آڈیو لیکس

آڈیو لیکس سنجیدہ معاملہ ہے: وزیراعظم کا اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنانے کا اعلان

آڈیو لیکس میں کوئی غلط بات نہیں، مریم نواز نے اپنے داماد کے لیے کوئی رعایت یا سفارش نہیں مانگی، آڈیو لیکس میں کوئی غلط بات ہوئی تو قوم سے معافی مانگ لوں گا، وزیراعظم
ویب ڈیسک:اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آڈیو لیکس کو آپ سب نے سُنا اُس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے، مریم نواز کے داماد کی شوگر مل کے لیے بقیہ مشینیں بھارت سے منگوانے کی بات پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر توقیر نے کی اور کوئی لین دین کی بات نہیں کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے واضح کردیا تھا کہ یہ معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی میں جائے گا اور پھر منظوری کے بعد کابینہ میں پیش ہوگا، وزیراعظم نے کہا کہ مریم نواز اور ہمارے داماد کی آدھی مشینری بھارت سے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں آگئی تھی۔
شہباز شریف نے کہا کہ آج تک جتنے بھی سرکاری دورے کیے، 1997ء سے لے کر آج تک، تمام بیرونی دوروں کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے، یہ کوئی احسان کی بات نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی وزیر اعظم ہو، وہاں سیکیورٹی بریچ ہوجائے تو ایسے کون آئے گا؟ یہ وزیر اعظم ہاؤس کا نہیں ریاست پاکستان کی عزت کی بات ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے سوال کیا کہ عمران خان نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کرتے ہوئے ہم سے مشاورت کی تھی۔
اسحاق ڈار کی واپسی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ’مفتاح اسماعیل نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے اب آرام کرنے کی اجازت مانگی تھی جس پر ہم نے انہیں اجازت دی اور مستقبل میں اُن سے مزید کام لیں گے۔

مزید دیکھیں :   چیف سیکرٹری،آئی جی کی تعیناتی کے وفاقی اختیارپر اعتراض