Stealth

امریکا چین پر ایٹم بم برسائے گا؟ جدید طیارے کی تیاری پرمختلف تجزیے

ویب ڈیسک (کیلیفورنیا) بائیڈن انتظامیہ میں امریکی فضائیہ کےسیکرٹری فرینک کینڈل نےتصدیق کی ہےکہ جدید ترین اسٹیلتھ امریکی بمبارطیاروں بی 21کے پانچ پروٹوٹائپس اپنےاختتامی مرحلےمیں داخل ہوچکےہیں یہ طیارےنارتھروپ گرومین کےتحت پام ڈیل،کیلیفورنیامیں امریکی فضائیہ کے پلانٹ نمبر 42 میں تیارکیےجارہےہیں۔

اب تک نارتھروپ گرومین اور دوسرے معتبر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات سے پتا چلتا ہےکہ بی 21 امریکا کا جدید ترین بمبار طیارہ ہوگا جو بہت لمبےفاصلوں تک پروازکرسکےگااسے ریڈار پر نہیں دیکھا جاسکے گا،یعنی کہ یہ اسٹیلتھ ہوگاجبکہ یہ جدید ترین آلات کے علاوہ ایٹم بموں سے بھی لیس ہوگاظاہری طور پر یہ سرد جنگ کے دوران بنائے گئے بی ٹو (B-2) بمبارسے مشابہت رکھتا ہےجسے ممکنہ جنگ میں سابق سوویت یونین پر ایٹم بم گرانے کیلئےبطورِ خاص ڈیزائن کیا گیاتھا۔

بی21طیارہ آوازسےکچھ کم رفتارپر،انتہائی بلندی پررہتے ہوئےپروازکرسکےگااورایک بار ایندھن بھرنے کے بعد ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرسکے گا۔ریڈار کی نظروں سےبچنےکیلئےاس کی سطح پر ایساروغن کیا جائےگاجوریڈارکی لہریں جذب کرسکتا ہےیہ اسٹیلتھ صلاحیت مزید بہتربنانے کیلئے اس میں اضافی آلات بھی نصب کیےجائیں گےمزید یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ 2022 سےبی 21 کی آزمائشی پروازیں شروع کردی جائیں گی جبکہ اس کی محدود پیداوار کا آغاز 2026 سےکیاجائےگا2030 تک اس بمبار طیارے کی بڑے پیمانےپرپیداوار شروع کردی جائے گی جبکہ 2027 تک اس کی پہلی کھیپ امریکی فضائیہ کےسپردکرنےکامنصوبہ ہے۔

اندازہ ہے کہ امریکی فضائیہ نے 80 سے 100 عدد بی 21 طیاروں کا آرڈر دیا ہوا ہے، جن میں سے ہر طیارے کی ممکنہ قیمت 30 کروڑ ڈالر سے 55 کروڑ ڈالر تک ہوسکتی ہے۔عالمی دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ بی 21 طیارے سے متعلق امریکی قیادت کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔اس سے قطع نظر کہ بی 21 بمبار کا منصوبہ درحقیقت کونسے مرحلے پرہے، اس اعلان کے ذریعے امریکا نے چین کو دھمکی دی ہےکہ وقت آنے پر وہ چین کے خلاف ایٹم بموں کا استعمال بھی کرسکتا ہے۔