فائربندی

تحریک طالبان پاکستان کیساتھ فائربندی کامعاہدہ

ویب ڈیسک: کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) نے منگل 9 نومبر سے ایک ماہ کیلئے سیز فائر کا اعلان کردیا۔ ترجمان کالعدم ٹی ٹی پی کے مطابق فائر بندی میں فریقین کی رضامندی سے مزید توسیع بھی کی جائے گی اور فریقین پر فائربندی کی پاسداری ضروری ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کا کہنا ہے کہ فریقین نے مذاکراتی کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے، کمیٹیاں آئندہ لائحہ عمل اور فریقین کے مطالبات پر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گی۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان مذاکراتی عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی مکمل سیز فائر پر آمادہ ہوچکے ہیں اب مذاکرات کی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے سیز فائر میں توسیع ہوتی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں افغان طالبان سہولت کارکاکردار ادا کررہے ہیں۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے جو مذاکرات ہو رہے ہیں وہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت ہوں گے۔ مذاکرات میں ایسے افراد کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو دہشت گردحملوں کانشانہ بنے ۔ ادھر اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن کی جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ پارلیمان میں اتفاق رائے کے بغیر خود اپنے طور پر تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرے۔

بلاول نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جو بھی پالیسی ہو اس کی پارلیمان منظوری دے، وہ اتفاق رائے سے بنے۔ وہ پالیسی بہتر پالیسی بھی ہو گی اور اس کی قانونی حیثیت بھی ہو گی۔ اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے ایک سینئر رہنمانے بھی غیرملکی میڈیا کو بتایا تھا کہ اجلاس کے دوران ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی دونوں ہی کے معاملے پر اپوزیشن نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں ہوا، جس میں افغانستان سے متعلق امور اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کمیٹی کے اراکین کو آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اراکین کو بریفنگ دی۔

ایک حکومتی وزیر کے مطابق طالبان سے مذاکرات کی تین شرطیں رکھی گئی ہیں، جن میں پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنا، ہتھیار پھینکنا اور پاکستان کے شناختی کارڈ بنوانا یعنی اپنی شناخت ظاہر کرنا شامل ہیں۔ عسکریت پسندوں کے تمام بارہ گروہوں کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔ ان کی تعداد دو ہزار سے پچیس سو کے قریب ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی ہیں جو کسی دبائو یا معاشی بدحالی کے باعث ان گروپوں کا حصہ بنے یا ان کے حل طلب تحفظات ہیں توایسے افرادسے بات چیت کی جارہی ہے ۔ اگر 80 فیصد ہتھیار ڈال دیں گے تو باقی بیس فیصد کا حل بھی نکال لیاجائے گا۔

اطلاعات کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں یہ سوال بھی کیاگیا کہ کیا امریکہ کو افغانستان میں کارروائی کے لیے پاکستان کی حدود یا فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی جس پربتایا گیا کہ افغانستان میں فوجی کارروائی کے لیے کوئی بھی معاہدہ ہوا تو وہ سہ فریقی ہو گا یعنی افغان طالبان اس کا حصہ ہوں گے اور یہ امریکہ کو بھی واضح کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا البتہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کا کہا گیا ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ اجلاس ان کیمرہ تھا اور اچھے ماحول میں ہوا زیادہ تر ٹی ٹی پی اور افغان صورتحال پر بات ہوئی، فضل الرحمان کے بیٹے نے اچھی باتیں کیں۔