے۔ تبدیلی کس نوعیت کی ہوگی، اس کے حوالے سے کچھ نامکمل اور ادھوری خبریں موجود ہیں، جنہیں ابھی میچور ہونا باقی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے دو تین ناقابلِ تردید اسباب ہیں۔ ایک ان کی خوش فہمی کہ جو انہیں لیکر آئے ہیں انہیں ان پر کامل اعتماد واعتبار ہے، دوسرا اسمبلی کو غیرفعال کرکے سارے پارلیمانی نظام کے بخیے ادھیڑنا، تیسرا ناتجربہ کاری، چوتھا سبب خود کو عقلِ کل، صادق، امین اور پرفیکٹ سمجھنے کا زعم اور اپنے اتحادیوں کے سوا دوسروں کو چور چور پکارنا، پانچواں سبب اپنی صفوں میں چھپی ہوئی کالی بھیڑوں کا دفاع کرنا، چھٹا سبب مکمل بے اختیاری کے باوجود کہیں بھی کسی بھی اختیار کیلئے سعی نہ کرنا اور ملک کے سیاسی نظام کیلئے خطرات پیدا کرنا۔ یہ سارے عوامل ان کے کمالات کا مظہر اور ثبوت ہیں جس کی وجہ سے ساری ناکامیاں ان کے دامن میں آگری ہیں۔