پاکستان سمیت دنیا بھرمیں خواتین کاعالمی دن آج منایاجارہاہے

ویب ڈیسک (اسلام آباد) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔

عالمی یوم خواتین پر گوگل کا خراج تحسین

عالمی یوم خواتین پر گوگل نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ڈوڈل خواتین کے نام کر دیا۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ان بہادر خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا جنہوں نے اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑی، اس دن دنیا بھر میں مختلف ممالک کی ہزاروں تنظیمیں خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی ترقی کے لیے کوششوں کو اجاگر کرنے کے لیے ریلیوں اور تقاریب کا اہتمام کریں گی۔

کراچی، لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سیمینار، کانفرنس، ریلیاں اور تقاریبات کا انعقاد کیا جائےگا۔

ورلڈ ویمن ڈے کی مناسبت سے کراچی میں خواتین بائیکرز کی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکا نے 12 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ڈی جی رینجرز سندھ افتخار حسن چوہدری نے کہا کہ خواتین کو اختیارات دینے کی ضرورت ہے۔

اس عالمی دن کے موقع پر سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستانی خواتین نے اپنی صلاحیتوں، ذہانت، صبر و استقلال اور ناقابل یقین عزم و حوصلے سے ہر شعبے میں نام پیدا کیا ہے۔ ہم اپنے عوام، معاشرے اور ملک کی خدمات کے لئے خواتین کے کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں خواتین کا ایک اہم کردار ہے۔ خواتین پاکستان کی آبادی کا 52فیصد ہیں۔جو مختلف شعبوں میں مردو ں کے شانہ بشانہ شاندار خدمات سر انجا م دے رہی ہیں۔

اس حوالے سے افواجِ پاکستان نے بھی خواتین کو ایک بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ پہلے خواتین صرف طِب کے شعبے سے وابستہ تھیں۔لیکن آج مختلف شعبوں میں اپنی کارکردگی کے جو ہر دکھا رہی ہیں جس میں کور آف سگنلز، الیکٹریکل اینڈ مکینکل انجیئرنگ، آرڈیننس، آرمی سروسزکور،میڈیکل کور، ایجوکیشن برانچ، ایڈمن اینڈ سروسز، پبلک ریلیشنز، LAWبرانچز کے علاوہ بحریہ اورپاک فضائیہ کےمختلف شعبے بشمول جی ڈی پائلٹ شامل ہیں۔

خواتین نہ صرف مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں بلکہ وہ قیادت اور فیصلہ سازی میں بھی برابر کی شریک ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہراس کی ایک زندہ مثال ہیں جو اسلامی دُنیا کی پہلی خاتون سرجن جنرل ہیں۔ اس کے علاوہ میجر جنرل شاہدہ ملک اورمیجر جنرل شاہدہ بادشاہ بھی افواجِ پاکستان میں خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔

میجر سلمیٰ ممتاز کو 1971؁ء کی جنگ میں خدمات کےجذبے پر، فلورنس نائٹ اینگل کے اعزاز سے نوازا گیا۔
پاکستان کی عسکری تاریخ 2013؁ء میں خواتین کے پہلے بیج نے پیرا ٹروپنگ کا مظاہرہ کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
اس کے ساتھ ساتھ، پاکستانی خواتین، دُنیا میں بھی امن کے لئے پیش پیش۔

اس وقت 84پاکستانی خواتین، اقوامِ متحدہ چھتری تلے امن مشن کا حصہ ہیں۔ سابق امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے پاکستانی خواتین کے امن کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین کا کردار نہایت متاثر کن، امن کے لئے خدمات کلیدی ہے۔

عالمی امن کے لئے شاندار خدمات پر/ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی Women Peace Keepersکی خدمات کو انتہائی متاثر کُن اور قابلِ تقلید قرار دیا۔2020ء میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی خواتین کے15رکنی امن دستے کو بہترین کارکردگی پر تمغوں سے نوازا۔

محترمہ فاطمہ جناح، بیگم شاہنواز، سلمیٰ تصدق حُسین، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم وقار النساء نون، محمودہ رزاق،اور بیگم عبداللہ ہارون خواتین کے لئے ایک رول ماڈل ثابت ہوئیں۔ فلائیٹ لیفٹینٹ عائشہ فاروق پہلی پاکستانی خاتون فائٹر پائلٹ تھیں۔
فلائینگ آفیسر مریم مختیار شہید کو فرض شناسی کےاعزاز میں تمغہ بسالت کے اعزاز سے نوازا گیا ثمینہ بیگ ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے والی پہلی خاتون گرل گائیڈز ہیں۔

رواں سال عظیم الشان، یومِ پاکستان پریڈ میں بھی افواجِ پاکستان، پولیس، رینجرز اور ائیر پورٹ سیکورٹی فورس کی خواتین بھرپورنمائندگی کر رہی ہیں۔ یہ سب بابائے قوم کے ویژن کی تکمیل اور روشن پاکستان کا عکس ہے۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک جن میں روس، ویت نام، چین اور بلغاریہ میں خواتین کے عالمی دن پر عام تعطیل ہوتی ہے، یہ دن خواتین کی ’’جدوجہد‘‘ کی علامت ہے۔

1908 میں 15 ہزار محنت کش خواتین نے تنخواہوں میں اضافے، ووٹ کے حق اور کام کے طویل اوقات کار کے خلاف نیویارک شہر میں احتجاج کیا اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کی۔ جن پر پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد کیا گیا تھا تاہم خواتین نے اپنی جبری مشقت کے خلاف تحریک کو جاری رکھا تھا۔

خواتین کی مسلسل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے نتیجے میں 1910 میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں 17 سے زائد ممالک کی سو کے قریب خواتین نے شرکت کی۔

اس کانفرنس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم واستحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔