سٹاک مارکیٹ کریش

تین کھرب 32 ارب روپے ڈوب گئے،سٹاک مارکیٹ کریش

ویب ڈیسک: پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں اس 3کھرب32ارب روپے ڈوب گئے،سٹاک مارکیٹ کریش کی تاریخی چوتھی بڑی مندی ہوئی ہے جس میں سرمایہ کاروں کے3کھرب 32ارب روپے ڈوب گئے۔

سود کی شرح میں مزید نمایاں اضافے کے خدشات سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج جمعرات کو کریش کی صورتحال سے دوچار رہا۔ مہنگائی اور تجارتی خسارہ بڑھنے سے سرمایہ کاروں نے خوف زدہ ہوکر دھڑا دھڑ حصص فروخت کیے جس سے کاروبار کے ابتداء سے ہی مارکیٹ بدترین مندی کی لپیٹ میں رہی اور انڈیکس کی 45000 اور 44000 پوئنٹس کی نفسیاتی حدیں گرگئیں ۔ مندی کے سبب 93 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے 3 کھرب 32 ارب 26 کروڑ 74 لاکھ 75 ہزار 411 روپے ڈوب گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی محاذ پرایسی منفی خبروں نے سرمایہ کاروں میں مایوسی کی فضا پیدا کردی ہے جس کی وجہ وہ مارکیٹ میں تازہ سرمایہ کاری کے بجائے مارکیٹ سے انخلا کو ترجیح دے رہے جو مارکیٹ میں بدترین مندی کا باعث بن گیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو کیپیٹل مارکیٹ کی تاریخ میں چوتھی بڑی تاریخ ساز مندی ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل 11 مارچ 2017ء کو کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس میں 2153 پوائنٹس کی پہلی بڑی مندی رونما ہوئی تھی جبکہ 16 مارچ 2020ء کو 100 انڈیکس میں 2375 پوائنٹس کی دوسری بڑی مندی ہوئی تھی۔ اسی طرح 18 مارچ 2020ء کو 2201 پوائنٹس کی تیسری بڑی مندی ہوئی تھی۔ جمعرات 2 دسمبر 2021ء کی مندی مالی سال 2020-21ء کی دوسری بڑی مندی جبکہ کیلینڈر سال 2021ء کی پہلی بڑی مندی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یادرہے کہ پاکستان میں ڈالرکی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور مزید ایک روپے 35پیسے اضافے کے بعد ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں 176.65روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں سہ پہر تین بج کر 40منٹ پر ڈالر کی فروخت کی قیمت 177.50 روپے اور خریداری کی قیمت 177 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر کے مطابق منی بجٹ تیار ہے اورحکومت کی طرف سے منظوری ملتے ہی پیش کردیاجائیگا ،ماہرین کے مطابق منی بجٹ آنے سے کھانے پینے کی ڈبہ بنداشیائے سمیت روز مرہ ضرورت کی بیشتر چیزیں مزید مہنگی ہوجائیں گی ۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ترمیمی فنانس بل کا مسودہ وزارت قانون کوبھجوا دیا ہے جبکہ وزارت قانون سے منظوری کے بعد فنانس بل کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیمی فنانس بل میں 350 ارب روپے کے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویزشامل ہے۔ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 600 ارب روپے سے کم کر کے 356ارب روپے مقرر کیا جائیگا جبکہ موبائل فون، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹمزپر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمدات کے سوا زیرو ریٹنگ سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لی جائے گی جبکہ جن اشیاء پر سیلز ٹیکس چھوٹ زائد ہے اس پر سیلز ٹیکس ریٹ 17 فیصد لاگو ہوگا۔اس کے علاوہ ترقیاتی پروگرام میں 200 ارب روپے کمی کرنے کی تجویز بھی ترمیمی بل کا حصہ ہے۔

ذرائع کے مطابق 800سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے اورلگژری گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کی تجویز ترمیمی بل کا حصہ ہے جبکہ کتوں اور بلیوں کے لیے درآمد خوراک پر ڈیوٹی بڑھانے یا اس پر پابندی کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈبوں میں پیک کھانے پینے کی اشیاء کی درآمد پر پابندی کی تجویز بھی ترمیمی بل میں شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایف ایم سے معاہدے کے تحت حکومت کو 12جنوری تک منی بجٹ منظور کرانا ہوگا۔