خشک میوہ جات

خشک میوہ جات موسم سرما کی ایک بہترین سوغات

ویب ڈیسک: پشاور میں خشک میوہ جات موسم سرما کی ایک بہترین سوغات اور پختون روایات کا لازمی حصہ ہیں جسے پشاوری بہت شوق سے خود بھی کھاتے ہیں لیکن مہنگائی کی وجہ سے یہ میوہ جات آج کل صرف دکانوں کی زینت بن کر رہ گئے ہیں۔

موسم سرما کا نام لیتے ہی خشک میوہ جات کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو سردیوں کا موسم انہی سوغات کی وجہ سے بھاتا ہے۔ پشاوری خشک میوہ جات نہ صرف خود بہت شوق سے کھاتے ہیں بلکہ مہمانوں کی تواضع اور دوست احباب کو تحفے کے طور پر بھی بھیجتے ہیں۔ پشاور میں ڈرائی فروٹ کی درجنوں دکانیں ہیں جہاں پڑوسی ملک افغانستان سے درآمد کیے گئے مختلف اقسام کے خشک میوہ جات نہایت سلیقے سے سجائے ہوئے ہوتے ہیں جنہیں دیکھتے ہی منہ میں پانی آتا ہے۔

موسم سرما کے آغاز کیساتھ ہی پشاور کی دکانوں پر کاجو ، مونگ پھلی ، اخروٹ ، خوبانی ، چلغوزوں ، پستے، بادام کی بہاراتر آئی ہے۔ اخروٹ موسم سرما میں استعمال ہونے والے خشک میوہ جات میں خاص طور پر پسند کیا جاتا ہے۔ دکاندا​روں کا کہنا ہےکہ سردیاں آتے ہی خشم میوجات کی مانگ اور ہمارے کاروبار میں اضافہ ہوتا ہے۔

خشک میوہ جات موسم سرما کا ایک انمول تحفہ ہیں۔ یہ خوش ذائقہ اور صحت بخش ہوتے ہیں۔ مختلف بیماریوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں۔ یہ نہ صرف جسمانی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں بلکہ بہت سے طبی امراض کو بھی دور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ خشک پھل موسم سرما میں جسم کے درجہ حرارت میں توازن قائم کرتے ہیں اور جسم کو توانائی مہیا کرتے ہیں۔ موسم سرما کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ یہ صحت بحال کرنے اور جسم کو طاقت ور بنانے کا موسم ہے البتہ ان کا اعتدال سے استعمال نہایت ضروری ہے ۔خشک میوہ جات غذائیت اور لذت سے بھرپور ہونے کی وجہ سے بچوں، بوڑھوں سب کی من پسند سوغات ہیں۔

بادام: بادام خشک پھلوں میں بہت مقبولیت کا حامل ہے ۔اس میں غذائیت کا بے پناہ خزانہ موجود ہے۔ یہ بینائی اور دماغ کے لیے بے حد مفید ہے ۔ یہ قبض کشا ہے اور حافظے کو تیز کرتا ہے ۔ اسے رات کو بھگو کر صبح نہار منہ بچوں کو کھلانا بہت فائدہ مند ہے ۔اس کا حلوہ بنا کر کھانے سے نزلہ ،زکام اور سر درد میں بہتری آتی ہے۔ خشک جلد کی حامل خواتین سردیوں میں اپنے چہرے پر روغن بادام کا مساج کریں تو قدرتی تازگی پیدا ہو جاتی ہے ۔اس کے علاوہ اس کا مساج آنکھوں کے گرد پڑنے حلقوں کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ بادام کی کھیر ایک مزیدا ر ڈش ہے جو تھوڑے وقت میں بنائی جاسکتی ہے ۔

مزید پڑھیں:  حج کے دوران شدید گرمی سے 577حاجی جاں بحق

اخروٹ: اخروٹ نہایت غذائیت بخش میوہ ہے یہ دماغ کو طاقت ور بناتا ہے۔ اس کی بھنی ہوئی گری کھانے سے کھانسی میں افاقہ ہوتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اخروٹ کا استعمال ذہنی نشوونما میں اہم کردار رکھتا ہے۔ اس سے جسمانی تھکان میں خاطر خواہ کمی واقع ہو جاتی ہے ۔ یہ بلڈ پریشر کے ساتھ دل کی بیماری کی روک تھام کے لیے بھی مفید ہے البتہ اس کا اعتدال کے ساتھ استعمال نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس کو زیادہ کھانے سے منہ میں چھالے بننے کے علاوہ حلق میں خراش پیدا ہو جاتی ہے ۔

چلغوزے: چلغوزہ بہت عمدہ قسم کا میوہ ہے اس کو کھانے سے گردے اور جگر کو طاقت پہنچتی ہے ۔ اس کے استعمال سے یاداشت کے عمل میں بہتری آتی ہے۔ یہ اعصابی کمزوری کو بھی دور کرتا ہے اور پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے ۔چلغوزہ کھانے سے بھوک میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ یرقان اور گردے کے درد کے لیے ازحد مفید ہے ۔ پرانی کھانسی کے لیے چلغوزہ پیس کر شہد میں ملا کر کھایا جائے ۔ یہ دل کو بھی تقویت پہنچاتا ہے ۔ چلغوزہ دیر ہضم میوہ ہے اس لیے اس کی زیادہ مقدار کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ چلغوزوں کے چھلکوں پر روغن سا لگا ہوتا ہے جو معدے میں سوزش پیدا کرتا ہے ۔

مونگ پھلی: سردی اور مونگ پھلی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پشاوری اکثر اسکو قہوے کیساتھ نوش کرتے ہیں اور مہمانوں کی بھی قہوے اور مونگ پھلی کے ساتھ تواضع کرتے ہیں۔ اس میوے کا اپنا ہی مزہ ہے یہ کمزور اور دبلے پتلے افراد کے لیے مفید ہے ۔ کچی مونگ پھلی کی بجائے بھنی ہوئی کھانی چاہیے ۔ اس کا استعمال معدے کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ بالوں کو گرنے سے بچاؤ کے لیے مونگ پھلی کھانی چاہیے ۔ یہ مختلف ذائقہ دار پکوانوں میں بھی استعمال کی جاتی ہے ۔ تاہم جسم میں خارش ہونے کی صورت میں مونگ پھلی نہ کھائیں۔ معدے اور یرقان کے مرض میں مبتلا افراد اس کے زیادہ ا ستعمال سے گریز کریں ، دمہ کے مریض کو بھی مونگ پھلی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بچے مونگ پھلی کھانے کے فورا بعد ہی پانی پینے کی کوشش کرتے ہیں اس سے کھانسی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس لیے اس سلسلے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

کاجو: کاجو ایک خوش ذائقہ میوہ ہے ۔ اس کی بو تیز ہوتی ہے اور مغز میٹھا ہوتا ہے ۔ شوگر کے مریضوں کے لیے اس کا باقاعدہ استعمال ضروری ہے ۔اس کو فرائی کرکے بھی کھایا جاتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاجو کے بیج میں ایسے قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں جو خون میں موجود انسولین کو عضلات کے خلیوں میں جذب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔اس کے مغز کا مربہ دل ودماغ کو طاقت ور بناتا ہے اور دانتوں کے درد میں کمی پیدا کرتا ہے ۔ اس کا تیل پھوڑے پھنسی پر لگایا جاتا ہے ۔ کاجو میں موجود معدنیات سے جسمانی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔ بچوں کی ہڈیاں مضبوط بنانے کے لیے کاجو بہت مفید ہے اگر اس کو اعتدال کے ساتھ کھایا جائے تو یہ بہت فائدہ دیتا ہے ۔

مزید پڑھیں:  سوات:مسافرکوچ میں سلنڈر پھٹنےسےآگ بھڑک اٹھی،14افراد جھلس گئے

پستہ: پستے میں پوٹاشیم ،کیلشیم اور حیاتین کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے پھیپھڑوں سے خراب مادے خارج ہوجاتے ہیں۔ پستے کی روزانہ مناسب مقدار کھانے سے کینسر جیسے موذی مرض کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ ایک تحقیقی سروے کے مطابق پستے کے استعمال سے جسم کی مدافعتی قوت کو تحریک ملتی ہے۔ پستے کو قدرتی حسن افروز مرکب کہا جاتا ہے اس میں ایسے روغن پائے جاتے ہیں جن سے جلد نرم و ملائم ہو جاتی ہے ۔ خاتون خانہ اپنے بالوں کی بہتری کے لیے پسے ہوئے پستے کے چار سے پانچ چمچے لے کر اس میں دو چمچے ناریل کا تیل ملا کر کریم تیار کرلیں جو بیس منٹ تک بالوں میں لگا کر پھر اچھی طرح دھو لیں۔ اس سے بالوں میں لچک اور تازگی پیدا ہوتی ہے ۔

کشمش: کشمش ایک مشہور میوہ ہے ۔ بچوں کے لیے بہت مفید ہے ایسے بچے جو دانت نکال رہے ہوں تو انھیں بہت تکلیف ہوتی ہے اس لیے کشمش کو باریک پیس کر شہد میں ملاکر انھیں چٹا دیا جائے جس سے درد کم ہو جائے گا ۔ یہ وائرس سے ہونے والے بخار کو بھی کم کرتی ہے اور خون کی کمی کو پورا کرتی ہے ۔ بہت سے طبی ماہرین کے خیال میں بچوں کو ٹافیوں کی جگہ کشمش ،خوبانی ،کھجور دینے کی تاکید کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کمزور افراد کا وزن بھی بڑھاتی ہے ۔ خواتین کشمش کا استعمال کسٹرڈ ،حلوے یا کیک کی تیاری میں بھی کرتی ہے ۔کشمش میں وٹامن اے پایا جاتا ہے جو کلر بلائنڈنس کے خلاف مزاحمت کرتا ہے ۔

ملک کی ناگفتہ بہہ معاشی حالت اورکمرتوڑ مہنگائی نے شہریوں کو اپنی یہ قدیم روایت ترک کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کبھی سو دو سو روپے کلو فروخت ہونے والے خشک میوہ جات اب کھانے کی بجائے دکانوں کی زینت ہی بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو شاید موسم سرما میں ڈرائی فروٹ کھانے کے شوقین اپنی خواہش تک ہی محدود رہیں۔