لانگ مارچ

لانگ مارچ میں خونریز تصادم

ویب ڈیسک :اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے شرکا کیساتھ پر تشدد جھڑپوں میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 263 زخمی ہو چکے ہیں۔وفاقی حکومت نے گزشتہ کئی روز سے دھرنا دینے والی کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان سے عسکریت پسند تنظیم کے طور پر نمٹنے اور ان کیخلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے بھی کابینہ اجلاس میں کالعدم ٹی ایل پی کے تمام مطالبات ماننے سے انکار کردیا ہے اور راستے بند کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے شہریوں کا راستہ روکنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت کردی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کالعدم تنظیم کے مظاہرین کو جی ٹی روڈ پر روکنے کا فیصلہ کیاگیا اور جہلم پل پر رینجرز کو تعینات کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے نہیں دیا جائے گا، سیاسی مقاصد کے لیے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنے دیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اب کالعدم ٹی ایل پی کو سیاسی و مذہبی جماعت کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اسے ایک عسکری تنظیم کے طور پر لیا جائے گا اور جیسے دیگر عسکریت پسند تنظیموں سے نمٹا گیا ٹی ایل پی سے بھی اسی طرح نمٹا جائے گا۔

مزید دیکھیں :   انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کریں، صدر کا چیف الیکشن کمشنر کو خط

فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں ریاست کی رٹ قائم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریاست کے صبر کی بھی حد ہوتی ہے، ہم کتنے دن آپ کا لحاظ کریں گے؟ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ آئی جی پنجاب پولیس کالعدم ٹی ایل پی کیخلاف آپریشن کی تفصیلات پیش کریں گے۔ فواد چوہدری نے دیگر ریاستی اداروں سے بھی درخواست کی کہ وہ ٹی ایل پی سے متعلق اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ 27 کلاشنکوف بردار سادھوکی میں ان کے ساتھ شامل ہوئے، وزیر اطلاعات نے کہا کہ ٹی ایل پی ایک کالعدم تنظیم اور شر پسند گروپ ہے، انہوں نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ بہانہ کر کے باہر نکلتے ہیں اور سڑکیں بلاک کردیتے ہیں، پاکستان نے القاعدہ جیسی تنظیم کو شکست دی ہے ، ریاست کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کریں ، پہلے 6 مرتبہ یہ تماشا لگ چکا ہے ، ریاست نے بہت صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا 4 پولیس اہلکار شہید ہوچکے ہیں، ہم کتنی دیر آپ کا لحاظ کریں گے ۔دریں اثنا پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت حکومت پنجاب کی درخواست پر کیا گیا ہے اور صوبائی حکومت دو ماہ تک جہاں چاہے انھیں استعمال کر سکتی ہے۔

مزید دیکھیں :   تباہ کن زلزلہ، ترکیہ و شام میں اموات کی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کر گئی

آئی جی پنجاب پنجاب پولیس را ئوسردار علی خان نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 263 زخمی ہوئے ہیں ۔ ادھر کا لعدم تنظیم کے مارچ کے باعث وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اورپنجاب کے مختلف شہروں میں نظام زندگی متاثر ہے۔ راولپنڈی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی مرکزی شاہراہیں سیل کردی گئی ہیں۔ صدر سے فیض آباد میٹرو سروس معطل ہے۔ متبادل راستوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔