2022 کے آغاز پر پٹرول مہنگا

2022 کے آغاز پر پٹرول مہنگا،ایل پی جی،بجلی سستی

وفاقی حکومت نے 2022 کے آغازپر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3.95 روپے سے 4.15 روپے فی لیٹر تک اضافہ کرکے عوام کو نئے سال کا تحفہ دیا ہے جبکہ بجلی اورایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 140.82 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 144.82 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل 4 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل آئل 4.15 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3.95 روپے فی لیٹراضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر بڑھائی جانے والی قیمتوں کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل 137.62 روپے فی لیٹرسے بڑھاکر 141.62 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل آئل 109.53 روپے فی لیٹرسے بڑھا کر 113.53 روپے فی لیٹر اورمٹی کا تیل 107.06 روپے فی لیٹرسے بڑھا کر 111.06 روپے فی لیٹر کردیا گیا۔ نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی سستی کرنے کی منظوری دیدی جبکہ اوگرا نے بھی ایل پی جی کی قیمت کم کردی۔

یہ بھی پڑھیں:پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا فیصلہ مسترد

ترجمان نیپرا کے مطابق بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 99 پیسے کمی کی منظوری دی گئی ہے جو اپریل سے جون2021 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بجلی سستی کرنے کے فیصلے کا اطلاق وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ہوگا اور اس صورت میں صارفین کو 22 ارب روپے کا ریلیف مل سکے گا۔ ترجمان کیمطابق بجلی کی قیمت میں کمی کی منظوری کے الیکٹرک کے سوا تمام بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کیلئے ہے۔ فیصلہ نوٹیفکیشن کیلئے وفاقی حکومت کو بھجوادیا ۔ کمی کا اطلاق یکم دسمبر 2021 سے ہوگا ، نیپرا کے مذکورہ فیصلے سے صارفین کو 3 ماہ کیلئے ریلیف ملے گا۔ ادھراوگرا نے جنوری کیلئے ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 5 روپے 90 پیسے، گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 69 روپے 63 پیسے کمی کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جنوی کیلئے ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 2ہزار 320 روپے مقررکی گئی ہے جبکہ دسمبر میں ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت دو ہزار 390 روپے تھی۔

مزید پڑھیں:  سعودیہ کوپی آئی اےاورایئرپورٹس کی نجکاری میں جوائنٹ وینچرکی پیشکش

یہ بھی پڑھیں:1سال میں بجلی قیمت میں 18 روپے یونٹ اضافہ کیا گیا

دوسری طرف سال 2021 بھی گزر گیا اور اپنے پیچھے ہمارے لیے بہت سی خوشگوار اور افسوسناک یادیں بھی چھوڑ گیا جس کے نقش ہمارے ذہنوں میں موجود رہیں گے۔ یوں تو کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے سال2021 بھی دنیا کے لیے مشکل ترین سال ثابت ہوا، اس کے باوجود دنیا بھر میں بہت ایسے واقعات ہوئے جو تاریخی اہمیت رکھتے ہیں ۔ پاکستان کے لئے سال 2021 بھی ہنگامہ خیز ثابت ہوا۔ ملکی افق پرکئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی بازگشت بین الاقوامی میڈیا تک سنائی دی۔ پاکستان میں سال 2021 کا آغاز اسامہ ستی نامی بائیس سالہ نوجوان کے اسلام آباد پولیس کے ہاتھوں اندوہناک قتل سے ہوا۔ یہ معاملہ میڈیا پربہت زیادہ زیربحث رہا۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ عورت مارچ اس وقت تنازع اختیارکرگیا جب مارچ کے بعد چند پوسٹرز اور ویڈیوز سامنے آئیں جن پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی نور مقدم کو 20 جولائی کے روز قتل کر دیا گیا تھا یہ واقعہ بھی مہینوں میڈیامیں زیر بحث رہا۔ آئی ایس آئی چیف جنرل ندیم انجم کی تقرری بھی رواں سال پاکستان کے بڑے واقعات میں سےایک رہی۔ ہونا تواسے ایک معمول کی تقرری ہی چاہیے تھا لیکن وزیراعظم کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کرنے میں تین ہفتے کی تاخیر نے اسے کافی پیچیدہ سیاسی معاملہ بنا دیا تھا۔

مزید پڑھیں:  غزہ کے الشفا ہسپتال سے بڑی اجتماعی قبر دریافت

یہ بھی پڑھیں: ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 6 فیصدسےزیادہ ہو گئی

وزیر اعلیٰ بلوچستان میرجام کمال خان کا عہدے سے استعفیٰ بھی رواں سال کے بڑے واقعوں میں سے ایک ہے۔ ملک کے سیاسی افق پر تحریک لبیک بھی اس سال خوب چھائی رہی۔ تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیا گیا اور امیر سعد رضوی کو گرفتار بھی کرلیا گیا جس کے بعد ملک بھر میں تحریک لبیک کیجانب سے پر تشدد مظاہروں اور دھرنوں کا آغاز ہوا۔ بعدازاں مذاکرات کےنتیجے میں سعدرضوی رہا اورٹی ایل پی پر پابندی کا خاتمہ ہوا۔ سپریم کورٹ کیجانب سے کراچی میں کثیرالمنزلہ رہائشی عمارت کو ڈھانے کے فیصلے پربھی سیاست میں کافی گرما گرمی رہی ۔ سال آخر میں پاکستان کے سیاسی افق پر حق دو گوادر کو تحریک بھی نمایاں طور پر ابھری۔ سال کے اختتام پر ملکی افق پرانتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکن شہری کو توہین رسالت کا الزام لگا کر قتل کر دیا اورنعش کو آگ لگا دی۔ اس واقعے سے جہاں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تشخص مجروح ہوا وہیں ملکی سطح پر بھی قانون کی بے بسی اورعوام میں پنپتی جہالت اورتشدد پسندی سامنے آئی۔

سال کے اختتام پرخیبرپختونخوا میں بلدیاتی الیکشن میں حکمران جماعت کی شکست بھی اہم ترین واقعہ ہے۔ بین الاقوامی واقعات میں سب سے اہم واقعہ جس کی بین الاقوامی سطح پر تقریباً دوماہ تک کوریج جاری رہی وہ افغانستان میں طالبان کا اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔ اس کے علاوہ بھارت میں کورونا وائرس سے اتنی زیادہ تعداد میں اموات ہوئیں کہ شمشان گھاٹوں میں آخری رسومات کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑا جبکہ بعض مقامات پر قبرستانوں میں جگہ کم پڑ جانے کے باعث نعشوں کی اجتماعی تدفین کی گئی۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں کی جانب سے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی اور حملے کے بعد دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔