زلمے خلیل زاد

طالبان مان گئے تھے مگر اشرف غنی فرار ہوگئے

ویب ڈیسک: افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق ایلچی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ کابل کے سقوط سے چند دن پہلے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تمام فریقین کو ایک جامع حکومت پر اتفاق کرنا چاہیے۔

خلیل زاد کے مطابق، کابل کے خاتمے سے چند روز قبل وہ دوحہ میں تھے جہاں انہوں نے امارت اسلامیہ کے موجودہ نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر سے بات کی اور انہوں نے افغان سیاست دانوں اور اس وقت کے افغان وفد کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ایک جامع عبوری حکومت کی تشکیل پر اتفاق کیا تھا۔

افغان میڈیا گروپ طلوع نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خلیل زاد نے کہا کہ طالبان نے اس بات پر بھی اتفاق کر لیا تھا کہ وہ اس وقت تک کابل میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ ایک جامع حکومت نہیں بن جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ”اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ طالبان کی افواج کابل میں داخل نہیں ہوں گی اور ان کی بہت سی افواج جو شہر میں موجود ہیں، دارالحکومت سے نکل جائیں گی۔ خلیل زاد نے کہا کہ اس دوران حکومت کی طرف سے ایک وفد دوحہ کا دورہ کرنے اور طالبان کے ساتھ ایک جامع حکومت کے بارے میں دو ہفتوں کے اندر معاہدہ طے کرنے والا تھا۔

خلیل زاد کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ وفد دوحہ میں شمولیتی حکومت کے بارے میں جو بھی فیصلہ کرے گا وہ حتمی ہو گا اور اشرف غنی نے اسے قبول کر لیا ہے۔ تاہم طے شدہ مذاکرات نہیں ہوئے کیونکہ غنی 15 اگست کو کابل سے فرار ہو گئے اور بعد میں طالبان کی افواج شہر میں داخل ہوگئیں۔ تاہم خلیل زاد نے کہا کہ سابق افغان حکومت اور طالبان دونوں ہی ملک میں امن قائم کرنے کے لیے ہونے والے بین الافغان مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔ خلیل زاد کے مطابق دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر امن چاہتے تھے اور درمیانی راستہ اختیار کرنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ "میرے لیے طالبان اور غیر طالبان سمیت افغانستان کے رہنما زیادہ ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے درمیانی راستہ قبول نہیں کیا۔”

مزید پڑھیں:  خیبرپختونخوا اسمبلی میں الیکشن ٹریبونل آرڈیننس کیخلاف قرارداد منظور

خلیل زاد نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو افغانوں کے اختلاف سے مایوسی ہوئی اور انہوں نے شرط پر مبنی انخلا کی بجائے وقت پر مبنی انخلا کو ترجیح دی۔ "اس بات کا خدشہ تھا کہ اگر ہم نے انٹرا افغان معاہدے پر انخلا کی شرط رکھی تو ممکن ہے کہ افغان کبھی بھی کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکیں۔”
خلیل زاد کے مطابق امن مذاکرات کے دوران امریکا نے طالبان کے ساتھ اقتدار میں اشتراک حکومت پر بات کی تھی لیکن اشرف غنی کی انتظامیہ ایسی حکومت بنانے سے گریزاں تھی۔”ہم طالبان کے ساتھ اقتدار میں شریک حکومت کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ میں نے ایک تجویز پیش کی اور جلد ہی اشرف غنی حکومت نے یہ تجویز جاری کر دی۔ ایک خفیہ معاہدہ(تجویز)جوافغان حکومت اور طالبان کو دیا گیا تھا جاری کرنے کامطلب یہ تھا کہ حکومت خود اسے نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں:  وزیراعظم کا لوڈ شیڈنگ کی شکایات کا نوٹس ،اجلاس بلا لیا

خلیل زاد نے کہا کہ اگست سے پہلے کے مہینوں میں لڑائی میں اضافے کے دوران امریکہ نے طالبان پر دبا ئوڈالا اور وہ شہروں اور شاہراہوں پر حملے نہ کرنے پر راضی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کابل میں حکومت فوری جنگ بندی پر اصرار کر رہی تھی۔ 2019 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی جانب سے دوہری افتتاحی تقریب پر خلیل زاد نے کہا کہ افتتاح سے ایک رات پہلے انہوں نے عبداللہ کو حل تلاش کرنے پر راضی کیا اور وہ مسئلہ حل کرنے کے لیے صدارتی محل گئے۔انہوں نے کہا کہ عبداللہ نے اقتدار میں حصہ لینے والی حکومت بنانے کی طرف لچک دکھائی، لیکن غنی نے ایسی حکومت کو مسترد کر دیا۔

خلیل زاد نے کہا کہ داعش سابق حکومت کے لیے خطرہ تھی اور یہ امارت اسلامیہ کے لیے بھی خطرہ ہے، اور انھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ دونوں فریقوں کے داعش کے ساتھ تعلقات ہیں۔ خلیل زاد کے مطابق ماضی میں سابق حکومت طالبان پر داعش کے ساتھ تعلقات کا الزام لگا رہی تھی اور طالبان داعش کو حکومت کے ہاتھ میں ایک آلہ کار قرار دے رہے تھے۔